امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برازیل سے آنے والی بیشتر درآمدات پر 25 فیصد ٹیرف عائد کرنے کی ہدایت دی۔ مارکو روبیو کے مطابق برازیل نے امریکہ کے ساتھ نیک نیتی سے مذاکرات نہیں کیے۔
نوائے نصرت | بین الاقوامی نیوز ڈیسک
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برازیل کے ساتھ تجارتی تعلقات کے حوالے سے ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے امریکی تجارتی نمائندے (USTR) کو ہدایت دی ہے کہ برازیل سے درآمد ہونے والی بیشتر مصنوعات پر 25 فیصد ٹیرف نافذ کیا جائے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اس فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر بیان جاری کیا۔ ان کے مطابق صدر ٹرمپ کا مؤقف ہے کہ برازیل کی موجودہ حکومت نے امریکہ کے ساتھ تجارتی مذاکرات میں مطلوبہ سنجیدگی اور نیک نیتی کا مظاہرہ نہیں کیا، جس کے باعث یہ اقدام ضروری سمجھا گیا۔
روبیو نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکہ اپنی تجارتی پالیسیوں کے ذریعے قومی اقتصادی مفادات کا تحفظ جاری رکھے گا اور ایسے ممالک کے ساتھ سخت رویہ اختیار کرے گا جو واشنگٹن کے مطابق منصفانہ تجارتی اصولوں کی پابندی نہیں کرتے۔
ماہرین کے مطابق برازیل امریکہ کا ایک اہم تجارتی شراکت دار ہے، اور 25 فیصد ٹیرف کے نفاذ سے دونوں ممالک کے درمیان تجارت، برآمدات اور درآمدات متاثر ہو سکتی ہیں۔ اس فیصلے کے اثرات زرعی مصنوعات، صنعتی سامان اور دیگر تجارتی شعبوں پر بھی مرتب ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ ٹیرف مکمل طور پر نافذ ہو جاتا ہے تو برازیلی برآمد کنندگان کو امریکی مارکیٹ میں سخت مقابلے اور اضافی لاگت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جبکہ امریکی درآمد کنندگان اور صارفین پر بھی اس کے معاشی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
دوسری جانب برازیل کی حکومت کی جانب سے اس فیصلے پر باضابطہ ردِعمل سامنے آنے کا انتظار ہے۔ امکان ہے کہ برازیلیا اس معاملے پر سفارتی یا تجارتی سطح پر اپنا مؤقف پیش کرے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی تجارت، درآمدی محصولات اور بین الاقوامی اقتصادی پالیسیوں پر مختلف ممالک کے درمیان اختلافات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

Leave a Reply