تحریر :سیدہ نصرت نقوی
انقلاب عورت کی آغوش میں” اس جملے کا تصور اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ حقیقی سماجی و سیاسی تبدیلی عورت کی شرکت اور آزادی کے بغیر ناممکن ہے۔
عورت کی اہمیت اور خاصیت سے انکار ممکن نہیں ۔ اگر ہم تاریخ اسلامی کی طرف مڑ کر دیکھیں تو اسلام کی پہلی معاشی مدد حضرت خدیجہ س نے کی، اس کے بعد یہ اہم مرحلہ حضرت فاطمہ زہرا س نے رسول خدا ص کی شہادت کے بعد اولین مقاومتی خاتون کے طور پہ ادا کیا کہ جب مولا علی ع کو شکنجوں میں جکڑ دیا گیا تھا اسوقت جناب حضرت زہرا س نے آواز حق بلند کی اور اسی طرح بعد کربلا شہادت امام حسین علیہ السلام کے بعد یہ کام حضرت زینب س نے کردار زینبی س سے ثابت کیا اور اسی طرح یہ سلسلہ نسل در نسل منتقل ہوتا رہا ، جو آج انقلاب اسلامی ایران کی خواتین میں ہمیں نظر آرہا ہے۔ گزشتہ صدی میں جب ایران پہ ایران ، عراق جنگ مسلط کی گئی تھی اسوقت بھی اسی امریکہ ال یھود نے ایران پر اپنی ناجائز اولادوں کے ذریعے جنگ مسلط کی تھی مگر امام خمینی رح نے کیا خوب فرمایا تھا کہ یہ بچے جو آج ماؤں کے شکم میں ہیں اور شیر سے سیراب ہورہے ہیں انقلاب کی باگ ڈور اب ان کے ہاتھ میں ہے۔
مجھے امریکہ کے صدر ٹرمپ پہ ہنسی کیساتھ ترس آنے لگا ہے مجھے اس بیچارے سے ہمدردی ہورہی ہے کیونکہ 2022 میں وہ مھیسا امینی کے کیس کو سامنے لاکر ہمدردی کے ڈرامے کررہا تھا۔ اسوقت اس نے زن آزادی کا نعرہ لگوایا تھا جو آج اسی کے گلے پڑگیا ہے اس کی خود کی عوام اس کے خلاف ہے اور آج بھی وہ اپنے پاگل پن کیوجہ سے ایک ایسی قوم کو چیلنج کررہا ہے کہ جن کا رہن سہن۔ ان کی زندگی انقلاب اسلامی کی آبیاری اور شھداء کے خون سے ہوئ ہے ۔
پھر کیسے ممکن ہے کہ وہ اس قوم کو شکست دے سکتا ہے۔
ٹرمپ ملعون نے اپنے ایک بیان میں کہ ہے کہ
امریکہ اور اسرائیل نے ایران میں ایسے اہداف کی ایک فہرست تیار کر لی ہے جن کا مقصد ملک کی معیشت کو مفلوج کرنا اور اس جنگ کے بعد اس کی بحالی کو طویل اور تکلیف دہ بنانا ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے اتوار کے روز کہا کہ امریکہ ایران کے تمام پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنانے کے لیے تیار ہے، جس سے اتنا نقصان ہوگا کہ اگر ایران خوش قسمت ہوا اور بطور ملک قائم رہا تو اسے دوبارہ تعمیر میں “20 سال لگ سکتے ہیں۔
یہ نجس پلید ٹرمپ حیوانیت کا مجسم یہ کیوں نہیں سمجھ پارہا کہ اس کی یہ خواہش کبھی پوری نہیں ہوسکتی۔
وہ اس قوم کو للکارا رہا ہے جن کی طاقت دین اسلام اور ائمہ و اہل بیت ع ہیں۔
ایران کی عورت بہت مضبوط اعصاب کی خواتین ہیں۔ انہوں نے شھداء دیے ہیں ۔
صرف ایران ، عراق جنگ: تقریباً 2.2 سے 3 لاکھ شہداء
حالیہ تنازع شامل کریں تو: اعداد میں معمولی اضافہ (ابھی حتمی نہیں)
یعنی مجموعی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ ایران نے گزشتہ صدی سے اب تک جنگوں میں تقریباً ڈھائی لاکھ سے تین لاکھ کے قریب شہداء دیے ہیں (اندازاً)۔
یہ اعداد مختلف ذرائع کے مطابق بدل سکتے ہیں، کیونکہ جنگی ہلاکتوں کی درست گنتی ہمیشہ مشکل ہوتی ہے۔
اور یہ ایک قوم کی خواتین کے حوصلوں کو ناپنے کا بہترین کلیہ ہے کہ وہ شھادتیں دینے سے نہیں ڈرتی۔
امریکہ و اسرائیل نے تو اپنے ہاں کی عورت کو مساوی حقوق تو کیا درحقیقت آزادی دی ہی نہیں ہے ۔ انہیں جنسی پنجوں میں جکڑی ہوئی نسوانیت سے دور طوائفوں کا بازار بنادیا ہے۔ کون کہتا ہے کہ مغرب میں عورت آزاد ہے؟ اگر آپ کا جسم روڈ چلتے کوئ بھی نوچ لے یا کسی کیفے , اسکول ، کالج ، یونیورسٹی یا ملازمت کی جگہ پر آپ کی عزت و ناموس محفوظ نا ہو تو وہ فضا آزادی کی فضا کہلائے گی؟ یہ کونسا قانون کہتا ہے کہ ایک لڑکی یا عورت کے درجنوں یا سینکڑوں کی تعداد میں مردوں سے ناجائز تعلقات ہوں
کم از کم ایران نے اپنے ہاں کی عورت کو یہ تحفظ تو دیا ہے نا۔ اور کم بھی نہیں آج آپ ایرانی عورت کو زندگی کے ہر شعبے میں آگے دیکھ سکتے ہیں۔ وہاں کی عورت نے حجاب اسلامی کو اپنا وقار بناکر اپنی طاقت بناکر رہتی دنیا تک یہ مثال قائم کردی ہے کہ عورت انقلاب کی پروردہ ہے۔
اپنے اس کالم میں میں ایرانی جنگجو خواتین ، بچیوں کو خاص طور پر خراج عقیدت پیش کرنا چاہوگی اور میری دعا ہے کہ آپ کی ملت کامیاب و سرفراز ہو اور ہم سب ملکر دین اسلام کی خدمت کریں۔
خدا رہبر انقلاب سید مجتبی خامنہ ای ، تمام ایرانی قیادت و مخصوصا ملت اسلامیہ ایران کی خواتین کو نصرت الٰہی سے سرفراز فرمائے۔
الہی امین

Leave a Reply