(قرآنی عقائد اور طرزِ عمل)
جزء 5، سورۂ نساء، صفحہ 96
❇️ بے گناہ پر تہمت لگانا، خواہ وہ کسی بھی نسل، قوم یا مکتبِ فکر سے تعلق رکھتا ہو، حرام ہے۔
اپنی غلطی کا الزام دوسروں پر نہ ڈالو۔
⭕️ وَ مَنْ يَكْسِبْ خَطِيئَةً أَوْ إِثْماً ثُمَّ يَرْمِ بِهِ بَرِيئاً فَقَدِ احْتَمَلَ بُهْتاناً وَ إِثْماً مُبِيناً
(سورۂ نساء، آیت 112)
🌱 اور جو شخص کسی خطا یا گناہ کا ارتکاب کرے، پھر اس کا الزام کسی بے گناہ پر لگا دے، تو یقیناً وہ بہتان اور کھلے گناہ کا بوجھ اپنے سر لے لیتا ہے۔
🔹 “خطیئہ” سے مراد لغزش ہے، خواہ وہ جان بوجھ کر ہو یا غیر ارادی؛ جبکہ “اِثم” سے مراد جان بوجھ کر کیا جانے والا گناہ ہے۔
🔹 تہمت بہت بڑے گناہوں میں سے ہے، جو ایمان کو پگھلا دیتی ہے، معاشرے میں عدل و انصاف اور باہمی اعتماد کو ختم کر دیتی ہے، اور آخرت کے عذاب کا سبب بنتی ہے۔
🔹 “بہتان” اس جھوٹ کو کہتے ہیں جسے سن کر انسان حیرت و ششدر رہ جائے۔
🔹 تہمت، لوگوں کی عزت و آبرو پر تیر چلانے کے مترادف ہے۔ «يَرْمِ بِهِ»
🔹 کسی بھی بے گناہ شخص پر، خواہ وہ کسی بھی نسل، مکتبِ فکر، عمر یا کسی بھی حالت میں ہو، تہمت لگانا حرام ہے۔ «يَرْمِ بِهِ بَرِيئاً»
🔹 تہمت لگانے والا اپنے کندھوں پر گناہ کا بہت بھاری بوجھ اٹھاتا ہے۔ «فَقَدِ احْتَمَلَ»
(لفظ «بُهْتاناً» اور «إِثْماً» میں تنوین، اس گناہ کی عظمت اور سنگینی کی علامت ہے۔)
♦️ بے گناہ پر تہمت لگانا اسلام کی نظر میں بدترین اعمال میں سے ہے، اور اسلام نے اس کی سخت مذمت کی ہے۔
🖌️ امام جعفر صادقؑ نے فرمایا:
بے گناہ پر تہمت لگانا، عظیم پہاڑوں سے بھی زیادہ بھاری گناہ ہے۔
🖌️ امام جعفر صادقؑ نے فرمایا:
غیبت یہ ہے کہ تم اپنے دینی بھائی کی وہ بات بیان کرو جسے اللہ نے اس پر پوشیدہ رکھا ہے، لیکن اگر تم اس کے بارے میں ایسی بات کہو جو اس میں موجود ہی نہ ہو، تو وہ بہتان ہے۔
🖌️ رسولِ اکرم ﷺ سے روایت ہے کہ آپؐ نے فرمایا:
“جو شخص کسی مومن مرد یا مومنہ عورت پر تہمت لگائے، یا اس کے بارے میں ایسی بات کہے جو اس میں موجود نہ ہو، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے آگ کے ایک ٹیلے پر کھڑا رکھے گا، یہاں تک کہ وہ اپنی کہی ہوئی بات کی ذمہ داری سے بری ہو جائے۔”
📚 تفاسیر: نور اور نمونہ

Leave a Reply