تحریر و ترتیب:سیدہ نصرت نقوی
آج کے ہنگامہ خیز عالمی منظرنامے میں، جہاں مشرقِ وسطیٰ مسلسل کشیدگی، جنگی خطرات اور بڑی طاقتوں کے تصادم کی زد میں ہے، وہاں عاصم منیر کا کردار ایک اہم اور متنازع حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ ایک طرف وہ عالمی اور علاقائی سطح پر ایک محتاط مگر فعال سفارتی حکمتِ عملی کے ساتھ سامنے آتے ہیں، تو دوسری طرف ملکی سطح پر ان کی قیادت کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔
پس منظر اور پیشہ ورانہ زندگی
عاصم منیر کا تعلق پاک فوج سے ہے، اور وہ ان چند جرنیلوں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے انٹیلی جنس کے دونوں بڑے اداروں ، آئی ایس آئی اور ملٹری انٹیلی جنس ، کی سربراہی کی۔ یہ تجربہ انہیں ایک سیکیورٹی اسٹیٹ کے پیچیدہ ڈھانچے کو سمجھنے میں غیر معمولی برتری دیتا ہے۔
ان کا امیج ایک سخت گیر، نظم و ضبط کے قائل اور مذہبی رجحان رکھنے والے کمانڈر کا رہا ہے۔ یہی خصوصیات ان کی قیادت کے انداز میں بھی جھلکتی ہیں۔
علاقائی سفارتکاری اور حالیہ کردار
مشرق وسطیٰ میں ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، اور اس کے اثرات پورے خطے پر مرتب ہونے کا خطرہ، ایک بڑے بحران کی شکل اختیار کر سکتا تھا۔ ایسے حالات میں پاکستان کا کردار نہایت نازک ہو جاتا ہے، کیونکہ اس کے تعلقات ایک طرف سعودی عرب سے ہیں اور دوسری طرف ایران سے سرحد بھی ملتی ہے۔
یہاں عاصم منیر کی حکمت عملی نسبتاً “خاموش سفارتکاری” پر مبنی نظر آتی ہے ۔ یعنی کھلے بیانات سے زیادہ پس پردہ روابط، توازن برقرار رکھنا، اور کسی ایک بلاک میں مکمل طور پر شامل ہونے سے گریز۔ اس انداز کو بعض حلقے “دانشمندانہ” قرار دیتے ہیں، کیونکہ اس سے پاکستان ممکنہ علاقائی جنگ کے اثرات سے خود کو کسی حد تک محفوظ رکھ سکتا ہے۔
داخلی سطح پر تضاد نظر آتا ہے لیکن یہی تصویر جب داخلی سیاست کی طرف آتی ہے تو یکسر بدل جاتی ہے۔ ملک کے اندر ایک بڑی تعداد عاصم منیر کو ایک ایسے طاقتور کردار کے طور پر دیکھتی ہے جو جمہوری عمل میں مداخلت، سیاسی دباؤ اور شہری آزادیوں کی قدغن سے جڑا ہوا ہے۔ یہاں سوال صرف پالیسی کا نہیں، بلکہ عوامی اعتماد کا ہے۔
یہ ایک عجیب تضاد ہے:
باہر: ایک محتاط، ذہین اور اسٹریٹجک جنرل
اندر: ایک متنازع، سخت گیر اور غیر مقبول چہرہ،
نظریاتی زاویہ سے
اگر ان کے ممکنہ “نظریے” کو سمجھنے کی کوشش کی جائے تو وہ شاید ریاستی استحکام کو ہر چیز پر فوقیت دینے کے قائل ہیں۔ اس سوچ میں:
سیکیورٹی . سیاست
نظم . آزادی
ریاستی کنٹرول عوامی بے چینی
یہی وجہ ہے کہ ان کے اقدامات کو کچھ لوگ “ریاست بچانے کی کوشش” کہتے ہیں، جبکہ دوسرے اسے “ریاستی جبر” قرار دیتے ہیں۔
کسی بھی لیڈر کا اصل امتحان صرف بیرونی کامیابی نہیں بلکہ داخلی ہم آہنگی بھی ہوتا ہے۔ اگر ایک رہنما عالمی سطح پر تعریف حاصل کرے مگر اپنے ہی عوام میں تقسیم پیدا کر دے، تو یہ کامیابی ادھوری رہ جاتی ہے۔
عاصم منیر کے معاملے میں بھی یہی سوال کھڑا ہوتا ہے:
کیا مضبوط سفارتکاری داخلی عدم اطمینان کا متبادل بن سکتی ہے؟
کیا ریاستی استحکام عوامی اعتماد کے بغیر قائم رہ سکتا ہے؟
عاصم منیر ایک سادہ کردار نہیں بلکہ ایک پیچیدہ مظہر ہیں . طاقت، حکمت عملی، مذہبی رجحان، اور سختی کا امتزاج۔ وہ بیک وقت تعریف اور تنقید دونوں کے مرکز میں ہیں۔ ان کی حالیہ علاقائی حکمت عملی کو اگر دانشمندی کہا جائے تو یہ بھی ماننا پڑے گا کہ داخلی سطح پر اعتماد کا بحران ایک بڑا چیلنج ہے۔
جہاں تک میں اپنا ذاتی نظریہ بیان کروں مجھے بہت آرزو ہے کہ میں سر عاصم منیر سے زندگی میں ایک بار ضرور ملوں۔ مشرق وسطی کے ان حالات سے پہلے ان کے فریم میں ان کا جو عکس میرے ذہن کے گوشوں میں پیوست تھا ان کے اس عظیم کارنامے کے بعد اس میں تھوڑی سی مثبت تبدیلی آئی ہے ان کی سوچتی گہری آنکھیں ، کسی عمیق فکر میں ڈوبا چہرہ ،زیر لب مسکراہٹ سے مزین ہونٹ لیکن انداز جارحانہ ، ایک پرکشش شخصیت رکھتے ہیں یعنی عاصم منیر بلاشک اتنا اثر رکھتے ہیں کہ دشمن بھی ان کی ذہانت کا اسیر ہوجائے۔ لیکن ان تمام باتوں کے باوجود
اصل سوال یہی ہے:
کیا وہ اس توازن کو برقرار رکھ سکیں گے، یا تاریخ انہیں ایک ایسے جنرل کے طور پر یاد رکھے گی جس نے باہر کامیابی حاصل کی مگر اندر سے کمزور رہا؟
یا تو وہ قوم کو ایک بار ، صرف ایک بار اعتماد میں لیں ، بلکہ اسی طرح جیسے والدین سختی کرتے ہیں اولاد کے فائدے کے لئے لیکن اولاد اسے اچھا نہیں سمجھتی ممکن ہے جنرل عاصم منیر بھی ہمارے لیے شاید وہی باپ ہو۔ جس کی تدبیر سے ہم واقف نہیں۔ لیکن اس طلسم کو انہیں بڑھ کر خود توڑنا ہوگا۔
پاکستان ذندہ باد
پائندہ باد
پاکستانی عوام آپ کے ساتھ ہے جنرل عاصم منیر کیونکہ آج آپ کی اسٹریٹجک پالیسی نے ہمارا سر فخر سے بلند کیا ہے مگر آپ عوام کو ریلیف دیں۔ شکریہ


Leave a Reply