بِٹ کوائن کی قیمت اس وقت 80 ہزار ڈالر سے اوپر مستحکم ہے، تاہم مارکیٹ میں منافع خوری کے دباؤ کے باعث یہ تاحال 85 ہزار سے 90 ہزار ڈالر کی حد عبور نہیں کر سکا۔ ماہرین کے مطابق اس صورتحال کی بڑی وجہ وہ سرمایہ کار ہیں جنہوں نے کم قیمت پر خریداری کی تھی اور اب منافع حاصل کرنے کے لیے فروخت کر رہے ہیں۔
حالیہ دنوں میں عالمی مالیاتی منڈیوں میں نسبتاً استحکام، کرپٹو کرنسی ETFs میں سرمایہ کاری، اور بڑی کمپنیوں کی جانب سے مسلسل خریداری نے بِٹ کوائن کو سہارا دیا ہے۔ اس کے باوجود مارکیٹ میں ابھی تک ایسا مضبوط مثبت محرک موجود نہیں جو قیمت کو نئی بلند سطح تک لے جا سکے۔ اسی لیے امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آنے والے عرصے میں بِٹ کوائن 75 ہزار سے 85 ہزار ڈالر کے درمیان اتار چڑھاؤ کا شکار رہے گا۔
رپورٹ کے مطابق توانائی اور تیل کی قیمتیں اب بِٹ کوائن کی قیمت پر براہِ راست اثر انداز ہو رہی ہیں، کیونکہ بِٹ کوائن مائننگ کے لیے بھاری مقدار میں بجلی درکار ہوتی ہے۔ جب توانائی مہنگی ہوتی ہے تو مائننگ کی لاگت بڑھ جاتی ہے، جس سے بعض مائنرز اپنی سرگرمیاں محدود یا عارضی طور پر بند کر دیتے ہیں۔ اس کا نتیجہ مارکیٹ میں سپلائی کی کمی کی صورت میں نکلتا ہے، جو بعد میں قیمتوں میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔
اس وقت بِٹ کوائن مائننگ کی اوسط لاگت تقریباً 70 ہزار ڈالر بتائی جا رہی ہے، جسے مارکیٹ میں ایک اہم بنیاد تصور کیا جا رہا ہے۔ اگر قیمت طویل عرصے تک اس سطح سے نیچے رہے تو مائنرز کے لیے کام جاری رکھنا مشکل ہو جاتا ہے، جس کے باعث سپلائی کم ہو جاتی ہے اور بعد ازاں قیمت دوبارہ اوپر آنے لگتی ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبے کی تیز رفتار ترقی نے بھی کرپٹو مائننگ سیکٹر پر دباؤ بڑھایا ہے۔ کئی کمپنیاں اب بِٹ کوائن مائننگ کے بجائے AI ڈیٹا سینٹرز اور انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کو ترجیح دے رہی ہیں، کیونکہ وہاں زیادہ منافع کے امکانات موجود ہیں۔ چونکہ دونوں شعبوں میں استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی اور ہارڈویئر کافی حد تک ایک جیسے ہیں، اس لیے سرمایہ کاری کا رخ تبدیل ہو رہا ہے۔
ایتھیریم کے حوالے سے کہا گیا کہ اگرچہ اس میں تکنیکی سطح پر بڑی تبدیلیاں آئی ہیں اور یہ روایتی مائننگ سے “پروف آف اسٹیک” نظام پر منتقل ہو چکا ہے، لیکن اس کی قیمت اب بھی زیادہ تر بِٹ کوائن کی حرکت کے تابع رہتی ہے۔ مارکیٹ میں جب بِٹ کوائن اوپر یا نیچے جاتا ہے تو ایتھیریم اور دیگر ڈیجیٹل کرنسیاں بھی اسی سمت حرکت کرتی ہیں، بلکہ بعض اوقات زیادہ شدت سے ردِعمل ظاہر کرتی ہیں۔
مجموعی طور پر کرپٹو کرنسی مارکیٹ اس وقت محتاط انداز میں آگے بڑھ رہی ہے، جہاں سرمایہ کار عالمی معاشی حالات، توانائی کی قیمتوں، اور نئی سرمایہ کاری کی خبروں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

Leave a Reply