تحریر و ترتیب :سیدہ نصرت نقوی
ایران عالمی معیشت کو دباؤ میں لا رہا ہے اور امریکہ مشکل میں ہے اور یہ مشکل اس نے اسرائیل کے کہنے میں آکر خود اپنے گلے میں ڈالی ہے۔ اس وقت امریکہ اور ایران کے درمیان ایک طویل اور تھکا دینے والی جنگ (war of attrition) جاری ہے۔ امریکہ کی کوشش ہے کہ ایران کی فوجی طاقت کو آہستہ آہستہ کمزور کیا جائے، جبکہ ایران عالمی معیشت پر دباؤ ڈالنے کی حکمتِ عملی اختیار کیے ہوئے ہے۔اور یہ جنگ نا ہی صرف جنگی ہتھیاروں بلکہ نفسیاتی حربوں سے بھی مزین ہے۔ ایران خاص طور پر خلیجی تعاون کونسل (GCC) کے ممالک پر دباؤ بڑھا رہا ہے۔اگر یہ صورتحال جاری رہی تو آخرکار امریکہ کو زمینی افواج بھیجنے کے بارے میں سوچنا پڑ سکتا ہے۔ لیکن اگر امریکہ ایران میں زمینی فوج بھیج دیتا ہے تو پھر واپسی کا راستہ تقریباً بند ہو جائے گا۔ ایسی صورت میں یہ امریکہ کے لیے ایک اور ویتنام جیسی جنگ بن سکتی ہے، کیونکہ ایران جغرافیائی لحاظ سے ایک قدرتی قلعے کی طرح ہے۔ پہاڑی، مشکل اور دفاع کے لیے موزوں ملک ہے اور اس سے بھی زیادہ وہاں کی قوم کا خدا اور ائمہ پہ اعتقاد انہیں ہر جنگ سے نبرد آزما ہونے کی ہمت و حوصلہ عطا کرتا ہے۔ ایرانی قوم جنگجو ہے۔
اس وقت امریکہ کے پاس نہ اتنی افرادی قوت ہے، نہ صنعتی پیداوار، نہ صلاحیت، اور نہ ہی وہ سیاسی عزم کہ وہ ایران کے خلاف طویل زمینی جنگ لڑ سکے۔
اگر ڈونلڈ ٹرمپ زمینی فوج بھیجنے سے گریز کرتا ہے تو اس کے پاس چند دوسرے راستے موجود ہیں۔ ایک راستہ یہ ہو سکتا ہے کہ وہ جنگ کو ختم کرنے کے لیے فتح کا اعلان کر دے اور پیچھے ہٹ جائے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اس صورت میں بھی امریکی فوجی اڈے خطرے میں رہیں گے، خلیجی ممالک کی معیشتیں دباؤ میں رہیں گی، اور آبنائے ہرمز بند رہنے کا خطرہ برقرار رہے گا۔ ایران کو لگتا ہے کہ اس کے پاس اس جنگ میں برتری ہے کیونکہ اس کے پاس سیاسی عزم بھی ہے اور وسائل بھی کہ وہ اس جنگ کو طویل عرصے تک جاری رکھ سکے۔ فرض کریں کہ امریکہ مشرقِ وسطیٰ سے اپنی افواج واپس بلا لیتا ہے۔ ایسی صورت میں خلیجی ممالک جیسے سعودی عرب، قطر، کویت اور متحدہ عرب امارات کو ایران کے ساتھ کسی نہ کسی طرح سمجھوتہ کرنا پڑے گا۔ کیونکہ دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل آبنائے ہرمز سے ہوتی ہے۔ دوسری طرف خلیجی ممالک اپنی خوراک کا تقریباً 80 سے 90 فیصد حصہ بیرونِ ملک سے درآمد کرتے ہیں۔ اس لیے اگر توانائی کی ترسیل متاثر ہوتی ہے تو اس کا اثر عالمی معیشت کے ساتھ ساتھ ان ممالک پر بھی پڑے گا۔
اگر یہ صورتحال جاری رہی تو عالمی مالیاتی نظام میں بھی تبدیلی آ سکتی ہے۔ موجودہ پیٹرو ڈالر سسٹم کمزور ہو سکتا ہے اور اس کی جگہ کوئی نیا نظام سامنے آ سکتا ہے جیسے BRICS یا سونے پر مبنی مالیاتی نظام۔ امریکی معیشت کا ایک اہم حصہ خلیجی سرمایہ کاری پر بھی انحصار کرتا ہے، خاص طور پر ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور اسٹارٹ اپ کمپنیوں میں سرمایہ کاری۔ اگر یہ سرمایہ کاری رک جاتی ہے تو امریکی معیشت کو شدید جھٹکا لگ سکتا ہے اور داخلی معاشی بحران پیدا ہو سکتا ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش عالمی معیشت کے لیے بہت بڑا مسئلہ ہے کیونکہ سستی توانائی جدید عالمی معیشت کی بنیاد ہے۔
یہ صرف ایندھن کا مسئلہ نہیں بلکہ خوراک، کھاد، صنعتی پیداوار اور ٹیکنالوجی کی سپلائی چین بھی اس سے متاثر ہوتی ہے۔
صرف دو ہفتوں میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر جا چکی ہیں۔ اگر یہ صورتحال مزید جاری رہی تو عالمی معیشت کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے اور ممالک کو اپنی معاشی پالیسیوں میں بڑی تبدیلیاں لانی پڑ سکتی ہیں۔ خلیجی ممالک کی ساخت بھی غیر معمولی ہے۔ یہ ریاستیں بنیادی طور پر تیل کی دولت، سمندری پانی کو میٹھا بنانے کے پلانٹس اور امریکی فوجی تحفظ پر قائم ہیں۔ ان کے پاس نہ قدرتی پانی کے بڑے ذخائر ہیں، نہ خوراک کی خود کفالت، نہ مضبوط جغرافیائی دفاعی رکاوٹیں، اور کئی جگہ آبادی بھی بڑی حد تک غیر ملکیوں پر مشتمل ہے۔ مثال کے طور پر دبئی میں تقریباً 90 فیصد آبادی غیر ملکیوں پر مشتمل ہے۔
کئی سالوں تک دبئی نے خود کو مشرقِ وسطیٰ کا نیا لندن یا نیا ہانگ کانگ بنانے کی کوشش کی، جہاں امیر لوگ ٹیکس فری ماحول اور پرتعیش طرزِ زندگی کے لیے آتے ہیں۔ لیکن یہ سارا ماڈل اس مفروضے پر قائم تھا کہ امریکہ خطے میں اپنی طاقت کے ذریعے امن اور استحکام برقرار رکھے گا۔ اب اگر امریکی طاقت کا وہ تصور ٹوٹ جاتا ہے تو اس کا اثر صرف اسرائیل یا خلیجی ممالک تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پورے امریکی اور عالمی نظام پر بھی پڑ سکتا ہے۔ اس جنگ میں ایک نظریاتی اور مذہبی پہلو بھی شامل ہے، جس میں بعض گروہ اسے ایک بڑی تاریخی تبدیلی کے آغاز کے طور پر دیکھتے ہیں۔ چونکہ ایران میں جنگ حقیقت بن چکی ہے، اس لئے یہ تجزیے ممکن ہے کسی حد تک درست ثابت ہوں۔ بہرحال آنے والے دنوں میں ایران مشرق وسطی کا سپر پاور ملک بننے کے قریب ہے اور یہ بات میں نے کچھ عرصے قبل اپنے ایک پروگرام میں بھی کہی تھی کہ مسلم ممالک مخصوصا عرب و خلیجی ممالک امریکہ پہ جو انحصار کرتے ہیں کیا ہی اچھا ہو کہ یہ تمام اسلامی ممالک بشمول مشرق وسطی کے ممالک ایران کو سپورٹ کریں اور اس کی طاقت بنیں تاکہ صیہونیت کے بجائے مسلم امہ مضبوط طاقت کے سامنے آئے اور تعلیمات دین اسلام کا بول بالا ہو۔ اور مجھے لگ رہا ہے کہ وہ وقت قریب ہے اسوقت ایران کیساتھ روس اور چین بھی شامل ہیں جبکہ پاکستان کا رویہ بالکل بھی ایران کے مفاد میں نہیں کیونکہ پاکستانی حکومت کو خدا کے بجائے ڈونالڈ ٹرمپ کی خوشی عزیز ہے انہوں نے اپنا ناخدا صیہونیت کو بنارکھا ہے۔ خدا ہماری حکومت کو ہدایت دے۔
پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ۔
ایران امریکہ کے لیے ایک اور ویتنام بن سکتا ہے | سیدہ نصرت نقوی

Leave a Reply