ڈونلڈ ٹرمپ کے دورِ صدارت میں مشرقِ وسطیٰ کی سیاست ایک نئے مرحلے میں داخل ہوئی، جب انہوں نے عرب ممالک اور اسرائیل کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام، تجارت و سیاحت کے فروغ، سیکیورٹی تعاون میں اضافے، اور ایران کے بڑھتے اثر و رسوخ کے مقابلے کے لیے ایک نیا علاقائی اتحاد بنانے کی پالیسی اپنائی۔ اس حکمتِ عملی کا نمایاں مظہر Donald Trump کے دور میں طے پانے والے Abraham Accords تھے، جن کے تحت United Arab Emirates اور Bahrain نے Israel کے ساتھ تعلقات معمول پر لائے، بعد ازاں Sudan اور Morocco بھی اس عمل میں شامل ہوئے۔
ٹرمپ کو کیا فائدہ ہوا؟
اولاً، یہ معاہدے ٹرمپ کے لیے ایک بڑی سفارتی کامیابی کے طور پر پیش کیے گئے۔ مشرقِ وسطیٰ طویل عرصے سے تنازعات کا مرکز رہا ہے، اس لیے اسرائیل اور عرب ممالک کے درمیان تعلقات کی بحالی کو ایک تاریخی پیش رفت قرار دیا گیا۔ اس سے ٹرمپ کو داخلی سیاست میں بھی فائدہ ملا، خصوصاً اُن حلقوں میں جو اسرائیل کی مضبوط حمایت کرتے ہیں۔
ثانیاً، امریکہ کو اس عمل سے معاشی فوائد حاصل ہوئے۔ دفاعی معاہدے، اسلحہ کی فروخت، اور ٹیکنالوجی تعاون کے نئے دروازے کھلے۔ خلیجی ممالک کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری مضبوط ہوئی، جس سے امریکی اسلحہ ساز کمپنیوں اور سرمایہ کاروں کو فائدہ پہنچا۔
ثالثاً، ایران کے خلاف ایک علاقائی بلاک کی تشکیل امریکی خارجہ پالیسی کا مرکزی ہدف تھا۔ اسرائیل اور بعض عرب ممالک کو ایک پلیٹ فارم پر لا کر امریکہ نے ایران کو سفارتی اور عسکری طور پر گھیرنے کی کوشش کی، جو واشنگٹن کی طویل المدتی حکمتِ عملی کا حصہ رہی ہے۔
عالمِ اسلام کے ممکنہ نقصانات
تاہم اس پالیسی کے اثرات کو عالمِ اسلام کے تناظر میں دیکھا جائے تو کئی خدشات سامنے آتے ہیں
سب سے بڑا مسئلہ فلسطین کا ہے۔ کئی ناقدین کے مطابق ان معاہدوں نے فلسطینی کاز کو پس منظر میں دھکیل دیا۔ عرب ممالک کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے سے فلسطینیوں کی سفارتی پوزیشن کمزور ہوئی اور مسئلہ فلسطین کے حل کے لیے مشترکہ عرب مؤقف میں دراڑ پڑی۔
دوسرا نقصان مسلم دنیا کے اندر تقسیم کی صورت میں سامنے آیا۔ کچھ ممالک نے اس عمل کی حمایت کی، جبکہ دیگر نے اسے امت کے اتحاد کے خلاف قرار دیا۔ اس تقسیم نے پہلے سے موجود سیاسی و مسلکی اختلافات کو مزید گہرا کیا۔
تیسرا پہلو سیکیورٹی کا ہے۔ ایران کے خلاف اتحاد بنانے کی کوشش نے خطے میں طاقت کے توازن کو مزید حساس بنا دیا۔ اس کے نتیجے میں پراکسی جنگوں، سفارتی کشیدگی اور اسلحہ کی دوڑ میں اضافہ ہوا، جس کا بوجھ بالآخر خطے کے عوام پر پڑتا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسی نے امریکہ اور اسرائیل کے لیے قلیل مدتی سفارتی و معاشی فوائد ضرور پیدا کیے اور کچھ عرب ریاستوں کو بھی اسٹریٹجک مواقع فراہم کیے، لیکن اس کے ساتھ ہی اس نے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کو ایک نئے دھڑے بندی کے دور میں داخل کر دیا۔ عالمِ اسلام کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ وہ اپنے داخلی اختلافات سے بالا تر ہو کر ایک متوازن اور خود مختار خارجہ پالیسی تشکیل دے، تاکہ خطے میں پائیدار امن اور انصاف پر مبنی حل کی راہ ہموار ہو سکے۔

Leave a Reply