نوائے نصرت | خصوصی رپورٹ
تہران سے مشہد، قم اور عراق تک:
شہید رہبر کی تاریخی تشییع کی تیاریاں عروج پر، لاکھوں افراد کی شرکت متوقع
تہران: ایران میں شہید رہبرِ انقلاب کی تشییع اور تدفین کے سلسلے میں تیاریاں اپنے آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہیں۔ سرکاری سطح پر جاری کردہ اطلاعات کے مطابق، اس عظیم قومی و بین الاقوامی مراسم کے لیے خصوصی انتظامات مکمل کیے جا رہے ہیں، جبکہ دنیا بھر کی نظریں اس تاریخی موقع پر مرکوز ہیں۔
انتظامی کمیٹی کے سیکریٹری پورجمشیدیان کے مطابق، تشییع کی تمام تقریبات رہبرِ معظم کے دفتر اور متعلقہ اداروں کی مشاورت سے ترتیب دی گئی ہیں تاکہ اس عظیم اجتماع کا انعقاد مکمل نظم و ضبط اور وقار کے ساتھ ممکن بنایا جا سکے۔
30 سے زائد ممالک کی شرکت، 90 سے زائد ممالک کے مذہبی و علمی رہنماؤں کی آمادگی
انتظامیہ کے مطابق اب تک 30 سے زائد ممالک نے سرکاری سطح پر تقریبِ تعزیت اور خراجِ عقیدت میں شرکت کی خواہش ظاہر کی ہے، جبکہ 90 سے زائد ممالک کے مختلف ادیان و مذاہب کے رہنماؤں، علماء اور دانشوروں نے بھی اس تاریخی تقریب میں شرکت کے لیے آمادگی کا اظہار کیا ہے۔
چار روزہ شیڈول: نمازِ جنازہ، تشییع، قم، عراق اور تدفین
سرکاری اعلان کے مطابق:
14 تیر
تہران کے مصلائے حضرت امام خمینیؒ میں شہید رہبر کے جسدِ مطہر کی نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی۔
15 تیر
تہران میں مشرق سے مغرب تک لاکھوں افراد کی موجودگی میں مرکزی جلوسِ تشییع نکالا جائے گا۔
16 تیر
شہر قم میں نمازِ جنازہ اور تشییع کی تقریبات منعقد ہوں گی، جبکہ حالات موافق ہونے کی صورت میں تشییع بھی قم میں انجام دی جائے گی۔
17 تیر
جسدِ مطہر کو عراق منتقل کیا جائے گا، جہاں بغداد یا نجف میں سرکاری استقبال کے بعد کربلا اور نجف میں خصوصی مراسم منعقد کیے جائیں گے۔
تدفین کہاں ہوگی؟
انتظامیہ کے مطابق تدفین روضۂ مبارک حضرت امام علی بن موسیٰ الرضاؑ میں محدود پیمانے پر انجام دی جائے گی۔
حرمِ مطہر میں ایسی جگہ کا انتخاب کیا گیا ہے جہاں مستقبل میں خواتین اور مرد زائرین آسانی سے بیک وقت زیارت کر سکیں، جبکہ دیگر زائرین کی آمدورفت بھی متاثر نہ ہو۔
تہران میں خصوصی ٹریفک پلان، میٹرو اور BRT کے نئے انتظامات
لاکھوں افراد کی متوقع آمد کے پیش نظر تہران میٹرو اور BRT سروسز کے لیے خصوصی پلان جاری کیا گیا ہے۔
متعدد میٹرو اسٹیشن فعال رہیں گے۔
حساس علاقوں کے بعض اسٹیشن عارضی طور پر بند رکھے جائیں گے۔
شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ سفر سے پہلے جاری کردہ روٹس کا جائزہ ضرور لیں تاکہ کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
اگر ہجوم زیادہ ہو جائے تو کیا کریں؟
انتظامیہ نے شہریوں کے لیے حفاظتی ہدایات بھی جاری کی ہیں:
✔️ ہاتھ سینے کے سامنے رکھیں تاکہ جسم دباؤ سے محفوظ رہے۔
✔️ ہجوم کے دباؤ کی صورت میں کنارے کی جانب ترچھا راستہ اختیار کریں۔
✔️ اگر گر جائیں تو فوراً کروٹ لے کر سر اور گردن کو محفوظ بنائیں۔
✔️ بہت زیادہ گنجان ہجوم میں داخل ہونے سے گریز کریں۔
✔️ سانس لینے میں دشواری یا کمزوری محسوس ہونے پر فوراً محفوظ مقام کی طرف منتقل ہوں۔
✔️ اپنے اہلِ خانہ کا ہنگامی رابطہ نمبر اپنے پاس ضرور رکھیں۔
دنیا کی نظریں تہران پر
یہ تقریبات صرف ایران تک محدود نہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی غیر معمولی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔ دنیا کے مختلف ممالک، مذہبی شخصیات، دانشور اور ذرائع ابلاغ اس موقع پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ سیکیورٹی، سفارتی اور انتظامی سطح پر وسیع پیمانے پر تیاریاں جاری ہیں تاکہ لاکھوں افراد کی شرکت کے باوجود تمام مراحل منظم انداز میں مکمل کیے جا سکیں۔
نوائے نصرت کی نظر میں
شہید رہبر کی تشییع سے متعلق جاری سرکاری اعلانات کے مطابق آنے والے دن غیر معمولی اہمیت کے حامل ہیں۔ لاکھوں افراد کی متوقع شرکت کے پیش نظر عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ انتظامیہ کی ہدایات پر مکمل عمل کریں، حفاظتی اصولوں کو مدنظر رکھیں اور نظم و ضبط برقرار رکھنے میں اپنا کردار ادا کریں۔
✍️ رپورٹ: نوائے نصرت نیوز ڈیسک
اگر آپ کو یہ خصوصی رپورٹ معلوماتی لگی تو اسے ضرور شیئر کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد تشییعی تقریبات کے شیڈول، سفری انتظامات اور حفاظتی ہدایات سے آگاہ ہو سکیں۔
ادارتی نوٹ: یہ رپورٹ متعلقہ سرکاری اعلانات اور جاری کردہ معلومات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ ان میں سے بعض اعلانات مستقبل کے منصوبوں سے متعلق ہیں اور ان کی تفصیلات یا شیڈول میں متعلقہ حکام کی جانب سے تبدیلی ممکن ہے۔

Leave a Reply