
🔹 حق کے مقصد تک پہنچنے کے لیے حق کے وسیلے ہی کا استعمال ضروری ہے۔
اس بات کا مفہوم یہ ہے کہ اگر مجھے معلوم ہو کہ میں ایک غلط بات، ایک جھوٹ، یا کوئی ایسی ضعیف حدیث — جس کے جھوٹا ہونے کا مجھے یقین ہے — بیان کردوں، تو اسی رات آپ سب گناہگار توبہ کر لیں گے اور تہجد گزار بن جائیں گے؛ تب بھی اسلام مجھے ایسی اجازت نہیں دیتا۔
🔹 کیا اسلام یہ اجازت دیتا ہے کہ ہم جھوٹ بولیں تاکہ لوگ امام حسینؑ پر گریہ کریں؟
وہ سننے والا تو نہیں جانتا کہ یہ بات جھوٹ ہے، اور امام حسینؑ پر گریہ کرنے کا ثواب بھی یقینی ہے — مگر کیا اسلام اس مقصد کے لیے جھوٹ کی اجازت دیتا ہے؟ ہرگز نہیں۔
🔹 اسلام کو ان جھوٹوں کی کوئی ضرورت نہیں۔
حق کو باطل کے ساتھ ملانا دراصل حق کو مٹا دیتا ہے۔
جب انسان حق کو باطل کے ساتھ جوڑ دیتا ہے تو حق قائم نہیں رہتا، بلکہ خود ہی ختم ہو جاتا ہے۔ حق کو باطل کے ساتھ رہنے کی تاب نہیں!
🔹 دین کو مختلف پہلوؤں سے جو نقصان پہنچا ہے، ان میں سے ایک بڑی وجہ یہی ہے کہ ہم نے اس اصول کو فراموش کر دیا:
جس طرح ہمارا مقصد مقدس ہونا چاہیے، اسی طرح اس مقصد کے لیے اختیار کیے گئے ذرائع بھی مقدس ہونے چاہییں۔
🔹 ہمیں نہ جھوٹ بولنا چاہیے، نہ غیبت کرنی چاہیے، نہ تہمت لگانی چاہیے۔
اور یہ بات صرف اپنی ذات کے لیے نہیں، بلکہ دین کے نام پر بھی نہیں۔
یعنی دین کے فائدے کے لیے بھی ہمیں بے دینی نہیں کرنی چاہیے۔
🔹 جھوٹ بولنا بے دینی ہے۔
پس دین کے نام پر جھوٹ بولنا، دین کے فائدے کے لیے بے دینی کرنا ہے۔
دین کے نام پر تہمت لگانا، دین کے فائدے کے لیے بے دینی کرنا ہے۔
دین کے نام پر غیبت کرنا بھی دین کے فائدے کے لیے بے دینی کرنا ہے۔
🔹 دین ہرگز اجازت نہیں دیتا کہ ہم اس کے مفاد کے لیے بھی بے دینی کریں۔
قرآن میں فرمایا گیا ہے:
«اُدْعُ إِلى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ»
(اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور نیک نصیحت کے ساتھ دعوت دو۔)
دیکھو، پیغمبر اکرم ﷺ کی تبلیغی روش کیسی تھی!
انہوں نے اسلام کو حکمت، اخلاق، صداقت، اور روشنی کے ذریعے پھیلایا —
نہ کہ فریب، جھوٹ یا مبالغے کے ذریعے۔
📚 — شہید مطہریؒ
Leave a Reply