تحریر: سیدہ نصرت نقوی
عورت کیا ہے؟ عورت کیا ہے یہ جاننے اور سمجھنے کے لیے ادیبوں نے نثر کی کتابیں ڈھیروں لکھ دیں۔ شاعروں نے دیوان کے دیوان چھاپ ڈالے ، “راقمِ تقدیر نے عورت کو صبر، محبت اور قربانی کا پیکر لکھا ہے۔”
علامہ اقبال کہتے نظر آتے ہیں ” وجود زن سے ہے کائنات میں رنگ”
اور میں عورت کو قرطاس پہ پھیلی وہ حقیقت لکھنا چاہوگی جو عورت ہے تو وفا ہے ، ماں ہے تو عشق کا پیکر ، بیوی ہے تو ناز و ادا کا محور ، بیٹی ہے تو فخر مجسم اور بہن ہے تو مان کا طلسم۔
گو عورت اپنے ہر روپ میں بے مثال ہے، عورت اگر وفا نبھانے کی اجائے تو خاک ہو جاتی ہے لیکن اگر آپ عورت کی شخصیت اس کی وفا اور اس کے کردار کو چیلنج کردیں تو وہ عورت سے ناگن بننے میں لمحے نہیں لگاتی۔
کیونکہ کردار وہ حقیقت ہے جس کی بانی عورت ہے آپ خود سوچیں اور سمجھیں درک کیجیے کہ ایک عورت نسلوں کی موجد ہے وہ انسان کو دنیا میں لاکر بقا دیتی ہے پھر بھلا آپ اسی کے کردار کو نشانہ یا تضحیک کا محور بنائے گے تو وہ کہاں یہ سب سہہ سکے گی۔
“خدا نے عورت کو درد سہہ کر بھی مسکرانے والی ہستی لکھا ہے۔”
آپ عورت کو گلاب رکھنا چاہتے ہیں تو اس کے گرد خار رہ کر اس کی حفاظت کیجیے نا کہ خار بنکر اس کے وجود کو پارہ پارہ کیجیے۔
بہت گہرا جملہ ہے ممکن ہو تو ایک لمحے کو رک کر میرے اس جملے کی غور ضرور کیجیے گا۔
دوروزمان کی عورت بہت ترقی کرچکی ہے اب شہروں میں خواتین ظلم کم ہی برداشت کرتی ہیں مگر جاگیر دارانہ نظام یا ہوں کہہ لیں کہ جاہلانہ نظام جو ہمارے گاؤں دیہاتوں میں اب تک رائج ہے اس میں اب بھی عورت تعلیم سے دور ہے اور یہی وجہ عورت کو ظلم کو سہنے پہ مجبور کرتی ہے۔
ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں خواتین تعلیم یافتہ: تقریباً 50٪ سے 52٪
مرد تعلیم یافتہ: تقریباً 70٪ کے قریب
آپ اس شرح کے تناظر میں خود اندازہ کرسکتے ہیں کہ ہمارے ہاں کی خواتین کو تعلیم سے کس قدر دور رکھا گیا ہے۔
پاکستان میں تعلیم کی کمی، سماجی دباؤ، اور کمزور قانون نافذ کرنے کے نظام کی وجہ سے خواتین پر تشدد کے واقعات بڑی تعداد میں ہوتے ہیں۔ درست ایک ہی نمبر دینا مشکل ہے کیونکہ کئی واقعات رپورٹ ہی نہیں ہوتے، لیکن دستیاب رپورٹس کے مطابق اوسط صورتحال یہ ہے:
سالانہ اندازہ (حالیہ رپورٹس)
2024 میں پاکستان بھر میں خواتین کے خلاف 32,617 تشدد کے کیس رپورٹ ہوئے (جن میں قتل، ریپ، گھریلو تشدد، اغوا وغیرہ شامل ہیں)۔
2025 کے پہلے 6 ماہ میں ہی 20,698 کیس رپورٹ ہوئے، یعنی اوسطاً روزانہ 114 واقعات۔
انسانی حقوق کی رپورٹس کے مطابق ہر سال تقریباً 1,000 خواتین “غیرت کے نام پر” قتل کر دی جاتی ہیں۔ اگر ان کو سادہ انداز میں سمجھیں تو
اوسطاً (رپورٹ شدہ اعداد کے مطابق):
سالانہ: تقریباً 30,000 سے 35,000 خواتین مختلف قسم کے تشدد کا شکار
ماہانہ: تقریباً 2,500 سے 3,000
روزانہ: تقریباً 80 سے 120 خواتین
ان جرائم میں شامل چیزیں گھریلو تشدد۔
قتل (خاص طور پر غیرت کے نام پر)
زیادتی / ریپ
اغوا۔ جلانا / تیزابی حملے۔ ہراساں کرنا۔
اہم بات یہ ہے کہ
ماہرین کہتے ہیں کہ اصل تعداد اس سے زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ بہت سے کیس:
رپورٹ نہیں ہوتے
خاندان والے چھپا لیتے ہیں ، کچھ سماجی دباؤ کی وجہ سے درج نہیں ہوتے ہیں۔
تعلیم کی کمی کا اثر
یہ ہوتا ہے کہ خواتین کو اپنے حقوق کا علم کم ہی ہوتا ہے۔
کم تعلیم کی وجہ سے ان کا معاشی انحصار زیادہ تر مردوں پہ ہوتا ہے ۔یہ بھی ایک قسم کا ذہنی دباؤ ہے۔
کم تعلیم کی وجہ سے وہ اپنے اوپر ہونے والے ظلم و زیادتی کے خلاف قانونی مدد نہین لے پاتی ہیں۔
کم تعلیم کی وجہ سے وہ گھریلو ظلم و تشدد برداشت کرتی ہیں۔
اسی وجہ سے تعلیم کو خواتین کے تحفظ کی بنیادی کنجی سمجھا جاتا ہے۔
کسی بھی قوم کی ترقی کا دارومدار اس ملک کی خواتین کی تعلیمی ترقی پر ہوتا ہے۔
ہمیں سب کو مل کر کوشش کرنی ہے کہ ہم سب تعلیم کو عام کریں۔ اگر یہ ملکی سطح پہ نا بھی ہو تو ہم انفرادی طور پہ بھی یہ کوشش کرسکتے ہیں۔
عورت

Leave a Reply