مبلغ غدیر بنیں

عیدِ غدیر ۔۔ محبت، اخوت اور ولایت کے پیغام کو عام کرنے کا عہد

تحریر: سیدہ نصرت نقوی

عیدِ غدیر محض ایک تاریخی دن نہیں بلکہ محبت، ولایت، اخوت، وحدت اور انسانیت کے عظیم پیغام کا نام ہے۔ یہ وہ مبارک دن ہے جب میدانِ غدیر میں رسولِ اکرم ﷺ نے حضرت علیؑ کی ولایت کا اعلان فرما کر امت کو ہدایت و رہنمائی کا چراغ عطا کیا۔ غدیر ہمیں صرف جشن منانے کا درس نہیں دیتا بلکہ یہ سکھاتا ہے کہ ہم اپنے کردار، اخلاق، محبت، خدمت اور رویّوں کے ذریعے اس پیغام کو معاشرے تک پہنچائیں۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سب “مبلغِ غدیر” بنیں۔ تبلیغ صرف منبر و محراب تک محدود نہیں بلکہ ہر انسان اپنے دائرۂ زندگی میں رہتے ہوئے غدیر کا پیغام عام کرسکتا ہے۔ ایک طالبِ علم، ایک ماں، ایک باپ، ایک استاد، ایک دکاندار، ایک ڈرائیور، ایک پڑوسی، حتیٰ کہ ایک مسکراہٹ بانٹنے والا انسان بھی غدیر کا مبلغ بن سکتا ہے۔

ایک طالبِ علم اگر اپنے دوستوں میں چاکلیٹ تقسیم کرے، کلاس روم کو سجائے، دیواری پوسٹر بنائے، تقریر یا تلاوت کرے یا غدیر کے موضوع پر انٹرویو دے، تو وہ بھی غدیر کے پیغام کو زندہ کر رہا ہوتا ہے۔ اسی طرح ایک استاد اگر اپنی کلاس میں غدیر کے حوالے سے مقابلے کروائے یا پروفیسر اپنی لیکچر کا کچھ حصہ غدیر کے لیے مخصوص کرے تو نئی نسل کے دلوں میں ولایت کی محبت جاگزیں ہوسکتی ہے۔

گھر کا ماحول بھی غدیر کی خوشبو سے معطر کیا جاسکتا ہے۔ ایک ماں اپنے بچوں کے لیے پسندیدہ کھانا تیار کرکے، نئے لباس سجا کر، منقبتیں سنا کر، یا ان کی غلطیوں کو معاف کرکے غدیر کا عملی درس دے سکتی ہے۔ ایک باپ تحائف دے کر، اپنے اہلِ خانہ کے لیے خوشیوں کا اہتمام کرکے اور محبت کا ماحول پیدا کرکے مبلغِ غدیر بن سکتا ہے۔ دادی اور دادا اپنی نسلوں کو غدیری کہانیاں، دعائیں اور محبت کا پیغام دے کر اس عظیم امانت کو آگے منتقل کرسکتے ہیں۔

معاشرے کا ہر فرد بھی اس کارِ خیر میں شریک ہوسکتا ہے۔ ایک دکاندار اگر غدیر کے دن خصوصی رعایت دے، کوئی شخص اپنے پڑوسیوں میں مٹھائی تقسیم کرے، اپنی گاڑی یا گھر کو سجائے، بیماروں کی عیادت کرے، محلے کی صفائی کرے یا دوسروں کو مبارکباد دے، تو یہ سب غدیر کی تبلیغ کی خوبصورت صورتیں ہیں۔

مساجد، ادارے، اسکول اور تنظیمیں بھی غدیر کے پیغام کو عام کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔ اگر کسی ادارے میں جشنِ غدیر کی تقریب منعقد کی جائے، بزرگوں کی عیادت کی جائے، سادات کی خدمت کی جائے، یا صلواتی اسٹال قائم کیے جائیں تو اس سے محبتِ اہلِ بیتؑ کا پیغام معاشرے میں مزید مضبوط ہوگا۔

حقیقت یہ ہے کہ غدیر صرف ایک عقیدے کا نام نہیں بلکہ انسانیت، بھائی چارے، عدل، وفا اور محبت کا پیغام ہے۔ آج کے دور میں جبکہ معاشرہ نفرت، تقسیم اور بے حسی کا شکار ہے، غدیر ہمیں ایک دوسرے کے قریب لانے، دل جوڑنے اور اخلاقی اقدار کو زندہ کرنے کی دعوت دیتا ہے۔

ہمیں چاہیے کہ اس عیدِ غدیر پر ہم اپنے گھروں، محلوں، اداروں اور محفلوں کو محبتِ علیؑ سے روشن کریں۔ اپنے رویّوں میں نرمی، اپنے الفاظ میں محبت، اپنی محفلوں میں اخوت اور اپنے کردار میں انسانیت پیدا کریں۔ کیونکہ غدیر صرف سنانے کی چیز نہیں، اپنانے کا پیغام ہے۔

آئیے! اس سال ہم سب یہ عہد کریں کہ ہم جہاں بھی ہوں، جیسے بھی ہوں، اپنے انداز میں “مبلغِ غدیر” بنیں گے۔
ایک مسکراہٹ سے…
ایک تحفے سے…
ایک اچھے لفظ سے…
ایک محبت بھرے رویّے سے…
اور ولایت کے پیغام کو دل سے دل تک پہنچائیں گے۔

کیونکہ اچھی بات کو آگے پہنچانا صدقۂ جاریہ ہے، اور غدیر کی تبلیغ تو وہ سعادت ہے جو دلوں کو نور اور معاشرے کو محبت عطا کرتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.