توسن معاملہ: مرکزی بینک پر سوشل میڈیا مہم کے الزامات، اخباری رپورٹ میں نئے دعوے

توسن معاملہ: مرکزی بینک پر سوشل میڈیا مہم کے الزامات، اخباری رپورٹ میں نئے دعوے

اخبار لحظہ ای کی رپورٹ میں توسن کمپنی، ایران کے مرکزی بینک اور مبینہ سوشل میڈیا مہم سے متعلق مختلف الزامات سامنے آئے ہیں۔ رپورٹ میں پروجیکٹ اکاؤنٹس، بینکاری اور سائبر سیکیورٹی سے متعلق دعووں کا ذکر کیا گیا ہے۔

رپورٹ: نوائے نصرت
ایران میں توسن (Tosan) کمپنی سے متعلق ایک نئی رپورٹ نے سوشل میڈیا، بینکاری نظام اور مرکزی بینک کے کردار پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

اخبار لحظہ ای کی رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر متعدد ایسے اکاؤنٹس نے اچانک ایک جیسے کلیدی الفاظ اور تکنیکی اصطلاحات کے ساتھ توسن کمپنی کے حق میں پوسٹس شائع کرنا شروع کیں، جنہیں رپورٹ میں مبینہ طور پر “پروجیکٹ اکاؤنٹس” قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ اکاؤنٹس اس سے قبل بینکاری یا سائبر سیکیورٹی کے موضوعات پر سرگرم نہیں تھے۔

رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ سرگرمی اس وقت سامنے آئی جب ایران کے مرکزی بینک نے گزشتہ ہفتے ایک سرکاری وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے بینکوں کو توسن کی خدمات استعمال کرنے پر مجبور کیے جانے کی خبروں کی تردید کی تھی۔

اخبار کے مطابق اگر مرکزی بینک کی وضاحت کافی تھی تو پھر سوشل میڈیا پر ایک منظم مہم چلانے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ رپورٹ میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا ہے کہ اس مہم میں ایسے اکاؤنٹس کو شامل کیا گیا جو حالیہ دنوں دیگر متنازع پوسٹس کے باعث بھی تنقید کی زد میں رہے تھے۔

رپورٹ میں یہ الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ ایک بینک کے شعبۂ تعلقات عامہ کی جانب سے مرکزی بینک، توسن کمپنی اور عبدالناصر ہمتی کے حوالے سے سوشل میڈیا مہم چلائی گئی، جبکہ توسن اور انفارمیٹکس سروسز کمپنی سے متعلق شائع ہونے والے الزامات کو دستاویزی شواہد پر مبنی قرار دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ مذکورہ تمام نکات اخبار لحظہ ای کی رپورٹ میں کیے گئے دعوے اور الزامات ہیں، جن کی آزاد ذرائع سے تصدیق سامنے نہیں آئی۔ متعلقہ اداروں کا مؤقف سامنے آنے پر صورتحال مزید واضح ہو سکتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.