سید الشھداء کی عزاداری کی اہمیت

جو افراد سید الشہداء حضرت امام حسینؑ کی زیارت اور عزاداری میں رکاوٹ بنتے ہیں، وہ عذابِ الٰہی کے منتظر رہیں.

 

عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَیْمَانَ عَنْ عَمِّهِ قَالَ: لَمَّا خِفْنَا أَیَّامَ الْحَجَّاجِ خَرَجَ نَفَرٌ مِنَّا مِنَ الْکُوفَهِ مُسْتَتِرِینَ وَ خَرَجْتُ مَعَهُمْ فَصِرْنَا إِلَی کَرْبَلَاءَ وَ لَیْسَ بِهَا مَوْضِعٌ نَسْکُنُهُ فَبَنَیْنَا کُوخاً عَلَی شَاطِئِ الْفُرَاتِ وَ قُلْنَا نَأْوِی إِلَیْهِ فَبَیْنَا نَحْنُ فِیهِ إِذْ جَاءَنَا رَجُلٌ غَرِیبٌ فَقَالَ أَصِیرُ مَعَکُمْ فِی هَذَا الْکُوخِ اللَّیْلَهَ فَأَنَا عَابِرُ سَبِیلٍ فَأَجَبْنَاهُ وَ قُلْنَا غَرِیبٌ مُنْقَطَعٌ بِهِ فَلَمَّا غَرَبَتِ الشَّمْسُ وَ أَظْلَمَ اللَّیْلُ أَشْعَلْنَا وَ کُنَّا نُشْعِلُ بِالنِّفْطِ ثُمَّ جَلَسْنَا نَتَذَاکَرُ أَمْرَ الْحُسَیْنِ وَ مُصِیبَتَهُ وَ قَتْلَهُ وَ مَنْ تَوَلَّاهُ فَقُلْنَا مَا بَقِیَ أَحَدٌ مِنْ قَتَلَهِ الْحُسَیْنِ إِلَّا رَمَاهُ اللَّهُ بِبَلِیَّهٍ فِی بَدَنِهِ فَقَالَ ذَلِکَ الرَّجُلُ فَأَنَا کُنْتُ فِیمَنْ قَتَلَهُ وَ اللَّهِ مَا أَصَابَنِی سُوءٌ وَ إِنَّکُمْ یَا قَوْمِ تَکْذِبُونَ فَأَمْسَکْنَا عَنْهُ وَ قَلَّ ضَوْءُ النِّفْطِ فَقَامَ ذَلِکَ الرَّجُلُ لِیُصْلِحَ الْفَتِیلَهَ بِإِصْبَعِهِ فَأَخَذَتِ النَّارُ کَفَّهُ فَخَرَجَ نَادّاً حَتَّی أَلْقَی نَفْسَهُ فِی الْفُرَاتِ یَتَغَوَّثُ بِهِ فَوَ اللَّهِ لَقَدْ رَأَیْنَا یُدْخِلُ رَأْسَهُ فِی الْمَاءِ وَ النَّارُ عَلَی وَجْهِ الْمَاءِ فَإِذَا أَخْرَجَ رَأْسَهُ سَرَتِ النَّارُ إِلَیْهِ فَیَغُوصُهُ إِلَی الْمَاءِ ثُمَّ یُخْرِجُهُ فَتَعُودُ إِلَیْهِ فَلَمْ یَزَلْ ذَلِکَ دَأْبَهُ حَتَّی هَلَکَ.

️ محمد بن سلیمان کے چچا بیان کرتے ہیں: حجاج کے دورِ حکومت میں، جب ہم امام حسینؑ کی زیارت کے لیے جانے سے خوفزدہ تھے، میں اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ خفیہ طور پر کربلا روانہ ہوا۔ کربلا پہنچ کر ہمیں قیام کے لیے کوئی جگہ نہ ملی، لہٰذا ہم نے دریائے فرات کے کنارے ایک جھونپڑی بنا لی۔ اسی دوران ایک اجنبی شخص آیا اور کہنے لگا: “میں مسافر ہوں، کیا آج رات آپ کے ساتھ اس جھونپڑی میں رہ سکتا ہوں؟” ہم نے اسے اجازت دے دی اور کہا کہ یہ ایک پردیسی شخص ہے اور بے سہارا معلوم ہوتا ہے۔ جب سورج غروب ہوا اور رات کی تاریکی چھا گئی تو ہم نے اپنا تیل والا چراغ روشن کیا اور بیٹھ کر امام حسینؑ کی شہادت، ان کی مظلومیت اور ان سے محبت کرنے والوں کے حالات کا تذکرہ کرنے لگے۔ گفتگو کے دوران ہم نے کہا: “امام حسینؑ کے قاتلوں میں سے کوئی ایسا باقی نہیں رہا جسے اللہ تعالیٰ نے کسی نہ کسی عذاب میں مبتلا نہ کیا ہو۔” یہ سن کر وہ اجنبی بولا: “میں انہی لوگوں میں سے ہوں جنہوں نے امام حسینؑ کو قتل کیا تھا۔ خدا کی قسم! مجھے تو آج تک کوئی تکلیف یا مصیبت نہیں پہنچی۔ تم لوگ جھوٹ بولتے ہو۔” ہم خاموش رہے اور اس سے کوئی بحث نہ کی۔ کچھ دیر بعد چراغ کی روشنی مدھم ہونے لگی۔ وہ شخص اٹھا تاکہ اپنی انگلی سے چراغ کی بتی درست کرے۔ اچانک اس کی ہتھیلی میں آگ بھڑک اٹھی۔ وہ گھبرا کر اٹھا اور دریائے فرات کی طرف دوڑا، پھر خود کو پانی میں پھینک دیا اور فریاد کرنے لگا۔ راوی کہتے ہیں: “خدا کی قسم! ہم دیکھ رہے تھے کہ جب وہ اپنا سر پانی کے اندر کرتا تو آگ پانی کی سطح پر باقی رہتی، اور جیسے ہی سر باہر نکالتا، آگ اس کے سر اور جسم کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی۔ وہ بار بار پانی میں ڈبکیاں لگاتا رہا مگر آگ اس کا پیچھا کرتی رہی۔ اسی حالت میں وہ عذاب میں مبتلا رہا یہاں تک کہ ہلاک ہو گیا۔”

#بحار الانوار، جلد 45، صفحہ 307

#محرم_الحرام

#عاشورا

#آجرک_اللہ_یا_صاحب_الزمان

کربلا روضہ امام حسین علیہ السّلام

#امام_حسینؑ

Leave a Reply

Your email address will not be published.