ایران اسرائیل جنگ 2026: بدلتا ہوا مشرقِ وسطیٰ اور عالمی سیاست کا نیا مرحلہ | سیدہ نصرت نقوی

ایران اسرائیل جنگ 2026: بدلتا ہوا مشرقِ وسطیٰ اور عالمی سیاست کا نیا مرحلہ | سیدہ نصرت نقوی

تحریر و ترتیب: سیدہ نصرت نقوی
2026 کی یہ جنگ صرف دو ریاستوں کے درمیان فوجی تصادم نہیں رہی بلکہ یہ پورے مشرقِ وسطیٰ کے سیاسی، عسکری اور نظریاتی توازن کو ہلا دینے والی ایک بڑی تاریخی کشمکش کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ اس جنگ نے نہ صرف خطے کی طاقتوں کو متحرک کیا بلکہ عالمی سیاست میں بھی نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
گزشتہ دنوں مختلف رپورٹس اور اطلاعات کے مطابق اسرائیل کو غیر معمولی عسکری دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ اطلاعات میں یہ بھی سامنے آیا کہ اسرائیلی فوجی اور انٹیلیجنس ڈھانچے کو شدید ضربیں لگیں۔ بعض خبروں کے مطابق اسرائیل کی فضائیہ کے اعلیٰ افسران اور خفیہ نیٹ ورک کو نقصان پہنچا جبکہ خفیہ ایجنسی Mossad کے کئی نیٹ ورکس خطے کے مختلف ممالک میں بے نقاب ہونے کی اطلاعات بھی گردش کرتی رہیں۔
اسی دوران اسرائیلی شہروں میں میزائل اور ڈرون حملوں کی خبریں بھی آئیں جن میں خاص طور پر Tel Aviv اور Haifa جیسے اہم شہری مراکز کا ذکر کیا گیا۔ ان حملوں کے نتیجے میں شہری علاقوں کو نقصان پہنچنے اور ہسپتالوں میں زخمیوں کی بڑی تعداد لائے جانے کی رپورٹس بھی سامنے آئیں۔
دوسری جانب اسرائیل نے بھی جوابی کارروائی کرتے ہوئے ایران اور خطے میں موجود اس کے اتحادیوں کے خلاف فضائی حملے کیے۔ لبنان میں Hezbollah کے ٹھکانوں پر بمباری اور غزہ میں Hamas کے خلاف کارروائیاں اسی کشیدگی کا حصہ بنیں۔
یہ جنگ صرف دو ممالک تک محدود نہیں رہی بلکہ پورے خطے میں پھیلتی ہوئی محسوس ہونے لگی۔ United States کھل کر اسرائیل کی حمایت کرتا دکھائی دیا جبکہ خلیجی ممالک نے محتاط اور محتاط تر پالیسی اختیار کی۔ Saudi Arabia اور United Arab Emirates جیسے ممالک نے کھلے عام جنگ میں شامل ہونے سے گریز کیا اور زیادہ تر بیانات سفارتی نوعیت کے رہے۔
اسی پس منظر میں اسرائیلی وزیر اعظم Benjamin Netanyahu کی قیادت پر بھی دباؤ کی خبریں سامنے آئیں۔ جنگ کے دوران اسرائیلی قیادت کے بارے میں کئی افواہیں اور غیر مصدقہ خبریں بھی پھیلتی رہیں، تاہم ان میں سے اکثر کی باضابطہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
ایران کی عسکری حکمتِ عملی
ایران نے اس جنگ میں جس چیز پر سب سے زیادہ انحصار کیا وہ اس کی میزائل اور ڈرون ٹیکنالوجی تھی۔ اطلاعات کے مطابق ایران نے بیلسٹک میزائل، کروز میزائل اور خودکش ڈرونز کے ذریعے حملے کیے۔ ان میں Shahed‑136 drone جیسے ڈرون اور مختلف طویل فاصلے کے میزائل شامل تھے۔
ان حملوں کا مقصد اسرائیل کے فوجی مراکز اور اس کے انفراسٹرکچر کو دباؤ میں لانا تھا۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق یہ ایران کی کئی دہائیوں پر محیط عسکری تیاریوں کا نتیجہ تھا۔
اسکاٹ رِٹر کی وارننگ اور پاکستان کا سوال
اس صورتحال میں ایک اہم تجزیہ معروف امریکی سابق انٹیلیجنس افسر Scott Ritter کی طرف سے سامنے آیا۔ انہوں نے پاکستان کے حوالے سے ایک اہم انتباہ دیا:
پاکستان اگر اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہوا تو یہ خودکشی ہوگی۔” پاکستان کو اس معاملے میں انتہائی احتیاط برتنی ہوگی کیونکہ پاکستان کی داخلی سماجی اور مذہبی ساخت اس معاملے کو بہت حساس بنا دیتی ہے۔
پاکستان میں شیعہ آبادی بھی نمایاں ہے اور مختلف مذہبی و سیاسی حلقے اسرائیل کے خلاف شدید جذبات رکھتے ہیں۔ اگر پاکستانی حکومت اسرائیل کی کھلی حمایت کرتی ہے تو یہ اندرونی سیاسی بحران کو جنم دے سکتا ہے۔ اگر پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہو کر اس ملک کے خلاف صف بندی کرتا ہے جو اسرائیل کے مقابلے میں کھڑا ہے تو یہ خود پاکستانی حکومت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
ان کے مطابق ایسی صورتحال پاکستان کے اندرونی سیاسی استحکام کو متاثر کر سکتی ہے اور یہاں تک کہ ریاستی اداروں کے درمیان اختلافات کو بھی بڑھا سکتی ہے۔
ایران کی طویل المدتی جنگی تیاری
اسکاٹ رِٹر کے مطابق ایران کی موجودہ جنگی صلاحیتیں اچانک پیدا نہیں ہوئیں بلکہ اس کے پیچھے دو دہائیوں سے زیادہ عرصے کی منصوبہ بندی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ 2005 میں جب امریکی قیادت نے ایران پر ممکنہ حملے کی دھمکیاں دیں تو ایران نے اپنے ملک کو بارہ فوجی اضلاع میں تقسیم کر دیا اور ایک طویل المدتی دفاعی حکمت عملی بنانا شروع کر دی۔
ان کے مطابق گزشتہ بیس سالوں میں ایران نے:
میزائل پروگرام کو مسلسل وسعت دی
دفاعی نیٹ ورک مضبوط کیا
معلومات اور انٹیلیجنس نظام بہتر بنایا
جنگی منصوبہ بندی کو مرحلہ وار مکمل کیا
اسی وجہ سے ان کے مطابق ایران کو اس جنگ میں کسی بڑی حیرت کا سامنا نہیں ہوا کیونکہ وہ پہلے سے اس نوعیت کے تصادم کی تیاری کر رہا تھا۔
عمارتوں کی تباہی اور جنگ کی حقیقت
اسکاٹ رِٹر نے ایک اور اہم نکتہ بھی اٹھایا۔ ان کے مطابق جنگ میں عمارتوں کی تباہی کو اکثر اصل عسکری کامیابی سمجھ لیا جاتا ہے، حالانکہ ایسا ہمیشہ نہیں ہوتا۔
انہوں نے 1990 کی دہائی کی ایک مثال دیتے ہوئے کہا کہ ایک عراقی عہدیدار نے انہیں بتایا تھا کہ امریکی فوج عمارتیں تباہ کرنے میں بہت ماہر ہے لیکن عراقی لوگ دوبارہ تعمیر کرنے میں ماہر ہیں۔
ان کے مطابق اگر کوئی ملک اپنی عسکری صلاحیتوں کو بکھرے ہوئے نظام میں منتقل کر دے تو صرف عمارتوں کو تباہ کرنا اس کی اصل طاقت کو ختم نہیں کر سکتا۔
ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ نے مشرقِ وسطیٰ کے سیاسی اور عسکری توازن کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ یہ جنگ نہ صرف فوجی طاقت بلکہ نظریاتی اور جیوپولیٹیکل تصادم کی بھی نمائندگی کرتی ہے۔
خطے کے ممالک اس کشمکش کو انتہائی احتیاط کے ساتھ دیکھ رہے ہیں کیونکہ کسی بھی غلط قدم سے جنگ پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔
اس جنگ نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا ہے کہ جدید دور میں طاقت صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ طویل المدتی حکمت عملی، سیاسی اتحادوں اور داخلی استحکام سے بھی طے ہوتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.