وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ انٹیلی جنس بریفنگز کے بعد ایران کے خلاف فوجی کارروائی کو مزید وسعت دینے کی جانب مائل ہیں۔
نوائے نصرت | بین الاقوامی نیوز ڈیسک
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل (The Wall Street Journal) نے امریکی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائی کو مزید وسعت دینے کی جانب مائل دکھائی دیتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے گزشتہ چند روز کے دوران متعدد انٹیلی جنس رپورٹس، عسکری جائزوں اور قومی سلامتی سے متعلق بریفنگز حاصل کیں، جن کے بعد ان کا رجحان ایران کے خلاف مزید سخت اور وسیع فوجی اقدامات کی طرف بڑھتا ہوا نظر آ رہا ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق امریکی انتظامیہ کے اندر مختلف عسکری اور سفارتی آپشنز پر غور جاری ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ابھی تک کسی نئے فوجی آپریشن کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا، تاہم مختلف امکانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ خطے میں حالیہ فوجی سرگرمیوں، سفارتی بیانات اور سیکیورٹی خدشات نے بین الاقوامی برادری کی تشویش میں اضافہ کیا ہے۔
دفاعی امور کے ماہرین کے مطابق اگر امریکی پالیسی واقعی مزید سخت فوجی اقدامات کی جانب بڑھتی ہے تو اس کے اثرات صرف ایران اور امریکہ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ، عالمی توانائی منڈیوں اور بین الاقوامی سلامتی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ یہ معلومات وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ اور امریکی حکام سے منسوب دعوؤں پر مبنی ہیں۔ اس خبر کی اشاعت کے وقت وائٹ ہاؤس یا امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ پالیسی اعلان سامنے نہیں آیا، جبکہ ایران نے بھی اس مخصوص رپورٹ پر فوری سرکاری ردِعمل جاری نہیں کیا۔
بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں میڈیا رپورٹس، سفارتی سرگرمیوں اور سرکاری بیانات کو یکجا کرکے دیکھنا ضروری ہے، کیونکہ خطے کی صورتحال تیزی سے تبدیل ہو سکتی ہے۔

Leave a Reply