تحریر:سیدہ نصرت نقوی
دنیا آج ایک ایسے دور سے گزر رہی ہے جہاں جنگیں صرف سرحدوں پر نہیں لڑی جا رہیں، بلکہ گھروں، اسپتالوں، اسکولوں اور انسانی خوابوں کے اندر تک اتر چکی ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اس کربناک حقیقت کا مرکز ہے جہاں سیاست کے بڑے فیصلوں کے نیچے عام انسان کی سانسیں دبتی جا رہی ہیں۔
یہ وہ خطہ ہے جہاں ایک ماں آج بھی اپنے بچے کو اس امید پر سلاتی ہے کہ شاید کل صبح امن کے ساتھ طلوع ہو۔ مگر صبحیں اکثر دھماکوں کی آواز سے جاگتی ہیں، اور خواب مٹی میں دفن ہو جاتے ہیں۔ جنگ جب شروع ہوتی ہے تو اس کے نقشے بڑے بڑے ایوانوں میں بنتے ہیں، مگر اس کا خراج گلیوں میں کھیلتے بچوں اور بے گھر خاندانوں سے وصول کیا جاتا ہے۔
اس پورے بحران میں عالمی طاقتوں کی پالیسیوں نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورِ حکومت میں اختیار کی گئی بعض سخت گیر اور غیر متوازن حکمتِ عملیوں نے پہلے سے غیر مستحکم خطے میں مزید پیچیدگیاں پیدا کیں۔ ان فیصلوں نے سفارت کاری کے دروازوں کو کمزور اور طاقت کے استعمال کے رجحان کو زیادہ نمایاں کیا، جس کے اثرات آج بھی خطے کی سیاست اور امن پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔ تاہم یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کا بحران صرف ایک فرد یا ایک ملک کی پالیسی کا نتیجہ نہیں بلکہ دہائیوں پر محیط عالمی مداخلتوں، علاقائی رقابتوں اور طاقت کے توازن کی کشمکش کا مجموعہ ہے۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ جب فیصلے انسانی زندگی کے بجائے اسٹریٹجک مفادات کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں تو نتائج ہمیشہ انسان دشمن نکلتے ہیں۔ آج غزہ، شام، یمن اور دیگر خطوں میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ صرف خبروں کی سرخیاں نہیں بلکہ ٹوٹے ہوئے خاندانوں، یتیم بچوں اور اجڑی ہوئی بستیوں کی داستان ہے۔
اس جنگی ماحول نے دنیا کو کئی سنگین مسائل سے دوچار کر دیا ہے:
مہاجرین کا بحران، جہاں لاکھوں لوگ اپنی سرزمین چھوڑنے پر مجبور ہیں؛
معاشی عدم استحکام، جس نے عالمی منڈیوں اور توانائی کے نظام کو ہلا کر رکھ دیا ہے؛
نفسیاتی تباہی، جہاں ایک پوری نسل خوف اور عدم تحفظ کے سائے میں پروان چڑھ رہی ہے؛
اور سب سے بڑھ کر انسانی بے حسی، جو آہستہ آہستہ ایک عالمی رویہ بنتی جا رہی ہے۔
اصل المیہ یہ نہیں کہ جنگیں کیوں ہو رہی ہیں، اصل المیہ یہ ہے کہ انسانیت ان جنگوں کے عادی ہوتی جا رہی ہے۔ ہم خبروں کو دیکھتے ہیں، چند لمحے افسوس کرتے ہیں، اور پھر اگلی خبر میں گم ہو جاتے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ آج بھی اس سوال کا جواب مانگ رہا ہے کہ کیا طاقت ہمیشہ امن پر غالب رہے گی؟ یا کبھی ایسا وقت بھی آئے گا جب فیصلوں کی بنیاد صرف سیاست نہیں بلکہ انسان کی زندگی ہوگی؟
یہ تحریر کسی ایک فرد یا ملک کے خلاف نہیں، بلکہ اس پورے نظام کے خلاف ایک سوال ہے جس نے انسان کو مرکز سے ہٹا کر مفادات کو مرکز بنا دیا ہے۔
آخر میں سوال یہی رہتا ہے:
اگر انسان ہی محفوظ نہیں رہے گا تو پھر سیاست اور طاقت کا حاصل کیا ہے؟”
تنازعے کی انسانی قیمت | سیدہ نصرت نقوی

Leave a Reply