
دنیا کی سیاست میں ایک دلچسپ تضاد بار بار سامنے آتا ہے۔ کچھ ممالک کو میڈیا میں اس انداز سے پیش کیا جاتا ہے کہ گویا وہاں انسانی آزادی کا کوئی تصور ہی موجود نہیں، جبکہ حقیقت اس سے بالکل مختلف ہوتی ہے۔ ایران اس کی ایک نمایاں مثال ہے۔ خاص طور پر ایرانی خواتین کے حوالے سے مغربی میڈیا میں جو تصویر پیش کی جاتی ہے، وہ اکثر زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتی۔
مغربی ذرائع ابلاغ میں اکثر یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ ایران میں خواتین کو بنیادی حقوق حاصل نہیں، انہیں تعلیم، سیاست یا سائنسی میدان میں آگے بڑھنے کی اجازت نہیں۔ لیکن جب ہم اعداد و شمار اور عملی مثالوں کو دیکھتے ہیں تو ایک بالکل مختلف تصویر سامنے آتی ہے۔
ایران کی سرکاری ترجمان فاطمہ مہاجرانی اس کی ایک واضح مثال ہیں، جو گزشتہ دو برس سے زیادہ عرصے سے ایرانی حکومت کی ترجمان کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں۔ ایک ایسے ملک میں جہاں حکومت کے حساس ترین معاملات پر عالمی سطح پر مؤقف پیش کرنا ہوتا ہے، وہاں ایک خاتون کا یہ کردار اس بات کی دلیل ہے کہ خواتین کو ریاستی سطح پر اہم ذمہ داریاں سونپی جاتی ہیں
اسی طرح ایران کی سیاست میں خواتین کی شرکت بھی قابلِ ذکر ہے۔ شینا انصاری اور زہرہ بہروز آذر جیسی خواتین ملک کی نائب صدر کے عہدوں پر فائز ہیں۔ یہ حقیقت اس تصور کی نفی کرتی ہے کہ ایرانی خواتین کو ریاستی اداروں میں فیصلہ سازی کے مواقع نہیں ملتے۔
اگر ہم تعلیم اور سائنس کے میدان کو دیکھیں تو صورتحال اور بھی حیران کن نظر آتی ہے۔ ایران کے جوہری سائنسدانوں میں تقریباً 40 فیصد خواتین شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ایران کے مجموعی سائنسدانوں میں تقریباً 70 فیصد خواتین ہونے کا دعویٰ بھی کیا جاتا ہے، جو دنیا کے کئی ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں ایک غیر معمولی تناسب سمجھا جاتا ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ایرانی خواتین نہ صرف تعلیم حاصل کر رہی ہیں بلکہ تحقیق اور سائنسی ترقی میں بھی نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں۔
تعلیم کے شعبے میں بھی ایران نے نمایاں کامیابی حاصل کی ہے۔ ایرانی خواتین میں شرحِ خواندگی تقریباً 99 فیصد بتائی جاتی ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ خواتین کی تعلیم کو ریاستی پالیسی میں بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران کی جامعات میں طالبات کی تعداد اکثر طلبہ سے زیادہ دیکھی جاتی ہے۔
ایران میں خواتین صرف تعلیم اور سیاست تک محدود نہیں بلکہ طب، انجینئرنگ، میڈیا، کاروبار اور سماجی خدمات کے شعبوں میں بھی فعال ہیں۔ ہزاروں خواتین ڈاکٹر، پروفیسر، انجینئر اور محقق کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں۔ ایرانی معاشرے میں خواتین کو ماں، استاد اور سماجی رہنما کے طور پر عزت و احترام دیا جاتا ہے، اور ریاستی سطح پر انہیں مختلف شعبوں میں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ تمام حقائق موجود ہیں تو پھر مغربی میڈیا میں ایران کی عورت کو ہمیشہ مظلوم اور مجبور کیوں دکھایا جاتا ہے؟ اس کا جواب زیادہ تر سیاسی بیانیے میں پوشیدہ ہے۔ عالمی سیاست میں بعض اوقات کسی ملک کے خلاف رائے عامہ ہموار کرنے کے لیے سماجی مسائل کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔ خواتین کے حقوق کا مسئلہ بھی کئی مرتبہ اسی سیاسی بیانیے کا حصہ بن جاتا ہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایران یا کسی بھی دوسرے معاشرے میں مسائل موجود نہیں۔ ہر معاشرہ اپنی مخصوص سماجی اور ثقافتی پیچیدگیوں کے ساتھ ترقی کے مراحل سے گزرتا ہے۔ لیکن کسی بھی ملک کی تصویر کو یکطرفہ انداز میں پیش کرنا حقیقت کے ساتھ انصاف نہیں ہوتا۔
ایران کی خواتین کی مثال ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ کسی بھی معاشرے کو سمجھنے کے لیے محض میڈیا کی سرخیوں پر انحصار کافی نہیں ہوتا۔ اصل حقیقت جاننے کے لیے اعداد و شمار، زمینی حقائق اور مختلف پہلوؤں کو دیکھنا ضروری ہوتا ہے۔
آج ایران کی خواتین تعلیم، سائنس، سیاست اور سماجی خدمات کے میدان میں جس اعتماد کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہیں، وہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایرانی معاشرہ خواتین کی صلاحیتوں کو تسلیم کرتا ہے اور انہیں قومی ترقی کا اہم حصہ سمجھتا ہے۔
یوں کہا جا سکتا ہے کہ ایران کی عورت محض ایک سماجی کردار نہیں بلکہ علم، تحقیق، سیاست اور معاشرتی تعمیر کا ایک طاقتور ستون بن چکی ہے۔ اور شاید یہی وہ حقیقت ہے جسے دنیا کو زیادہ متوازن انداز میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔
Leave a Reply