سپاہِ پاسداران کا اردن کے عوام سے پیغام، امریکی فوجی موجودگی پر مؤثر اقدامات کی اپیل

سپاہِ پاسداران کا اردن کے عوام سے پیغام، امریکی فوجی موجودگی پر مؤثر اقدامات کی اپیل

سپاہِ پاسدارانِ انقلاب اسلامی نے اپنے بیان میں اردن کے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو ایران کے خلاف حملوں کے لیے استعمال نہ ہونے دیں اور امریکی فوجی موجودگی کے خلاف مؤثر اقدامات کریں۔

نوائے نصرت | بین الاقوامی نیوز ڈیسک

سپاہِ پاسدارانِ انقلاب اسلامی (IRGC) نے اپنے تازہ بیان میں اردن کے عوام سے مخاطب ہوتے ہوئے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے ملک کی سرزمین کو ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔

بیان کے مطابق سپاہِ پاسداران کا مؤقف ہے کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران بعض فوجی اڈے اور تنصیبات ایران کے خلاف مبینہ کارروائیوں کے لیے استعمال کی جا رہی ہیں۔ اسی تناظر میں ایرانی فورس نے اردن کے عوام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے قومی مفادات، علاقائی امن اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

سپاہِ پاسداران کے اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اردن میں موجود امریکی فوجی موجودگی اور مفادات کے حوالے سے عوام کو مؤثر اقدامات کرنے چاہییں تاکہ ان کی سرزمین کسی بھی ایسے اقدام کا حصہ نہ بنے جو خطے میں مزید کشیدگی کا سبب بن سکتا ہو۔

اعلامیے میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ایران کا اختلاف اردن کے عوام سے نہیں بلکہ ان پالیسیوں سے ہے جن کے تحت، ایرانی مؤقف کے مطابق، خطے میں امریکی فوجی سرگرمیوں کو سہولت فراہم کی جاتی ہے۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے پورے مشرقِ وسطیٰ کی سیکیورٹی صورتحال کو انتہائی حساس بنا دیا ہے۔ مختلف ممالک کی عسکری سرگرمیوں، سفارتی رابطوں اور علاقائی اتحادوں پر عالمی سطح پر بھی گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔

واضح رہے کہ مذکورہ تمام نکات سپاہِ پاسدارانِ انقلاب اسلامی کے سرکاری بیان پر مبنی ہیں۔ اس خبر کی اشاعت کے وقت اردن کی حکومت یا امریکی حکام کی جانب سے اس بیان پر باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ اس میں کیے گئے دعوؤں اور مؤقف کی آزاد ذرائع سے تصدیق بھی نہیں ہو سکی۔

بین الاقوامی مبصرین کے مطابق موجودہ صورتحال میں ایسے بیانات خطے کی سیاسی، سفارتی اور عسکری فضا پر اثرانداز ہو سکتے ہیں، اس لیے تمام فریقین کے سرکاری مؤقف اور بعد میں سامنے آنے والی معلومات کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہوگا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.