پزشکیان کا مؤقف: ماہرین کی آزاد رائے نظامِ حکمرانی کا لازمی حصہ

پزشکیان کا مؤقف: ماہرین کی آزاد رائے نظامِ حکمرانی کا لازمی حصہ

نوائے نصرت | خصوصی وضاحت
ایرانی صدر پزشکیان نے حالیہ بیان میں واضح کیا ہے کہ اسلامی نظام میں ماہرین اور ذمہ دار شخصیات کی آزادانہ رائے دینا نہ صرف جائز ہے بلکہ ریاستی نظم و نسق اور مؤثر حکمرانی کا بنیادی حصہ بھی ہے۔ ان کے مطابق مختلف آراء کا اظہار رہبرِ معظم کی اطاعت کے خلاف نہیں بلکہ پالیسی سازی کے عمل کو مضبوط اور مؤثر بنانے کا ذریعہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ذمہ داران اور ماہرین پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی آراء کو واضح، شفاف اور کھلے انداز میں پیش کریں تاکہ مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا سکے۔ تاہم جب قانونی اور آئینی طریقہ کار کے مطابق کوئی حتمی فیصلہ کر لیا جائے تو پھر تمام افراد پر لازم ہے کہ وہ اس فیصلے پر عمل کریں۔ ان کے مطابق یہی اصول دینی تعلیمات اور جدید حکمرانی دونوں سے ہم آہنگ ہے۔

پزشکیان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اگر کوئی شخص اپنے حقیقی مؤقف کے بجائے محض دوسروں کی رائے دہرانے لگے تو یہ نفاق کے زمرے میں آ سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاستی فیصلے ہمیشہ نظام کی طے شدہ پالیسیوں اور قومی حکمتِ عملی کے مطابق کیے گئے ہیں اور آئندہ بھی اسی اصول کے تحت ملک آگے بڑھے گا۔

مذاکرات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ رہبرِ معظم نے فیصلہ سازی کے دوران یہ اصول بیان کیا تھا کہ اگر متعلقہ کونسل کے تین چوتھائی ارکان کسی معاملے کی حمایت کریں تو اس عمل کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔ بعد ازاں اجلاس میں 13 میں سے 12 ارکان نے اس فیصلے کے حق میں ووٹ دیا اور تفصیلی مشاورت کے بعد اس کی مکمل حمایت کی۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب بعض حلقوں کی جانب سے حکومت پر رہبرِ معظم کی رائے سے اختلاف کے الزامات لگائے جا رہے تھے۔ پزشکیان نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی واضح ہدایت یا حکم جاری کیا جاتا تو حکومت اس پر مکمل عمل کرتی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.