دنیا کے امن کے لیے اصل خطرہ کون ہے؟ | سیدہ نصرت نقوی

دنیا کے امن کے لیے اصل خطرہ کون ہے؟ | سیدہ نصرت نقوی


تحریر: سیدہ نصرت نقوی
اپنے محترم قارئین کی خدمت میں جس اہم امر پہ توجہ دلانا چاہتی ہوں وہ ہے کہ دنیا کے امن و سلامتی کے لئے اصل خطرہ کون ہے ؟
کیا کہ آپ سب ہی جانتے ہیں کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد سے امریکہ نے اپنا تسلط ہر ملک پہ قائم کیا ہے خاص کر مشرق وسطی پہ اس نے اپنے خونی پنجے ایسے گاڑے ہیں کہ اس درندے کے ہاتھوں شاید ہی کوئی خطہ زمین محفوظ رہا ہو آپ کی خدمت میں کچھ تفصیل پیش کرنا چاہو گی امید ہے کہ قارئین اس تحریر سے محفوظ ہوگے۔
دوسری جنگِ عظیم کے بعد امریکہ دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت رہا ہے اور اس نے مختلف خطوں میں:
جنگیں،فوجی مداخلت
ڈرون حملے،حکومتوں کی تبدیلی جیسے اقدامات کیے ہیں۔ اسی وجہ سے بہت سے تجزیہ کار اسے عالمی سیاست میں سب سے زیادہ مداخلت کرنے والی طاقت قرار دیتے ہیں۔ ذرا نیچے دی گئی تفصیل پہ نظر ثانی کیجیے اس کے بعد ہم آپ کو ان مطالب کی گہرائی میں غوطہ زن کر کے فکر و تدبر کی منزل تک لانا چاہیں گے تاکہ ہم مسلم امہ مخصوصا انسانیت کو اپنے اصل دشمن کی حرکتوں اور اہداف سے واقفیت ملے۔ یہ مختلف اوقات میں جنگوں اور ڈرون حملوں کی تفصیل ہے جو امریکہ نے اپنے مختلف حکمرانوں کے ادوار میں انسانی جانوں پہ کئے۔
سیرا لیون (1997)، کمبوڈیا (1997)، عراق (1998)، گنی/بساؤ (1998)، کینیا/تنزانیہ (1998 تا 1999)، افغانستان/سوڈان (1998)، لائبیریا (1998)، مشرقی تیمور (1999)، سربیا (1999)، سیرا لیون (2000)، یمن (2000)، مشرقی تیمور (2000)، افغانستان (2001 سے اب تک)، یمن (2002)، فلپائن (2002)، کوٹ دی ووار (2002)، عراق (2003 سے اب تک)، لائبیریا (2003)، جارجیا/جبوتی (2003)، ہیٹی (2004)، جارجیا/جبوتی/کینیا/ایتھوپیا/یمن/اریٹریا – دہشت گردی کے خلاف جنگ (2004)، پاکستان میں ڈرون حملے (2004 سے اب تک)، صومالیہ (2007)، جنوبی اوسیتیا/جارجیا (2008)، شام (2008)، یمن (2009 اور 2015)، ہیٹی (2010)، لیبیا (2011)، شام (2011)، یوکرین (2014)، عراق (2015) وغیرہ وغیرہ۔
اور اب وینزویلا اور ایران…
مزے کی بات یہ ہے کہ امریکہ اپنے ظلم و زیادتیوں کو مختلف ناموں سے بدل بدل کر انجام دیتا رہا اور دنیا کو فریب دینے کے لیے مکر و فریب کرتا رہا لیکن کبھی اس کا مقصد اسلام کو نشانہ بنانا ہوتا ، کبھی اس ملک پہ حکومت کرنا ، کبھی کسی ملک کے نادر و نایاب اساسہ جات پہ قبضہ کرنا
افریقہ اور ایشیا میں ابتدائی مداخلتیں (1997–1999)
1997 – سیرالیون
امریکہ نے فوجی اہلکار بھیجے تاکہ بغاوت کے دوران اپنے شہریوں اور سفارت خانے کو نکالا جا سکے۔ یہ آپریشن Operation Noble Obelisk کہلاتا ہے۔
1997 – کمبوڈیا
سیاسی بغاوت کے دوران تقریباً 550 امریکی فوجی تھائی لینڈ میں تعینات کیے گئے تاکہ امریکی شہریوں کو محفوظ نکالا جا سکے۔
1998 – عراق
امریکہ اور برطانیہ نے عراق پر چار دن تک شدید بمباری کی جسے Operation Desert Fox کہا جاتا ہے
1998 – افغانستان اور سوڈان ۔ امریکہ نے 1998 میں افغانستان اور سوڈان پر میزائل حملے کیے تھے، جنہیں Operation Infinite Reach کہا جاتا ہے، جبکہ 2001 میں نائن الیون کے بعد امریکہ نے افغانستان میں بڑی فوجی کارروائی شروع کی جسے “وار آن ٹیرر” کا حصہ قرار دیا گیا۔
امریکہ نے القاعدہ کے مبینہ ٹھکانوں پر کروز میزائل حملے کیے جسے Operation Infinite Reach کہا جاتا ہے۔
1998 – کینیا اور تنزانیہ پر امریکی سفارت خانوں پر حملوں کے بعد امریکی فوجی امدادی اور سکیورٹی مشن کے لیے تعینات کیے گئے۔
بالکان اور جنوب مشرقی ایشیا کی جنگیں
1999 – سربیا / یوگوسلاویہ (کوسوو جنگ)
نیٹو کے تحت امریکہ نے سربیا پر بڑے پیمانے پر فضائی حملے کیے۔
1999–2000 – ایسٹ تیمور
آزادی کے بعد ہونے والے فسادات کو روکنے کے لیے اقوام متحدہ کے امن مشن میں امریکی فوج شامل ہوئی۔ جسے یہ امن کا نام دیکر دنیا کو بیوقوف بناتے ہیں۔
دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ (2001 کے بعد)
2001 – افغانستان جنگ
11 ستمبر کے حملوں کے بعد امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیا اور طالبان حکومت کو ہٹا دیا۔
2003 – عراق جنگ
امریکہ نے عراق پر حملہ کر کے صدام حسین کی حکومت ختم کر دی۔ کیونکہ اس سے مفاد ختم ہوگیا تھا ۔
یہ دونوں جنگیں جدید تاریخ کی سب سے بڑی امریکی فوجی مداخلتوں میں شمار ہوتی ہیں۔
ڈرون جنگ اور خفیہ آپریشن
2000 کے بعد امریکہ نے کئی ممالک میں ڈرون حملے اور خفیہ آپریشن کیے:
پاکستان (2004 سے)
یمن۔ صومالیہ ۔فلپائن
یہ کارروائیاں زیادہ تر War on Terror کے نام پر کی گئیں۔ مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں
2011 – لیبیا جنگ
نیٹو نے لیبیا میں مداخلت کی جس کے نتیجے میں معمر قذافی کی حکومت ختم ہوگئی۔
2011 سے – شام کی جنگ داعش کے خلاف بظاہر جبکہ داعش انہی کی پیدا کردہ حرام نسل ہے۔
یوکرین اور جدید جیوپولیٹکس
2014 – یوکرین بحران
روس اور مغرب کے درمیان کشیدگی بڑھی، اور امریکہ نے یوکرین کو فوجی و مالی مدد فراہم کی۔ کیونکہ روس کو امریکہ اپنے لئے عالمی خطرہ تصور کرتا ہے اسلیے اس نے یوکرین کی خدمت کی۔ یہاں امریکی صدور کے کچھ کارناموں کا حال بیان کیا جارہا ہے جیسے کہ
کلنٹن دور (1993–2001)
بش دور (2001–2009)
اوباما دور (2009–2017)
ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں بڑی جنگیں شروع نہیں ہوئیں، بلکہ زیادہ تر پابندیاں، اقتصادی دباؤ اور محدود فوجی کارروائیاں ہوئیں (جیسے ایران کے جنرل شہید قاسم سلیمانی کی شہادت)۔
جسے یہ دہشت گردی کا خاتمہ کہتا ہے اسی شہید جنرل قاسم سلیمانی نے داعش سے عراق اور شام کو محفوظ رکھا تھا ،
فلسطین کو اسرائیل سے محفوظ رکھا تھا۔
درحقیقت پس پردہ امریکہ کی سیاست دنیا پر طاقت کے زور آزمانے اور بے جا مداخلت کی سیاست ہے۔
1945 کے بعد امریکہ نے خود کو عالمی امن اور جمہوریت کا محافظ قرار دیا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اس پالیسی کے تحت کئی ایسی فوجی کارروائیاں بھی ہوئیں جن کے نتائج انتہائی تباہ کن ثابت ہوئے۔
مثال کے طور پر Iraq War کو جدید تاریخ کی سب سے متنازع جنگوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ امریکہ نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ عراق کے پاس بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار موجود ہیں، مگر بعد میں ایسی کوئی ٹھوس شہادت سامنے نہیں آئی۔ اس جنگ نے لاکھوں افراد کی جان لی اور پورے خطے کو عدم استحکام کا شکار کر دیا۔
اسی طرح War in Afghanistan بھی دنیا کی طویل ترین جنگوں میں سے ایک رہی۔ اس جنگ کا آغاز 11 ستمبر کے حملوں کے بعد ہوا، مگر بیس سالہ جنگ کے باوجود افغانستان میں مستقل امن قائم نہ ہو سکا اور بالآخر امریکی افواج کو وہاں سے انخلا کرنا پڑا۔
امریکہ کی کارفرمائیاں ڈرون جنگ اور خفیہ کارروائیاں جیسے کہ
2000 کے بعد امریکہ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر مختلف ممالک میں ڈرون حملوں کا سلسلہ شروع کیا۔ پاکستان، یمن اور صومالیہ جیسے ممالک میں کیے گئے ان حملوں کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ان حملوں میں کئی بے گناہ شہری بھی مارے گئے، جس سے انسانی حقوق کے سنگین سوالات اٹھے۔
پاکستان میں 2004 کے بعد شروع ہونے والی ڈرون مہم خاص طور پر متنازع رہی۔ بہت سے مقامی اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں نے اسے خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا۔
مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کا توازن :
مشرقِ وسطیٰ طویل عرصے سے عالمی طاقتوں کی سیاسی کشمکش کا مرکز رہا ہے۔ Libyan Civil War کے دوران نیٹو کی مداخلت نے لیبیا کی سیاسی صورتحال کو یکسر تبدیل کر دیا۔ اس کارروائی کے نتیجے میں معمر قذافی کی حکومت کا خاتمہ ہوا، مگر اس کے بعد ملک شدید سیاسی انتشار کا شکار ہو گیا۔
اسی طرح شام کی جنگ میں بھی مختلف عالمی طاقتیں بالواسطہ طور پر شامل رہیں۔ امریکہ نے بعض باغی گروہوں کی حمایت کی جبکہ دیگر طاقتوں نے مختلف فریقوں کو مدد فراہم کی، جس کے نتیجے میں جنگ مزید پیچیدہ ہو گئی۔
ان جنگوں کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر مہاجرت ،معاشی تباہی
سیاسی عدم استحکام
اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جیسے مسائل پیدا ہوئے جن کے اثرات آج بھی کئی خطوں میں موجود ہیں۔
دنیا بھر کے کئی دانشور، محققین اور انسانی حقوق کی تنظیمیں امریکی خارجہ پالیسی پر تنقید کرتی رہی ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ عالمی تنازعات کے حل کے لیے طاقت کے استعمال کے بجائے سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ بعض ماہرین کے مطابق بار بار کی فوجی مداخلتیں نہ صرف علاقائی کشیدگی کو بڑھاتی ہیں بلکہ عالمی طاقتوں کے درمیان عدم اعتماد کو بھی گہرا کرتی ہیں۔ اسی لیے عالمی سطح پر یہ بحث جاری ہے کہ کیا فوجی طاقت کے ذریعے امن قائم کیا جا سکتا ہے یا اس کے لیے سفارتی اور سیاسی راستے زیادہ مؤثر ہیں۔
امریکہ کی عالمی فوجی مداخلتیں جدید تاریخ کا ایک اہم مگر متنازع باب ہیں۔ ان مداخلتوں نے بعض مواقع پر سکیورٹی اہداف حاصل کیے، مگر کئی مواقع پر ان کے نتیجے میں شدید انسانی نقصان اور سیاسی عدم استحکام بھی پیدا ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی سیاست میں امریکہ کے کردار پر آج بھی شدید بحث جاری ہے۔
آخر میں اپنے معزز قارئین کی خدمت میں عرض کرنا چاہوگی کہ خدارا تمام لوگ صرف مسلم امہ ہی نہیں عالم انسانیت اپنے اصل دشمن کو پہچان لیں اور تمام لوگ ایک جھنڈے تلے جمع ہوکر ان خونی درندوں امریکہ و اسرائیل یعنی موجودہ دور کے دو فرعون ڈونلڈ ٹرمپ اور نیتن یاہو سے چھٹکارا پائیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.