
پاکستان اس وقت جن داخلی اور خارجی چیلنجز سے گزر رہا ہے، اُن کے بیچ اگر افغانستان کی طالبان حکومت کی جانب سے براہِ راست فوجی یا منظم سرحدی حملہ ہوتا ہے تو یہ محض ایک سرحدی جھڑپ نہیں رہے گا بلکہ ریاستی، سفارتی اور سماجی سطح پر ایک ہمہ جہتی بحران کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ یہ مفروضہ اپنی نوعیت میں سنگین ہے، کیونکہ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات پہلے ہی اعتماد کے بحران، سرحدی کشیدگی اور غیر ریاستی عناصر کی موجودگی کے باعث حساس مرحلے میں داخل ہیں۔
سب سے پہلے داخلی سطح پر اس کے اثرات کو سمجھنا ہوگا۔ پاکستان اس وقت معاشی دباؤ، سیاسی تقسیم اور سیکیورٹی خدشات سے دوچار ہے۔ International Monetary Fund کے پروگرام کے تحت معاشی نظم و ضبط، ٹیکس اصلاحات اور توانائی شعبے کی سخت شرائط پہلے ہی عوامی بے چینی کو بڑھا چکی ہیں۔ ایسے میں اگر مغربی سرحد پر کھلا عسکری محاذ کھل جائے تو دفاعی اخراجات میں فوری اضافہ ناگزیر ہوگا، جس کا بوجھ بالآخر معیشت اور عوام دونوں پر پڑے گا۔ سرمایہ کاری رک سکتی ہے، اسٹاک مارکیٹ دباؤ میں آ سکتی ہے، اور روپے کی قدر مزید متاثر ہو سکتی ہے۔ جنگی فضا ہمیشہ معاشی عدم استحکام کو گہرا کرتی ہے۔
سیکیورٹی کے نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو پاکستان کی مسلح افواج ایک منظم اور پیشہ ور ادارہ ہیں، لیکن بیک وقت داخلی انسدادِ دہشت گردی آپریشنز اور بیرونی سرحدی جنگ کسی بھی ملک کے لیے دباؤ کا باعث بنتی ہے۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں پہلے سے موجود شورش اگر افغانستان کی ریاستی سطح کی مداخلت سے جڑ جائے تو صورتحال پیچیدہ ہو سکتی ہے۔ یہاں یہ نکتہ بھی اہم ہے کہ افغانستان کی موجودہ حکومت یعنی Islamic Emirate of Afghanistan عالمی سطح پر مکمل طور پر تسلیم شدہ نہیں، اس لیے کسی بھی براہِ راست حملے کی صورت میں بین الاقوامی ردِعمل کا زاویہ مختلف ہوگا۔ پاکستان اس معاملے کو فوری طور پر اقوام متحدہ اور علاقائی فورمز پر لے جائے گا تاکہ اسے خود دفاع کے حق کے طور پر پیش کیا جا سکے۔
علاقائی طاقتوں کا کردار اس بحران کو یا تو محدود رکھ سکتا ہے یا اسے وسیع تر جغرافیائی کشمکش میں بدل سکتا ہے۔ China پاکستان کا قریبی شراکت دار ہے اور سی پیک جیسے منصوبے خطے میں اس کے مفادات سے جڑے ہیں۔ چین خطے میں عدم استحکام نہیں چاہے گا، اس لیے وہ پسِ پردہ سفارتی دباؤ کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی کوشش کرے گا۔ دوسری طرف United States افغانستان سے انخلا کے بعد بھی خطے پر نظر رکھے ہوئے ہے؛ وہ کسی وسیع جنگ کو اپنے مفادات کے تناظر میں دیکھے گا اور ممکن ہے کہ سفارتی یا انٹیلی جنس سطح پر کردار ادا کرے۔ اسی طرح Shanghai Cooperation Organisation جیسے پلیٹ فارمز پر بھی علاقائی سلامتی کے سوالات شدت اختیار کریں گے۔
ایک اور پہلو نظریاتی اور سماجی ہے۔ اگر طالبان حکومت اور پاکستان کے درمیان کھلا تصادم ہوتا ہے تو یہ بیانیہ سازی کی جنگ بھی ہوگی۔ دونوں ممالک میں مذہبی و سیاسی حلقے اپنے اپنے مؤقف کو تقویت دیں گے۔ پاکستان کے اندر شدت پسند عناصر اس صورتحال کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں، جبکہ ریاست کو بیانیاتی سطح پر واضح کرنا ہوگا کہ یہ جنگ کسی مذہب یا قوم کے خلاف نہیں بلکہ ریاستی خودمختاری اور سرحدی تحفظ کا مسئلہ ہے۔ اگر بیانیہ کمزور ہوا تو داخلی تقسیم گہری ہو سکتی ہے۔
انسانی بحران کا خدشہ بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ماضی میں افغان مہاجرین کی بڑی تعداد پاکستان آئی۔ اگر جنگ کی شدت بڑھی تو سرحدی علاقوں میں نقل مکانی، مہاجرین کی نئی لہر، اور انسانی امداد کا دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ یہ صورتحال پہلے سے کمزور معیشت پر مزید بوجھ ڈالے گی اور سماجی ہم آہنگی کے مسائل کو جنم دے سکتی ہے۔
تاہم ایک اہم سوال یہ ہے کہ کیا افغانستان کی موجودہ حکومت کھلی جنگ کا خطرہ مول لے گی؟ افغانستان خود معاشی بحران، عالمی تنہائی اور داخلی چیلنجز سے دوچار ہے۔ ایسی صورت میں براہِ راست حملہ اس کے لیے بھی سفارتی تنہائی اور ممکنہ عالمی پابندیوں کا باعث بن سکتا ہے۔ اس لیے زیادہ امکان سرحدی جھڑپوں، محدود کارروائیوں یا پراکسی نوعیت کے دباؤ کا ہو سکتا ہے، نہ کہ مکمل روایتی جنگ کا۔
میری نظر میں پاکستان کے لیے سب سے دانشمندانہ راستہ یہ ہوگا کہ وہ ایک طرف اپنی دفاعی تیاری اور سرحدی نگرانی کو مؤثر بنائے، اور دوسری طرف سفارتی دروازے بند نہ کرے۔ جنگیں اکثر غلط فہمیوں، کمزور رابطوں اور شدت پسند بیانیوں سے جنم لیتی ہیں۔ اگر ریاستی سطح پر بیک چینل ڈپلومیسی، بارڈر مینجمنٹ میکانزم اور انٹیلی جنس تعاون کو مضبوط کیا جائے تو بڑے تصادم سے بچا جا سکتا ہے۔
یہ وقت جذباتی نعروں کا نہیں بلکہ حکمت، توازن اور قومی اتحاد کا ہے۔ پاکستان کو داخلی سیاسی تقسیم کم کر کے ایک متفقہ قومی سلامتی پالیسی کی ضرورت ہے۔ معاشی استحکام، سفارتی فعالیت اور مضبوط دفاعی تیاری یہ تینوں ستون اگر یکجا ہوں تو کوئی بھی بیرونی جارحیت دیرپا کامیابی حاصل نہیں کر سکتی۔ خطہ پہلے ہی عدم استحکام کا متحمل نہیں ہو سکتا؛ اس لیے جنگ کے امکانات کو سمجھنا ضروری ہے، مگر امن کے راستے تلاش کرنا اس سے بھی زیادہ ضروری ہے۔
Leave a Reply