تحریر: سیدہ نصرت نقوی
آج کے دور کا سب سے بڑا مسلہ ناقص تربیت ہے جس میں دونوں والدین برابر کے شریک ہیں اس کی درجہ بندی کے لحاظ سے کہنا چاہوگی کہ آج کی عورت، جو بیک وقت ایک ماں، بیٹی، بیوی اور بہن کے رشتے نبھا رہی ہے، اس کی ذمہ داریاں ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ بڑھ گئی ہیں۔ وقت کی تیزی نے جہاں سہولیات مہیا کی ہیں، وہیں انسان کو اپنے وجود، رشتوں اور روحانی تعلق سے دور بھی کر دیا ہے۔ ایسے میں ماں کا کردار سب سے اہم اور بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر معاشرے کو سنوارنا ہو، نسلوں کو بیدار اور فکری طور پر مضبوط کرنا ہو، تو ماں کی گود سے بہتر کوئی درسگاہ نہیں۔
والدین کے پاس آج شاید اپنے لیے وقت نہ ہو، مگر اپنی اولاد کی تربیت کے لیے وقت نکالنا ان کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ یہ تربیت صرف کھانے، پہننے اور سونے کے اصولوں تک محدود نہیں، بلکہ بچوں کے دل و دماغ میں یہ شعور بٹھانا کہ زندگی کا مقصد صرف دنیا کمانا نہیں، بلکہ اپنے رب کی رضا حاصل کرنا ہے۔ والدین کا ہر عمل بچے کے ذہن پر اثر انداز ہوتا ہے۔ ماں، باپ اگر خود تعلیم یافتہ ہوں ، تو نسلیں جاہل نہیں رہتیں۔ تعلیم صرف کتابی علم کا نام نہیں، بلکہ سوچ، فہم اور شعور کا نام ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ خود کو دینی و دنیاوی علم سے آراستہ کریں ، تاکہ اپنی اولاد کی فکری اور روحانی تربیت بہتر انداز میں کر سکیں ۔
رشتوں کی درجہ بندی اور ان کا ادب سکھانا بھی والدین کا فرض ہے۔ یہ بتانا کہ نانی، دادی، ماموں، خالہ اور دیگر رشتے کس مقام کے حامل ہیں، اور ان سے کیسے پیش آنا چاہیے۔ آج کے دور میں یہ احساس ختم ہوتا جا رہا ہے، کیونکہ ہم نے رشتوں کو محض ضرورت کے وقت یاد کرنے کا طریقہ اپنا لیا ہے۔ جب تک والدین خود ان رشتوں کو عزت اور مقام نہیں دیں گے، اولاد بھی ان کی قدر نہیں کرے گی۔
عورت کا اپنا کردار بھی اس تربیت کا اہم حصہ ہے۔ اگر وہ خود پاکیزہ ہو، نجاست اور ظاہری و باطنی صفائی کا اہتمام کرے، وضو کی حالت میں کھانا بنائے، نہا دھو کر دودھ پلائے، اور نماز و قرآن کو اپنی زندگی کا حصہ بنائے، تو وہ اپنے عمل کے ذریعے اولاد کو بے آواز درس دے رہی ہوتی ہے۔ گھرداری اور تربیت کا بہترین نمونہ سیدہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی سیرت ہے۔ انہوں نے محدود وسائل میں بھی اپنے گھر اور بچوں کو بہترین طریقے سے سنبھالا اور اپنے بچوں کو ایسی تربیت دی کہ تاریخ نے انہیں یاد رکھا۔
اسی طرح مرد کو بھی چاہیے کہ وہ مولا علی علیہ السلام کی سیرت کو اپنائے، تاکہ گھر میں فضا محبت، شفقت اور احترام کی ہو۔ بچوں کو نہ صرف سنا جائے، بلکہ انہیں اپنی بات کہنے کی جگہ دی جائے۔ اکثر ماں باپ بچوں کی بات کو غیر اہم سمجھ کر رد کر دیتے ہیں، جس سے بچے احساس کمتری اور بے اعتمادی کا شکار ہو جاتے ہیں۔
والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کی باتوں کو تحمل سے سنیں ، ان کے سوالات کا جواب دیں ، ان کے دل کی دنیا میں جھانکیں ، اور ان کی سوچ کو مثبت رخ دیں۔
آج کی عورت کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی ذات، اپنی روحانیت، اپنی تعلیم اور اپنے کردار پر توجہ دے۔ وقت کی کمی محض ایک بہانہ ہے، اصل بات ترجیح کی ہے۔ جس کام کو ہم اہم سمجھیں، اس کے لیے وقت نکال ہی لیتے ہیں۔ اگر اولاد کی صحیح تربیت کو اپنی اولین ترجیح بنا لیا جائے، تو نہ صرف گھر کا ماحول پرامن اور خوشحال ہو گا، بلکہ معاشرہ بھی سنورے گا۔ کیونکہ صالح ماں کی گود سے ہی صالح نسل جنم لیتی ہے، اور وہی نسل کل کا بہتر معاشرہ تشکیل دیتی ہے۔ عورت اگر اپنی ذات میں پاکیزگی، علم، محبت، اور بصیرت پیدا کرے، تو وہ اپنے گھر کو جنت کا نمونہ بنا سکتی ہے، اور یہی اس کا اصل کردار اور حقیقی کامیابی ہے۔
آخر میں اپنے مرد قارئین سے کہنا چاہوگی کہ وہ عورت کو محبت اور عزت دیں وہ یقینا آپ کے بچوں کی پرورش میں بہترین معاون ثابت ہوگی۔ اور تربیت کرنا صرف عورت ہی کی زمہ داری نہیں مرد کا بھی اس میں برابر کا حصہ ہے۔
حق مردانگی صرف بستر پہ بیوی کے حقوق ادا کرنے کو نہیں کہا جاتا ہے، اگر آپ باھر ملازمت ، بزنس وغیرہ کرتے ہیں تو اپنے رزق کو حلال طریقے سے کمائیں باھر کی عورتوں سے غلط تعلقات رزق میں بے برکتی اور بچوں کی تربیت پہ اثر انداز ہوتے ہیں یہ وہ عوامل ہیں جن کا تدارک ممکن نہیں ۔
خدارا ہوش میں آجائیں اسلام نے چار شادیوں کا اہتمام رکھا ہے لیکن انصاف کیجیے ، جب آپ ایک بیوی کیساتھ مخلص نہیں ہوگے تو چار کا شوق بے معنی ہے۔
خدا ہمیں اپنے آپ کو صالح رکھنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ الہی أمین

Leave a Reply