ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کے مطابق اسلامی انقلاب کے پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے ساتھ مذاکرات ممکن نہیں۔ ایک صحافی کے سوال پر انہوں نے داعش کے خلاف کارروائی سے متعلق مثال بھی دی۔
نوائے نصرت | بین الاقوامی نیوز ڈیسک
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اسلامی انقلاب کے پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے ساتھ مذاکرات ممکن نہیں ہیں۔
میڈیا سے گفتگو کے دوران ایک صحافی نے ٹرمپ سے سوال کیا کہ آیا وہ جس طرح ماضی میں داعش کے خلاف کارروائی کی بات کرتے رہے، اسی طرح پاسدارانِ انقلاب کے خلاف بھی کارروائی کر سکتے ہیں؟
اس سوال کے جواب میں ٹرمپ نے کہا:
“جی ہاں، ممکن ہے۔ دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتا ہے۔”
ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان تعلقات مسلسل کشیدگی کا شکار ہیں اور خطے میں سیاسی و عسکری صورتحال عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان گزشتہ کئی برسوں سے جوہری پروگرام، علاقائی سلامتی، پابندیوں اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال سمیت مختلف معاملات پر اختلافات موجود ہیں۔ حالیہ مہینوں میں دونوں ممالک کے درمیان بیانات اور سفارتی کشیدگی میں مزید اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ کا تازہ بیان امریکی پالیسی کے ممکنہ مستقبل، ایران کے ساتھ تعلقات اور خطے میں جاری سفارتی کشیدگی کے تناظر میں اہم سمجھا جا رہا ہے۔ تاہم اس بیان کو فی الحال ایک سیاسی مؤقف کے طور پر دیکھا جا رہا ہے اور اس کے بعد کسی نئی پالیسی یا عملی اقدام کا باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔
واضح رہے کہ ٹرمپ کے اس بیان پر ایرانی حکام یا اسلامی انقلاب کے پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کی جانب سے فوری طور پر کوئی سرکاری ردِعمل سامنے نہیں آیا۔
بین الاقوامی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے بیانات خطے کی سفارتی فضا پر اثر ڈال سکتے ہیں، اس لیے مستقبل میں دونوں ممالک کی جانب سے اختیار کیے جانے والے عملی اقدامات پر عالمی برادری کی گہری نظر رہے گی۔

Leave a Reply