ٹرمپ کو مؤقف بدلنے پر مجبور کر دیا، ہرمز ایرانی نگرانی میں چلے گی

ٹرمپ کو مؤقف بدلنے پر مجبور کر دیا، ہرمز ایرانی نگرانی میں چلے گی

سوئٹزرلینڈ مذاکرات میں ایران کی اہم سفارتی کامیابیاں، پابندیوں میں نرمی اور منجمد اثاثوں کی رہائی پر پیش رفت

نوائے نصرت :خصوصی رپورٹ
سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے چار فریقی مذاکرات کے بعد ایرانی مذاکراتی وفد کے سربراہ محمد باقر باقر قالیبافنے اہم انکشافات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے مذاکراتی میز پر ایسی مضبوط پوزیشن اختیار کی کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک گھنٹے کے اندر اپنا بیان تبدیل کرنا پڑا۔قالیباف کے مطابق مذاکرات کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کے انتظام، لبنان میں کشیدگی میں کمی، تیل سے متعلق پابندیوں میں نرمی اور ایران کے منجمد اثاثوں کی رہائی جیسے اہم معاملات پر نمایاں پیش رفت حاصل ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز بین الاقوامی قوانین کے دائرے میں رہتے ہوئے ایرانی انتظام و نگرانی کے تحت چلائی جائے گی اور اس حوالے سے خصوصی رابطہ مرکز قائم کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ مذاکراتی عمل کے دوران محاصرے کے خاتمے اور دو الگ الگ چھ ارب ڈالر کی منجمد رقوم کی رہائی کے انتظامات کو حتمی شکل دی گئی، جبکہ خام تیل، بینکاری، انشورنس اور نقل و حمل کے شعبوں میں بھی پیش رفت ہوئی ہے۔قالیباف نے واضح کیا کہ ایران آج بھی امریکہ پر اعتماد نہیں کرتا اور مذاکرات کے ہر مرحلے میں قومی مفادات اور خودمختاری کو اولین ترجیح دی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی دھمکی آمیز بیانات کے بعد ایرانی وفد نے احتجاجاً مذاکراتی نشست ترک کر دی اور بعد ازاں قطری اور پاکستانی ثالثوں کے ذریعے رابطے جاری رہے۔انہوں نے لبنان کے حوالے سے کہا کہ مذاکرات شروع ہونے کے بعد دشمن کی جارحیت میں واضح کمی آئی اور بڑی تعداد میں شہری اپنے گھروں کو واپس لوٹ سکے۔ ایران لبنان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔قالیباف نے اس بات پر زور دیا کہ میدان اور سفارت کاری ایک دوسرے کی تکمیل ہیں۔ ان کے مطابق حالیہ پیش رفت مسلح افواج کی طاقت، قومی استقامت اور فعال سفارت کاری کے مشترکہ نتیجے کے طور پر سامنے آئی ہے۔انہوں نے کہا کہ آئندہ مرحلہ قومی یکجہتی، عوامی بیداری اور علاقائی استحکام کا ہے، جس میں پوری قوم کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.