شہید رہبر ایران سعودی عرب سے تعلقات مضبوط بنانے کے حامی تھے | ایرانی سفیر علیرضا عنایتی

شہید رہبر ایران سعودی عرب سے تعلقات مضبوط بنانے کے حامی تھے | ایرانی سفیر علیرضا عنایتی

رپورٹ: نوائے نصرت (ڈیسک نیوز)

سعودی عرب میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر علیرضا عنایتی نے اپنے ایک اہم نوٹ میں شہید رہبر ایران آیت اللہ خامنہ ای کے ایران اور سعودی عرب کے تعلقات سے متعلق مؤقف کو اجاگر کیا ہے۔ علیرضا عنایتی کے مطابق شہید رہبر ایران خطے میں امن، استحکام، باہمی احترام اور حسنِ ہمسائیگی کی پالیسی کو اہمیت دیتے تھے۔ ان کا مؤقف تھا کہ اسلامی ممالک کے درمیان تعاون اور مضبوط سفارتی روابط نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے کے مفاد میں ہیں۔

ایرانی سفیر نے لکھا کہ شہید رہبر ایران صہیونی حکومت کی پالیسیوں کے سخت مخالف، فلسطینی عوام کے حقوق کے مضبوط حامی اور امتِ مسلمہ کے اتحاد کے داعی تھے۔ ان کے نزدیک فلسطین کا مسئلہ اسلامی دنیا کا بنیادی مسئلہ تھا، جبکہ مسلم ممالک کے درمیان اختلافات کو کم کرنا اور باہمی تعاون کو فروغ دینا ایک ضروری سیاسی اور دینی ذمہ داری تھی۔

اسی تناظر میں گزشتہ سال سعودی عرب کے وزیرِ دفاع کے ایران کے دورے کے دوران انہیں رہبرِ انقلاب سے ملاقات کا موقع ملا۔ اس ملاقات میں دوطرفہ تعلقات، خطے کی صورتِ حال، مسلم دنیا کے مشترکہ مفادات اور ایران و سعودی عرب کے درمیان تعاون کے امکانات پر گفتگو ہوئی۔ سعودی وزیرِ دفاع نے ایران اور سعودی عرب کے تعلقات کو مزید وسعت دینے کی خواہش کا اظہار کیا، جس پر شہید رہبر ایران نے ایک اہم تاریخی گفتگو کا حوالہ دیا۔

شہید آیت اللہ خامنہ ای نے فرمایا کہ کئی برس پہلے شاہ عبداللہ بھی اسی مقام پر موجود تھے، اور اس وقت انہیں کہا گیا تھا کہ ایران مملکتِ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانا اپنے مفاد میں سمجھتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر سعودی عرب بھی اسی سوچ کے ساتھ آگے بڑھے تو دونوں ممالک کے تعلقات پہلے سے زیادہ مضبوط، وسیع اور مؤثر ہو سکتے ہیں۔

یہ بیان ایران کی خارجہ پالیسی میں سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ ایران اور سعودی عرب مشرق وسطیٰ کے دو اہم ممالک ہیں، جن کے باہمی تعلقات کا اثر خلیج، یمن، عراق، شام، لبنان، فلسطین اور پوری اسلامی دنیا کی سیاسی فضا پر پڑتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں، اقتصادی تعاون، مذہبی روابط اور علاقائی مکالمے کے فروغ سے خطے میں کشیدگی کم کرنے کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔

علیرضا عنایتی کے اس نوٹ سے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ شہید رہبر ایران کی پالیسی صرف مزاحمت اور فلسطین کی حمایت تک محدود نہیں تھی، بلکہ وہ اسلامی ممالک کے درمیان احترام، تعاون، خودمختاری اور باہمی مفاد کی بنیاد پر تعلقات کے فروغ کے حامی تھے۔ ایران اور سعودی عرب کے درمیان بہتر روابط کو تہران اور ریاض دونوں کے لیے ایک اہم سفارتی موقع سمجھا جا رہا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.