لبنان اسرائیل مذاکرات اور امریکہ کی سفارتی کوششیں

لبنان اسرائیل مذاکرات اور امریکہ کی سفارتی کوششیں

اسلام آبادـ(اسٹاف رپورٹ )بین الاقوامی ذرائع کے مطابق مشرق وسطیٰ میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز ہو گئی ہیں۔امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے لبنانی صدر جوزف عون سے ٹیلیفونک گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات ہی تشدد کے خاتمے کا مؤثر اور عملی راستہ ہیں۔ ان کے مطابق براہ راست یا بالواسطہ مذاکرات خطے میں استحکام کے لیے ناگزیر ہیں۔اسی دوران این بی سی کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی قیادت سے لبنان کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا، جس میں جنگ بندی اور کشیدگی میں کمی کے امکانات پر غور کیا گیا۔ایرانی سفارتی حلقوں سے منسوب بیان میں خطیب زادہ نے کہا ہے کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے اسرائیلی قبضے کا خاتمہ اور بین الاقوامی قوانین کی مکمل پاسداری ضروری ہے۔ انہوں نے ایران کے منجمد اثاثوں کی رہائی اور آبنائے ہرمز کے لیے نئے انتظامی طریقہ کار پر بھی زور دیا۔ادھر سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا کہ نیتن یاہو کو بعض اوقات تحمل اور دانشمندی سے کام لینا چاہیے تاکہ خطے میں مزید کشیدگی پیدا نہ ہو۔ انہوں نے جنگ بندی کے تسلسل کو بھی ضروری قرار دیا۔امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ اسرائیل امریکہ کا اہم شراکت دار ضرور ہے، تاہم دونوں ممالک کے مفادات ہر معاملے میں مکمل طور پر یکساں نہیں ہوتے۔یہ تمام بیانات خطے میں جاری پیچیدہ سفارتی صورتحال اور امن کوششوں کی عکاسی کرتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.