یہ مزدوری کی غرض سے لکھا ہے۔

غلام حسین مغل
ایک طویل اور تھکا دینے والے سفر سے واپسی ہوئی تو جو کچھ دیکھ پایا اسے قلمبند کرنے کی سعی کی ہے ۔میرا ماننا ہے کہ آج کا معاشرہ یکسر بدل چکا ہے ۔یہ سوچ اب ہر کوئی سوچ رہا ہے کہ
ہم کس معاشرے کی طرف بڑھ رہے ہیں اور ہمیں کیسا معاشرہ تشکیل دینا ہے؟
قارئین کرام!!
کسی بھی معاشرے کی اصل پہچان اس کی بلند و بالا عمارتیں، کشادہ سڑکیں، جدید ٹیکنالوجی یا معاشی ترقی نہیں ہوتی بلکہ اس کے لوگوں کا کردار، باہمی رویے، برداشت، احساسِ ذمہ داری اور دوسروں کے حقوق کا احترام ہوتا ہے۔
معاشرہ دراصل افراد کے مجموعے کا نام ہے اور جب افراد کے رویوں میں مثبت تبدیلی آتی ہے تو معاشرہ بھی سنورتا ہے۔ اس کے برعکس جب جھوٹ، بداعتمادی، خود غرضی، عدم برداشت، بدزبانی، حق تلفی اور بے حسی معمول بنتے جائیں تو معاشرتی اقدار رفتہ رفتہ کمزور پڑنے لگتی ہیں۔
پاکستانی معاشرہ روایتی طور پر خاندانی وابستگی، مہمان نوازی، بزرگوں کے احترام، پڑوسیوں کا خیال رکھنے، مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دینے اور اجتماعی تعاون جیسی خوبصورت اقدار کے لیے جانا جاتا رہا ہے۔ لیکن بدلتے ہوئے حالات، معاشی دباؤ، تیز رفتار زندگی، سوشل میڈیا کے اثرات، مادہ پرستی اور انفرادی مفادات کی بڑھتی ہوئی ترجیح نے ان اقدار کو کئی حوالوں سے متاثر کیا ہے۔
قارئین کرام!
مسئلہ صرف یہ نہیں کہ معاشرتی اقدار کمزور ہو رہی ہیں اصل سوال یہ ہے کہ ہم ان کی جگہ کیا لے کر آ رہے ہیں؟
آج ہمارے معاشرے کا ایک بڑا مسئلہ دوسروں کے احترام میں کمی ہے۔ اختلافِ رائے کو ذاتی دشمنی سمجھ لیا جاتا ہے، گفتگو میں شائستگی کم ہوتی جا رہی ہے اور معمولی اختلاف بھی تلخ کلامی تک پہنچ جاتا ہے۔
سوشل میڈیا نے اظہارِ رائے کے مواقع تو بڑھا دیے لیکن بعض اوقات ذمہ داری کا احساس کم کر دیا ہے۔ کسی کی عزت، نجی زندگی یا جذبات کا خیال رکھے بغیر تبصرہ کرنا بہت ہی تیز اور آسان ہو گیا ہے۔
ایک صحت مند معاشرے میں اختلاف ضرور ہوتا ہے مگر اختلاف کے باوجود احترام باقی رہتا ہے۔ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ مختلف رائے رکھنا بدتمیزی کا لائسنس نہیں۔
خاندان کو معاشرتی تربیت کی پہلی درسگاہ کہتے ہیں۔
معاشرتی اقدار کی تعمیر گھر سے شروع ہوتی ہے۔ بچے کتابوں سے زیادہ اپنے والدین اور بڑوں کے رویوں سے سیکھتے ہیں۔ اگر گھر میں جھوٹ کو معمولی بات سمجھا جائے، ملازموں سے بدسلوکی ہو، بزرگوں کو بوجھ تصور کیا جائے یا اختلاف رائے کو گالی اور غصے سے حل کیا جائے تو بچے بھی انہی رویوں کو زندگی کا حصہ سمجھنے لگتے ہیں۔
ہمیں گھروں میں صرف یہ نہیں سکھانا کہ کامیاب کیسے ہونا ہے، بلکہ یہ بھی سکھانا ہوگا کہ اچھا انسان کیسے بننا ہے۔ بچوں کو سلام، شکر، معذرت، سچائی، وعدے کی پابندی، بڑوں کا احترام، چھوٹوں سے شفقت، صفائی، نظم و ضبط اور دوسروں کے حق کا خیال رکھنے کی عملی تربیت دینا ہوگی۔
ہمارے معاشرے میں بزرگ کبھی خاندان کا مرکز ہوا کرتے تھے۔ ان کا تجربہ، مشورہ اور دعائیں خاندان کے لیے سرمایہ سمجھی جاتی تھیں۔ آج مصروف زندگی، نسلوں کے درمیان بڑھتا ہوا فاصلہ اور بعض اوقات مادہ پرستانہ سوچ نے بزرگوں کو تنہائی کی طرف دھکیل دیا ہے۔شہر شہر اولڈ ہومز کیوں بڑھتے جارہے ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ بزرگوں کو محض ذمہ داری نہیں بلکہ خاندان کا قیمتی اثاثہ سمجھا جائے۔ ان کے ساتھ وقت گزارنا، ان کی بات سننا اور ان کی ضروریات کا خیال رکھنا ہماری اخلاقی ذمہ داری ہے۔
اسی طرح نئی نسل کو بھی محض تنقید کا نشانہ بنانے کے بجائے سمجھنے اور رہنمائی دینے کی ضرورت ہے۔ نوجوانوں کے سوالات، خوابوں اور مشکلات کو سننا ہوگا تاکہ نسلوں کے درمیان فاصلے کم ہوں۔
پڑوسی اور معاشرہ
معاشرتی زندگی صرف اپنے گھر تک محدود نہیں۔ پڑوسی کی بھوک، بیماری، پریشانی یا ضرورت سے بے خبر رہنا ایک ایسے معاشرے کی علامت ہے جہاں اجتماعی احساس کمزور ہو رہا ہو۔
قارئین کرام!
ہمیں دوبارہ یہ سوچ پیدا کرنا ہوگی کہ میری خوشی صرف میری نہیں اور میرے پڑوسی کی تکلیف بھی صرف اس کی نہیں۔ کسی بیمار کی عیادت، ضرورت مند کی مدد، مصیبت زدہ خاندان کا ساتھ، راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا اور کسی اجنبی کی مشکل آسان کرنا معاشرتی خوبصورتی کی علامتیں ہیں۔
کسی بھی معاشرے میں قانون اپنی جگہ ضروری ہے، لیکن ہر شخص کے ساتھ پولیس موجود نہیں ہو سکتی۔ اصل نظام اس وقت مضبوط ہوتا ہے جب انسان قانون کے خوف سے نہیں بلکہ ضمیر کی آواز پر درست کام کرے۔
جھوٹ، ملاوٹ، رشوت، دھوکا، ناپ تول میں کمی، جعلی دستاویزات، وعدہ خلافی اور دوسروں کے حق پر قبضہ صرف انفرادی برائیاں نہیں بلکہ اجتماعی نقصان کا سبب بنتی ہیں۔ اگر ہم ایک بہتر پاکستان چاہتے ہیں تو ہمیں یہ سوال دوسروں سے پہلے خود سے پوچھنا ہوگا:
کیا میں اپنے حصے کی دیانت داری ادا کر رہا ہوں؟
یہاں یہی دیکھنے میں آیا ہے کہ اصلاح ہمیشہ معاشرے کے دوسرے فرد سے شروع کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، حالانکہ حقیقی اصلاح کا آغاز اپنی ذات سے ہوتا ہے۔
ایک مہذب معاشرہ وہ نہیں جہاں ہر شخص دوسروں سے قانون کی پابندی کا مطالبہ کرے۔ بلکہ وہ ہے جہاں ہر شہری یہ سمجھے کہ میرے عمل سے کسی دوسرے انسان کو نقصان نہیں پہنچنا چاہیے۔آج کل سوشل میڈیا ہماری زندگی کا اہم حصہ بن چکا ہے۔ یہ علم، رابطے اور مثبت اظہار کا مؤثر ذریعہ بھی ہے، لیکن غیر ذمہ دارانہ استعمال معاشرتی انتشار پیدا کر سکتا ہے۔ بغیر تصدیق خبر آگے بڑھانا، کسی کی تضحیک کرنا، ذاتی تصاویر یا معلومات پھیلانا اور اختلاف رکھنے والوں کے خلاف نفرت انگیز زبان استعمال کرنا معاشرتی اقدار کو نقصان پہنچاتا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم شیئر کرنے سے پہلے سوچیں، تبصرہ کرنے سے پہلے سمجھیں اور اختلاف کرنے سے پہلے احترام کا دامن نہ چھوڑیں۔
نوجوانوں کو یہ احساس دلانا ضروری ہے کہ ملک کی تعمیر صرف سرکاری اداروں کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر شہری کا کردار اس میں شامل ہے۔
ہمارے معاشرے میں مذہب اور اخلاقیات کو بہت اہم مقام حاصل ہے، مگر اصل امتحان معلومات کا نہیں بلکہ عمل کا ہے۔ عبادات کے ساتھ معاملات کی درستگی، حقوق العباد، سچائی، انصاف، رحم، عفو و درگزر اور ضرورت مندوں کی مدد بھی ہماری اجتماعی زندگی کا حصہ ہونی چاہیے۔
اگر ہم ایک ایسا پاکستان چاہتے ہیں جہاں عام انسان کی عزت، قانون کی بالادستی، سچائی، انصاف، برداشت، خدمت اور احساسِ ذمہ داری بنیادی اقدار ہوں تو اس تبدیلی کا انتظار کسی اور سے نہیں کرنا چاہیے۔
اصلاح کا پہلا قدم ہمیشہ اپنی ذات سے اٹھتا ہے۔اور ایک بہتر معاشرہ دراصل بہتر انسانوں سے تشکیل پاتا ہے۔سفر کی تھکاوٹ اور رویوں کو میں نے درج بالا سطریں لکھ کر اپنا بوجھ ہلکا کر لیا ہے آپ سب بھی مٹتی ہوئی اقدار کو بچانے کے لیے اپنے حصے کا چراغ ضرور روشن کریں ۔
Leave a Reply