آخر کب تک؟ معصوم بچیوں کے خلاف بڑھتے جرائم پر ایک دردناک سوال

آخر کب تک؟ معصوم بچیوں کے خلاف بڑھتے جرائم پر ایک دردناک سوال

تحریر: نوائے نصرت
معاشرے میں بچوں خصوصاً معصوم بچیوں کے خلاف بڑھتے ہوئے جرائم ایک انتہائی تشویشناک اور افسوسناک حقیقت بن چکے ہیں۔ آئے روز ایسے واقعات سامنے آتے ہیں جو نہ صرف متاثرہ خاندانوں بلکہ پوری انسانیت کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتے ہیں۔ جب ننھی کلیاں ظلم، تشدد اور درندگی کا نشانہ بنتی ہیں تو یہ صرف ایک فرد یا ایک خاندان کا نقصان نہیں ہوتا بلکہ یہ پورے معاشرے کی ناکامی تصور کی جاتی ہے۔
یہ تحریر اسی دردناک حقیقت کی طرف توجہ دلاتی ہے کہ آخر کب تک منتہا اور زینب جیسی معصوم بچیاں ظلم اور ہوس کا شکار بنتی رہیں گی؟ آخر کب تک ان کے خواب چھینے جاتے رہیں گے اور ان کی ہنسی خاموش ہوتی رہے گی؟ یہ صرف چند افراد کے جرائم کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک اجتماعی سماجی بحران ہے جس پر فوری توجہ اور مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔
بچوں کے تحفظ کے لیے صرف قانون سازی کافی نہیں بلکہ اس کے ساتھ سخت عملدرآمد، سماجی شعور، تعلیمی آگاہی اور والدین کی ذمہ داری بھی انتہائی اہم ہے۔ ماہرین کے مطابق بچوں کے خلاف جرائم کی روک تھام کے لیے معاشرے کے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ مستقبل میں کسی اور گھر کا چراغ نہ بجھے۔
یہ تحریر معاشرے کو خاموشی توڑنے، انصاف کے تقاضے پورے کرنے اور بچوں کے محفوظ مستقبل کے لیے اجتماعی ذمہ داری کا احساس دلانے کی ایک کوشش ہے۔ کیونکہ ہر بچہ محفوظ بچپن، محبت اور عزت کے ساتھ زندگی گزارنے کا حق رکھتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.