ایک قطرۂ اشک اور بخششِ گناہ — آخر کیسے؟

ایک قطرۂ اشک اور بخششِ گناہ — آخر کیسے؟

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

سید بحرالعلوم تنہا سامرہ کی زیارت کے لیے روانہ تھے۔ راستے بھر ایک سوال ان کے ذہن کو اپنی گرفت میں لیے ہوئے تھا: آخر امام حسینؑ پر بہایا جانے والا ایک قطرۂ اشک انسان کے گناہوں کی بخشش کا سبب کیسے بن جاتا ہے؟

اسی اثنا میں ایک عرب سوار گھوڑے پر سوار ان کے قریب آیا، سلام کیا اور نہایت شفقت سے پوچھا:

“اے سید! آپ کس سوچ میں ڈوبے ہوئے ہیں؟ اگر کوئی علمی مسئلہ ہے تو شاید میں اس کا جواب دے سکوں۔”

سید بحرالعلومؒ نے فرمایا:

“میں اسی بات پر غور کر رہا ہوں کہ اللہ تعالیٰ حضرت امام حسین کے زائرین اور ان پر گریہ کرنے والوں کو اتنا عظیم اجر کیوں عطا فرماتا ہے؟ کہا جاتا ہے کہ زیارت کے لیے اٹھنے والا ہر قدم ایک حج اور ایک عمرے کا ثواب رکھتا ہے، اور ایک قطرۂ اشک بڑے سے بڑے گناہوں کی مغفرت کا ذریعہ بن جاتا ہے۔”

عرب سوار مسکرایا اور بولا:

“تعجب نہ کیجیے، میں ایک مثال دیتا ہوں، اس سے آپ کا اشکال دور ہو جائے گا۔”

پھر اس نے کہا:

“ایک بادشاہ اپنے درباریوں کے ساتھ شکار پر نکلا۔ شکار کے دوران وہ اپنے ساتھیوں سے بچھڑ گیا۔ بھوک اور پیاس نے اسے بے حال کر دیا۔ اسی حالت میں اسے ایک خیمہ نظر آیا۔ اندر ایک بوڑھی عورت اپنے نوجوان بیٹے کے ساتھ رہتی تھی۔ ان کی کل متاع صرف ایک بکری تھی، جس کے دودھ سے ان کی گزر بسر ہوتی تھی۔

انہوں نے مہمان کو پہچانا نہیں، مگر عرب کی مہمان نوازی نے انہیں مجبور کیا کہ اپنی واحد بکری ذبح کر کے اس کے لیے کھانا تیار کریں۔ بادشاہ نے رات وہیں گزاری اور اگلے دن کسی طرح اپنے لشکر تک پہنچ گیا۔

محل واپس آ کر اس نے درباریوں سے پوچھا:

‘اس بوڑھی عورت اور اس کے بیٹے کی مہمان نوازی کا بدلہ کیسے دوں؟’

کسی نے کہا: ‘سو بکریاں دے دیجیے۔’

دوسرے نے مشورہ دیا: ‘سو بکریاں اور سو اشرفیاں عطا کیجیے۔’

تیسرے نے کہا: ‘انہیں ایک زرخیز جاگیر بخش دیجیے۔’

بادشاہ نے جواب دیا:

‘تم سب کی رائے اپنی جگہ، مگر حقیقت یہ ہے کہ میں جو کچھ بھی دوں، کم ہے۔ اگر اپنی پوری سلطنت، تاج اور تخت بھی انہیں دے دوں تو تب بھی صرف برابری ہو گی، کیونکہ انہوں نے میرے لیے اپنا سب کچھ قربان کر دیا تھا۔ بدلہ بھی اسی وقت پورا ہوگا جب میں بھی اپنا سب کچھ ان کے حوالے کر دوں۔'”

پھر وہ عرب سوار سید بحرالعلومؒ کی طرف متوجہ ہوا اور بولا:

“اب دیکھیے، سیدالشہداء امام حسینؑ نے اللہ کی رضا کے لیے اپنا مال، اپنے اہلِ بیت، اپنے اصحاب، اپنے جوان بیٹے، بھائی، بہنیں، حتیٰ کہ اپنا سرِ اقدس اور اپنا پورا وجود راہِ خدا میں قربان کر دیا۔

پھر اگر اللہ تعالیٰ ان کے زائرین اور ان پر اشک بہانے والوں کو بے حساب اجر، بلند درجات اور گناہوں کی مغفرت عطا فرمائے تو اس میں تعجب کیسا؟

اللہ تعالیٰ اپنی خدائی تو امام حسینؑ کو عطا نہیں کر سکتا، اس لیے اپنے لطف و کرم کے مطابق جو کچھ عطا کرنا ممکن ہے، وہ سب عطا فرماتا ہے۔ اس کے باوجود یہ ان عظیم قربانیوں کا مکمل صلہ نہیں، بلکہ اس کی رحمت اور فضل کا ایک جلوہ ہے۔”

سید بحرالعلومؒ بیان کرتے ہیں کہ جب وہ عرب اپنی گفتگو مکمل کر چکا تو اچانک ان کی نگاہوں سے اوجھل ہو گیا۔

📚 ماخذ: العبقری الحسان، جلد ۱، صفحہ ۱۱۹

Leave a Reply

Your email address will not be published.