اہلِ بیتؑ کا اپنے شیعوں اور محبّین پر لطف و کرم

🔴 روِيَ عَنْ صَفْوَانَ الْجَمَّالِ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى الصَّادِقِ (صلوات الله علیه) فَقُلْتُ جُعِلْتُ فِدَاكَ سَمِعْتُكَ تَقُولُ شِيعَتُنَا فِي الْجَنَّةِ وَ فِي الشِّيعَةِ أَقْوَامٌ يُذْنِبُون وَ يَرْتَكِبُونَ الْفَوَاحِشَ وَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ النَّاسِ وَ يَشْرَبُونَ الْخَمْرَ وَ يَتَمَتَّعُونَ فِي دُنْيَاهُمْ فَقَالَ نَعَمْ هُمْ أَهْلُ الْجَنَّةِ اعْلَمْ أَنَّ الْمُؤْمِنَ مِنْ شِيعَتِنَا لَا يَخْرُجُ مِنَ الدُّنْيَا حَتَّى يُبْتَلَى بِسُقْمٍ أَوْ بِفَقْرٍ أَوْ بِدَيْنٍ أَوْ بِجَارٍ يُؤْذِيهِ أَوْ بِزَوْجَةِ سَوْءٍ فَإِنْ عُوفِيَ مِنْ ذَلِكَ كُلِّهِ شَدَّدَ اللَّهُ عَلَيْهِ فِي النَّزْعِ عِنْدَ خُرُوجِ رُوحِهِ حَتَّى يَخْرُجَ مِنَ الدُّنْيَا وَ لَا ذَنْبَ عَلَيْهِ فَقُلْتُ فِدَاكَ أَبِي وَ أُمِّي لَا بُدَّ مِنْ رَدِّ الْمَظَالِمِ فَقَالَ صلوات الله علیه إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى جَعَلَ حِسَابَ خَلْقِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَى مُحَمَّدٍ وَ عَلِيٍّ (صلی الله علیهما و آلهما) فَكُلُّ مَا كَانَ عَلَى شِيعَتِنَا حَسَبْنَاهُ مِنَ الْخُمُسِ فِي أَمْوَالِهِمْ وَ كُلُّ مَا كَانَ بَيْنَهُمْ وَ بَيْنَ خَالِقِهِمْ اسْتَوْهَبْنَاهُ مِنْهُ وَ لَمْ نَزَلْ بِهِ حَتَّى نُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ بِرَحْمَةٍ مِنَ اللَّهِ وَ شَفَاعَةٍ مِنْ مُحَمَّدٍ وَ عَلِيٍّ (صلی الله علیهما و آلهما) حَتَّى لَا يَدْخُلَ أَحَدٌ مِنْ شِيعَتِنَا النَّارَ.

صفوان جمّال بیان کرتے ہیں:

میں امام صادق علیہ السّلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا:

“میری جان آپ پر قربان ہو! میں نے سنا ہے کہ آپ فرماتے ہیں کہ ہمارے تمام شیعہ جنتی ہیں، حالانکہ ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو گناہ کرتے ہیں، برے اعمال کے مرتکب ہوتے ہیں، لوگوں کا مال ناحق کھاتے ہیں، شراب پیتے ہیں اور دنیا کی لذتوں میں مشغول رہتے ہیں۔”

امام صادقؑ نے فرمایا:

“ہاں، وہ اہلِ جنت ہیں۔ جان لو کہ ہمارے شیعوں میں سے کوئی مؤمن اس دنیا سے اس وقت تک رخصت نہیں ہوتا جب تک اللہ تعالیٰ اسے کسی نہ کسی آزمائش میں مبتلا نہ کرے، جیسے بیماری، فقر، قرض، ایسا ہمسایہ جو اسے اذیت دے، یا ناپسندیدہ شریکِ حیات۔ اگر وہ ان تمام آزمائشوں سے محفوظ بھی رہے تو اللہ تعالیٰ موت کے وقت اس کی جان نکلنے کو اس پر سخت کر دیتا ہے، یہاں تک کہ وہ اس حال میں دنیا سے رخصت ہوتا ہے کہ اس پر کوئی گناہ باقی نہیں رہتا۔”

صفوان جمّال کہتے ہیں:

میں نے عرض کیا: “میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں! لیکن حقوق العباد اور لوگوں کے قرضوں کا کیا ہوگا؟ ان کا تو ادا کرنا ضروری ہے۔”

امامؑ نے فرمایا:

“بے شک اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن اپنی مخلوق کے حساب کا اختیار اور کے سپرد فرمایا ہے۔ پس اگر ہمارے شیعوں کے ذمے ہمارے حقوق سے متعلق کوئی معاملہ ہوگا تو ہم خود اسے اپنے ذمہ لے لیں گے اور ان کے اموال میں ہمارے جو حقوق (جیسے خمس وغیرہ) ہیں، ان کے ذریعے اس کا حساب کر دیں گے۔ اور جو معاملہ ان کے اور ان کے پروردگار کے درمیان ہوگا، یعنی عبادات اور الٰہی فرائض میں کوتاہی، تو ہم اللہ تعالیٰ سے ان کے لیے مغفرت کی دعا کریں گے۔ ہم ہمیشہ اپنے شیعوں کے لیے اللہ سے بخشش طلب کرتے رہتے ہیں، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت اور محمد و آلِ محمدؑ کی شفاعت کے ذریعے انہیں جنت میں داخل فرما دے، تاکہ ہمارے شیعوں میں سے کوئی بھی جہنم میں داخل نہ ہو۔”

📚بحار الأنوار ج 65 ص 114

Leave a Reply

Your email address will not be published.