رپورٹ: نوائے نصرت
ایران نے آبنائے ہرمز کی سلامتی کے حوالے سے اپنا واضح اور دوٹوک مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اہم آبی گزرگاہ کی حفاظت اور استحکام کی ذمہ داری صرف ایران اور عمان پر عائد ہوتی ہے، اور اس معاملے میں کسی بیرونی مداخلت کی ضرورت نہیں۔
یہ بیان برطانیہ اور فرانس کے مشترکہ مؤقف کے بعد سامنے آیا، جس نے خطے میں نئی سیاسی اور سفارتی بحث کو جنم دیا ہے۔ آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل کے حوالے سے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے، جہاں دنیا کے ایک بڑے حصے کی توانائی کی سپلائی گزرتی ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق آبنائے ہرمز سے متعلق بیانات اور پالیسی فیصلے مشرق وسطیٰ کی سلامتی، عالمی توانائی منڈی اور بین الاقوامی تعلقات پر براہ راست اثر ڈال سکتے ہیں۔

Leave a Reply