اردن میں امریکی اڈے پر میزائل حملے کا دعویٰ، سپاہِ پاسداران کا آپریشن “نصر 2” سے متعلق بیان

اردن میں امریکی اڈے پر میزائل حملے کا دعویٰ، سپاہِ پاسداران کا آپریشن “نصر 2” سے متعلق بیان

نوائے نصرت | بین الاقوامی نیوز ڈیسک

سپاہِ پاسدارانِ انقلاب اسلامی (IRGC) کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ آپریشن “نصر 2” کی آٹھویں لہر، جس کا کوڈ “یا زینب کبریٰ (س)” رکھا گیا، کے دوران اردن میں واقع الازرق فوجی اڈے پر موجود امریکی جنگی طیاروں کے ریمپ اور مغربی ایشیا میں قائم امریکی کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کو خیبر شکن بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔

بیان کے مطابق اس کارروائی کو ایران کی دفاعی حکمتِ عملی اور خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں انجام دیا گیا۔ سپاہِ پاسداران نے دعویٰ کیا کہ آپریشن میں جدید بیلسٹک میزائل استعمال کیے گئے جن کا ہدف امریکی فوجی تنصیبات تھیں۔ تاہم بیان میں نقصانات، جانی نقصان یا عسکری نتائج سے متعلق تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

تاحال اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی، جبکہ امریکی محکمہ دفاع (Pentagon)، اردن کی حکومت یا دیگر بین الاقوامی اداروں کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ اور مکمل ردِعمل سامنے نہیں آیا۔ اس لیے اس خبر کو سپاہِ پاسداران کے دعوے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کی مزید تصدیق کا انتظار ہے۔

گزشتہ چند ماہ کے دوران مشرقِ وسطیٰ میں ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے پورے خطے کی سیکیورٹی صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ خلیجی خطہ، عراق، شام، اردن اور آبنائے ہرمز سمیت متعدد مقامات عالمی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں، جبکہ سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں تاکہ کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکا جا سکے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایسے دعووں کی تصدیق ہوتی ہے تو یہ خطے کی سیکیورٹی صورتحال پر نمایاں اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ دوسری جانب اگر متعلقہ ممالک اس دعوے کی تردید کرتے ہیں تو معاملہ اطلاعاتی جنگ (Information Warfare) اور نفسیاتی دباؤ کے تناظر میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.