طاقت کا سفاک چہرہ اور سچ بولنے کی جرات | سیدہ نصرت نقوی

طاقت کا سفاک چہرہ اور سچ بولنے کی جرات | سیدہ نصرت نقوی


تحریر: سیدہ نصرت نقوی
امریکہ کے ناجائز ظلم و ستم کے خلاف ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس کی طرف میں تمام قارئین کی توجہ دلانا چاہتی ہوں۔
ایک سابق امریکی میرین، Brian McGinnis، نے Washington, D.C. میں سینیٹ کی ایک سماعت کے دوران اچانک احتجاج کیا۔
وہ Iran کے خلاف ممکنہ جنگ میں امریکہ کی شمولیت پر اعتراض کر رہے تھے اور انہوں نے نعرہ لگایا:
“America does not want to fight this war for Israel.”“کوئی بھی اسرائیل کے لیے لڑنا نہیں چاہتا۔”
اس کے بعد امریکی کیپیٹل پولیس اور سینیٹر Tim Sheehy نے انہیں ہال سے باہر نکالنے کی کوشش کی۔
ہاتھا پائی کے دوران جب وہ دروازے کو پکڑے ہوئے تھے تو ان کا ہاتھ دروازے میں پھنس گیا اور ان کا بازو ٹوٹ گیا۔
ہم پر ایسے لوگ حکومت کر رہے ہیں جو بچوں کے قاتل، بدکار (پیڈوفائل) اور نسل کشی کے جنونی ہیں۔
ان کا یہ اقدام ذاتی یقین اور اپنی رائے کے اظہار میں جرات کی عکاسی کرتا ہے۔ جمہوری معاشروں میں پُرامن احتجاج کرنا اور جنگوں اور پالیسیوں پر سوال اٹھانا شہریوں کا ایک اہم حق سمجھا جاتا ہے۔
“کوئی بھی اسرائیل کے لیے لڑنا نہیں چاہتا!”
انہوں نے Iran کے خلاف ایک اور غیرقانونی جنگ کی مخالفت کی، اور صرف اسی وجہ سے ان کا بازو توڑ دیا گیا۔
امریکہ تھک چکا ہے۔ Iraq اور Afghanistan کی جنگوں کے بعد، اور حالیہ حملوں میں Iran کی قیادت کو نشانہ بنانے کے واقعات کے بعد، بہت سے نوجوان امریکی ان نہ ختم ہونے والی جنگوں کو مسترد کر رہے ہیں جو Benjamin Netanyahu کے لیے لڑی جا رہی ہیں۔
فوجی بھرتیوں میں کمی اس بات کا ثبوت ہے کہ کوئی بھی اسرائیل کے ایجنڈے کے لیے مرنا نہیں چاہتا۔
Iran پابندیوں، قتل و غارت اور جارحیت کے باوجود ڈٹا ہوا اور سر بلند کھڑا ہے—ایک خودمختار قوم جو اپنی عزت و وقار کا دفاع کر رہی ہے۔
Tel Aviv کے لیے مزید امریکی خون بہانے کا سلسلہ اب ختم ہونا چاہیے۔
ان کے لیے اس سے بڑی ذلت کیا ہو سکتی ہے کہ اب ان کی اپنی قوم یہ نعرے لگا رہی ہے:
“ایران کو اکیلا چھوڑ دو۔”
“فلسطین کو آزادی دو۔”

NoWarWithIran

AmericaFirst

کیونکہ اب وہ جان چکے ہیں کہ ان کی حق تلفی ہو رہی ہے۔
امریکہ کے مستند اداروں جیسے Federal Bureau of Investigation، Centers for Disease Control and Prevention اور United States Census Bureau کے اندازوں کے مطابق امریکہ کے بارے میں درج ذیل اہم اعداد و شمار سامنے آتے ہیں۔ یاد رہے کہ کچھ جرائم، خصوصاً ریپ کے کیسز، اکثر رپورٹ ہی نہیں کیے جاتے، اس لیے اصل تعداد اس سے زیادہ بھی ہو سکتی ہے۔
امریکہ میں ریپ (جنسی حملہ)
2023 میں امریکہ میں ریپ کی شرح تقریباً ہر 100,000 افراد میں 38 کیسز تھی۔
ہر سال 1 لاکھ 40 ہزار سے زیادہ ریپ کیسز رپورٹ ہوتے ہیں۔
اوسطاً ہر 68 سے 74 سیکنڈ میں ایک شخص جنسی حملے کا شکار ہوتا ہے۔
اندازوں کے مطابق ہر 6 میں سے 1 امریکی عورت اپنی زندگی میں کسی نہ کسی وقت ریپ یا اس کی کوشش کا شکار ہوتی ہے۔
تقریباً دو تہائی جنسی حملے پولیس کو رپورٹ ہی نہیں کیے جاتے۔
انسانی حقوق اور تشدد کے مسائل
امریکہ میں کئی سماجی مسائل انسانی حقوق کے تناظر میں زیر بحث آتے ہیں، جیسے:
ہر سال تقریباً ایک کروڑ گھریلو تشدد کے کیسز رپورٹ یا اندازہ کیے جاتے ہیں۔
تقریباً 35.6 فیصد خواتین اپنی زندگی میں جسمانی تشدد، ریپ یا ہراسانی کا سامنا کرتی ہیں۔
بچوں اور نوجوانوں کے خلاف تشدد بھی ایک بڑا سماجی مسئلہ سمجھا جاتا ہے۔
امریکہ میں غربت
2024 کے مطابق امریکہ میں 10.6 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔
یہ تقریباً 3 کروڑ 59 لاکھ افراد بنتے ہیں۔
بچوں میں غربت کی شرح تقریباً 14.3 فیصد ہے۔
بعض علاقوں اور سنگل مدر خاندانوں میں غربت کی شرح 20 فیصد سے بھی زیادہ ہو جاتی ہے۔
خلاصہ تجزیہ
ریپ: ہر سال 1.4 لاکھ سے زائد رپورٹڈ کیسز
جنسی حملہ: تقریباً ہر ایک منٹ میں ایک واقعہ
غربت: تقریباً 10 سے 13 فیصد آبادی (تقریباً 3.5 کروڑ افراد)
گھریلو تشدد اور دیگر انسانی حقوق کے مسائل بھی نمایاں ہیں۔
یہ وہی امریکہ ہے جس کا اپنے ہی ملک میں یہ حال ہے، لیکن پھر بھی وہ خود کو دنیا میں خواتین کی آزادی اور انسانیت کے تحفظ کا ضامن ظاہر کرتا ہے۔
Donald Trump اور Benjamin Netanyahu دو ایسے خونی درندے ہیں جنہیں نہ صرف مسلم امہ بلکہ پوری انسانیت کے لیے ایک شرمناک داغ سمجھا جانا چاہیے۔
کیا انسانیت یہی ہے کہ آپ اپنی انا کی تسکین کے لیے پوری دنیا کو تباہی اور بربادی کی آگ میں جھونک دیں؟
میرے خیال میں اب تمام عرب اور مسلم ممالک کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں۔ جو بدبخت اس قدر غلیظ کردار کا مالک ہے، اگر اسے Nobel Prize کا مستحق سمجھا جائے تو یہ ایمان اور اخلاق دونوں کے لیے افسوسناک بات ہے۔
واقعی، یہ دنیا کے ضمیر اور ایمان کی حالت پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.