ایران۔اسرائیل تنازع، عالمی منافقت اور حقِ دفاع | تجزیاتی کالم از سیدہ نصرت نقوی

ایران۔اسرائیل تنازع، عالمی منافقت اور حقِ دفاع | تجزیاتی کالم از سیدہ نصرت نقوی

تحریر: سیدہ نصرت نقوی
دنیا کی سیاست میں بعض لمحات ایسے آتے ہیں جب صرف الفاظ نہیں بلکہ پوری تاریخ بولتی ہے۔ آج ایران کے خلاف امریکہ اور صہیونی ریاست کی جارحیت بھی ایسا ہی ایک لمحہ ہے، جہاں طاقت، قانون اور انسانیت کے دعوے اپنی اصل شکل میں بے نقاب ہو رہے ہیں۔
امریکہ اور صہیونی حکومت نے 28 فروری کو اسلامی انقلاب کے رہبر Ali Khamenei سمیت سینئر فوجی کمانڈروں اور عام شہریوں کو نشانہ بنا کر ایک مہلک فوجی مہم کا آغاز کیا۔ اس مہم کے دوران ایران کے مختلف شہروں میں فوجی اور شہری مقامات پر وسیع فضائی حملے کیے گئے، جن کے نتیجے میں بھاری جانی نقصان ہوا اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا۔
ایسے میں دنیا کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ جارحیت کے مقابلے میں خاموشی اختیار کرنا دراصل ظالم کی مدد کے مترادف ہوتا ہے۔ ایران کی قیادت نے بھی یہی واضح پیغام دیا ہے کہ ظلم کے سامنے سر جھکانا اس قوم کی تاریخ میں کبھی شامل نہیں رہا۔
ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر Mohammad Baqer Qalibaf نے دو ٹوک الفاظ میں اعلان کیا کہ ایران جنگ بندی کی تلاش میں نہیں بلکہ جارح کو ایسا منہ توڑ جواب دینے کے لیے پرعزم ہے جو اسے ہمیشہ کے لیے سبق سکھا دے۔ ان کے مطابق صہیونی ریاست اپنی بقا کو ایک خطرناک چکر میں دیکھتی ہے: جنگ، مذاکرات، جنگ بندی اور پھر دوبارہ جنگ۔ یہ وہ شیطانی دائرہ ہے جس کے ذریعے وہ اپنی بالادستی کو قائم رکھنا چاہتی ہے۔ لیکن ایران نے اعلان کر دیا ہے کہ یہ چکر اب ٹوٹنے والا ہے۔
دوسری جانب ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان Esmaeil Baqaei نے اس جنگ کو بین الاقوامی قانون اور انسانی اصولوں کے خلاف کھلی بغاوت قرار دیا۔ ان کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کی غیر قانونی جارحیت نے نہ صرف سفارتی کوششوں کو تباہ کر دیا ہے بلکہ عالمی قانون کی بنیادوں کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایران اس وقت بین الاقوامی قانون کے تحت اپنے فطری حقِ دفاع کا استعمال کر رہا ہے۔ اگر دنیا ایسے کھلے مظالم کے سامنے خاموش رہی تو یہ خاموشی عالمی قانونی نظام کی ساکھ کو مزید کمزور کر دے گی اور مستقبل کے جارحین کو مزید بے باک بنا دے گی۔
مغربی دنیا کی منافقت اس وقت مزید نمایاں ہو گئی جب یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ Kaja Kallas نے ایران پر الزام لگایا کہ وہ خطے میں آگ بھڑکا رہا ہے۔
اس الزام کے جواب میں اسماعیل بقائی نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ یہ کھلی منافقت اور دہرا معیار ہے۔ یورپی یونین نے اپنا اخلاقی اور سیاسی قبلہ کھو دیا ہے اور وہ بار بار جارحیت کرنے والوں اور جنگی مجرموں کو خوش کرنے کا راستہ اختیار کرتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایران اپنے ہمسایوں کو اندھا دھند نشانہ نہیں بنا رہا بلکہ ان فوجی اڈوں اور اثاثوں کو ہدف بنا رہا ہے جنہیں اس کے خلاف حملوں کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
یہ جنگ صرف میزائلوں اور ڈرونز کی جنگ نہیں ہے بلکہ بیانیوں اور ضمیر کی جنگ بھی ہے۔ ایران کی مسلح افواج نے جوابی کارروائیوں میں مقبوضہ علاقوں اور خطے میں موجود امریکی و اسرائیلی اہداف کو میزائلوں اور ڈرونز کی بارش سے نشانہ بنایا ہے۔
لیکن اس جنگ کی انسانی قیمت بھی بہت بڑی ہے۔ ایران کی فاؤنڈیشن آف شہداء و امورِ ایثارگران کے مطابق 5 مارچ تک ان حملوں میں شہید ہونے والے 1,230 ایرانیوں کی نماز جنازہ ادا کی جا چکی ہے۔ یہ اعداد و شمار اس حقیقت کی گواہی دیتے ہیں کہ یہ صرف ایک فوجی مہم نہیں بلکہ انسانیت پر حملہ ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی ظلم نے خود کو ناقابلِ شکست سمجھا ہے، اسی لمحے اس کے زوال کا آغاز ہوا ہے۔ ایران کے خلاف جاری جارحیت بھی اسی تاریخ کا ایک باب بن رہی ہے۔
ایران نے واضح کر دیا ہے کہ وہ نہ خوفزدہ ہے، نہ تنہا اور نہ ہی اپنے حقِ دفاع سے دستبردار ہونے والا ہے۔
شاید یہی وہ لمحہ ہے جب دنیا کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ طاقت کے سامنے سر جھکانے والوں میں شامل ہوگی یا انصاف کے ساتھ کھڑی ہونے والوں میں۔ کیونکہ تاریخ ہمیشہ یاد رکھتی ہے کہ ظلم کے زمانے میں کون خاموش تھا اور کون حق کے ساتھ کھڑا ہوا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.