ٹرمپ کی پالیسی،  اور امریکی زوال کی ابتدا

Home مقالے ٹرمپ کی پالیسی،  اور امریکی زوال کی ابتدا


ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی تاریخ کے ایک نازک موڑ پر ایسی پالیسیاں اختیار کیں جنہوں نے خود امریکہ کو ایک ایسی دلدل میں لا کھڑا کیا جہاں ہر راستہ نقصان پر منتج ہوتا ہے۔ ایران کے ساتھ جنگ میں داخل ہونا ہو یا پسپائی اختیار کرنا—دونوں صورتوں میں امریکہ اپنی عالمی حیثیت، ساکھ اور طاقت کے زوال کی طرف تیزی سے بڑھتا دکھائی دیتا ہے۔

ایران کے خلاف براہِ راست جنگ، امریکہ کے لیے محض ایک عسکری تصادم نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک خودکشی ہوگی۔ ایران نہ صرف خطے میں گہرے عوامی اور نظریاتی اثرات رکھتا ہے بلکہ ایک منظم مزاحمتی بلاک کا مرکز بھی ہے۔ ایسی جنگ پورے مغربی ایشیا کو شعلوں میں جھونک سکتی ہے، جہاں امریکی اڈے، اتحادی اور مفادات سب خطرے میں ہوں گے۔ اس جنگ کی قیمت امریکہ کو صرف ڈالرز میں نہیں بلکہ عالمی وقار، فوجی برتری اور اندرونی استحکام کی صورت میں بھی چکانا پڑے گی۔

دوسری طرف، اگر امریکہ موجودہ کشیدہ صورتحال سے پیچھے ہٹتا ہے تو یہ پسپائی محض ایک وقتی حکمتِ عملی نہیں ہوگی بلکہ ایک سپر پاور کے زوال کا علامتی اعلان سمجھی جائے گی۔ دنیا پہلے ہی افغانستان، عراق اور شام میں امریکی ناکامیوں کا مشاہدہ کر چکی ہے۔ ایران کے معاملے میں پسپائی، ان تمام شکستوں پر مہرِ تصدیق ہوگی اور یہ پیغام دے گی کہ امریکہ اب فیصلہ کن قوت نہیں رہا۔

اسی لیے بہت سے عالمی تجزیہ کار اس نتیجے پر پہنچ رہے ہیں کہ امریکہ کے پاس اب اچھا آپشن کوئی نہیں۔ جنگ تباہ کن ہے، اور پسپائی ذلت آمیز۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ سلطنتیں تلوار سے نہیں بلکہ فیصلوں کی کمزوری سے گرتی ہیں۔ امریکہ کی موجودہ قیادت نے جو سیاسی غرور، اقتصادی جبر اور عسکری دھونس کی پالیسی اپنائی، وہی آج اس کے گلے کا پھندا بنتی جا رہی ہے۔

ایران کا معاملہ محض ایک ملک کا نہیں، بلکہ مزاحمت، خودمختاری اور استکبار کے انکار کا استعارہ ہے۔ اگر امریکہ پیچھے ہٹتا ہے تو یہ دنیا بھر کے مظلوموں کے لیے ایک پیغام ہوگا کہ استکبار ناقابلِ شکست نہیں۔ اور اگر وہ جنگ میں کودتا ہے تو یہ اس کے زوال کو تیز کر دے گا۔

یوں ٹرمپ کی جارحانہ اور غیر مدبرانہ پالیسیاں امریکہ کو ایک ایسے موڑ پر لے آئی ہیں جہاں سے واپسی ممکن نہیں۔ تاریخ کے صفحات گواہ ہیں: جب طاقت انصاف سے خالی ہو جائے تو اس کا انجام زوال کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ آج کے حالات واضح اشارہ دے رہے ہیں کہ شاید ہم ایک نئی عالمی ترتیب اور ایک پرانی سلطنت کے اختتام کی ابتدا دیکھ رہے ہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published.