امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز پر ایران کا مکمل کنٹرول نہیں اور بین الاقوامی جہاز رانی صرف ایران کی مقرر کردہ گزرگاہوں تک محدود نہیں۔ مکمل رپورٹ پڑھیں۔
رپورٹ: نوائے نصرت
امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے آبنائے ہرمز سے متعلق ایک اہم بیان جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ یہ کہنا درست نہیں کہ بین الاقوامی بحری جہاز صرف ایران کی مقرر کردہ گزرگاہوں سے ہی گزر سکتے ہیں۔
سینٹکام کے مطابق آبنائے ہرمز ایک اہم بین الاقوامی آبی گزرگاہ ہے اور ایران اس پر مکمل کنٹرول نہیں رکھتا۔ امریکی مؤقف کے مطابق عالمی بحری قوانین کے تحت بین الاقوامی جہاز رانی کے اپنے اصول موجود ہیں، جن کے مطابق اس حساس سمندری راستے سے مختلف ممالک کے تجارتی اور بحری جہاز آمدورفت کرتے ہیں۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی، بحری سلامتی اور عالمی توانائی کی ترسیل سے متعلق خدشات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی تیل کی بڑی مقدار روزانہ مختلف ممالک کو منتقل کی جاتی ہے۔
دوسری جانب ایران ماضی میں متعدد بار اس مؤقف کا اظہار کر چکا ہے کہ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز کی علاقائی سلامتی میں اس کا بنیادی کردار ہے۔ اس حوالے سے مختلف ممالک کے مؤقف میں اختلاف برقرار ہے۔

Leave a Reply