بی بی سی انگلش کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ کشیدگی کے بعد آبنائے ہرمز کے جنوب میں واقع عمانی بحری راہداری سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت صفر ہو گئی ہے۔
رپورٹ: نوائے نصرت
بی بی سی انگلش کی ایک رپورٹ کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات عالمی بحری تجارت پر بھی ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے جنوب میں واقع امریکہ کی تجویز کردہ بحری گزرگاہ، جسے “عمانی کوریڈور” کہا جاتا ہے، سے جہازوں کی آمدورفت تقریباً صفر ہو چکی ہے۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ کسی بھی قسم کی کشیدگی یا غیر یقینی صورتحال عالمی تجارت، توانائی کی قیمتوں اور بحری نقل و حمل پر براہِ راست اثر ڈال سکتی ہے۔
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق حالیہ علاقائی حالات کے باعث متعدد بحری کمپنیوں نے اپنے راستوں پر نظرثانی شروع کر دی ہے، جبکہ بعض جہازوں نے متبادل راستے اختیار کرنے کو ترجیح دی ہے۔
عمانی بحری راہداری کو آبنائے ہرمز کے قریب نسبتاً محفوظ متبادل راستے کے طور پر دیکھا جاتا تھا، تاہم موجودہ صورتحال میں اس راہداری میں بھی سرگرمیوں میں نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے۔
عالمی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہی تو بین الاقوامی تجارت، توانائی کی ترسیل اور بحری سلامتی کے حوالے سے مزید خدشات پیدا ہو سکتے ہیں۔

Leave a Reply