نوائے نصرت | خصوصی وضاحت
دینی اور مذہبی اصطلاحات کے استعمال میں بعض اوقات ایسے سوالات پیدا ہو جاتے ہیں جن کی وضاحت ضروری ہوتی ہے تاکہ غلط فہمیوں سے بچا جا سکے۔ انہی موضوعات میں ایک اہم مسئلہ لفظ “امام” کے استعمال کا ہے، خصوصاً جب روح اللہ خمینیؒ یا سید علی خامنہ ای کے لیے یہ لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔
اہلِ تشیع کے عقیدے کے مطابق رسولِ خدا ﷺ کے بعد امامتِ الٰہیہ صرف بارہ معصوم ائمہؑ کے لیے مخصوص ہے۔ یہ منصب اللہ تعالیٰ کی جانب سے عطا کردہ ہے اور اس کے ساتھ عصمت، نصِ الٰہی اور مخصوص روحانی و دینی ذمہ داریاں وابستہ ہیں۔ اس عقیدے کے مطابق بارہ ائمہؑ کے بعد کسی بھی شخصیت کو اس مقام پر فائز نہیں سمجھا جاتا۔
جب امام خمینیؒ یا سید علی خامنہ ای کے لیے “امام” کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے تو اس کا تعلق اصطلاحی یا عقائدی امامت سے نہیں بلکہ اس کے لغوی مفہوم سے ہوتا ہے۔ عربی زبان میں “امام” کے معنی پیشوا، رہنما، قائد یا کسی جماعت کی قیادت کرنے والی شخصیت کے ہیں۔
تاریخی طور پر بھی مختلف علمی، دینی اور فکری شخصیات کے لیے یہ لفظ استعمال ہوتا رہا ہے، جیسے امام ابو حنیفہ، امام شافعی، امام بخاری اور دیگر۔ یہاں مقصد کسی عقائدی مقام کا تعین نہیں بلکہ علمی یا قیادی حیثیت کو بیان کرنا ہوتا ہے۔
لہٰذا امام خمینیؒ یا سید علی خامنہ ای کے لیے لفظ “امام” استعمال کرنے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ انہیں اہلِ تشیع کے بارہ معصوم ائمہؑ میں شامل سمجھا جاتا ہے یا امامتِ الٰہیہ کا حامل قرار دیا جاتا ہے۔
مختصراً یہ سمجھنا ضروری ہے کہ “امامِ معصوم” ایک عقیدہ ہے جبکہ “امام” بمعنی رہنما یا پیشوا ایک لغوی استعمال ہے۔ ان دونوں کے درمیان فرق کو واضح رکھنا علمی اور مذہبی اعتبار سے نہایت ضروری ہے۔

Leave a Reply