دعائے عہد اہلِ بیتؑ کی معروف اور بابرکت دعاؤں میں سے ایک ہے جسے امام جعفر صادقؑ سے روایت کیا گیا ہے۔ اس دعا کا بنیادی مقصد امامِ عصر حضرت امام مہدیؑ سے اپنی وفاداری، اطاعت اور بیعت کی تجدید کرنا ہے۔ روایات کے مطابق جو شخص چالیس دن مسلسل دعائے عہد پڑھتا ہے وہ امامِ زمانہؑ کے حقیقی مددگاروں اور انصار میں شمار ہو سکتا ہے۔
آج کے دور میں جب دنیا مختلف فتنوں، آزمائشوں اور اخلاقی چیلنجز سے دوچار ہے، دعائے عہد مومنین کو اپنے امامؑ سے روحانی وابستگی مضبوط کرنے کا بہترین ذریعہ فراہم کرتی ہے۔ اس دعا میں بندہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہے کہ وہ اسے امامِ زمانہؑ کے ظہور کے وقت ان کے وفادار ساتھیوں میں شامل فرمائے اور دینِ اسلام کی سربلندی کے لیے خدمت کا موقع عطا کرے۔
دعائے عہد صرف ایک دعا نہیں بلکہ ایک عملی عہد اور ذمہ داری کا اظہار بھی ہے۔ اس کے ذریعے مومن اپنے دل میں یہ احساس تازہ کرتا ہے کہ وہ امامِ وقتؑ کی اطاعت، حق کی حمایت اور ظلم کے خلاف جدوجہد کے لیے ہمیشہ تیار رہے گا۔ یہی وجہ ہے کہ علماء کرام اور بزرگانِ دین روزانہ دعائے عہد کی تلاوت کی تاکید کرتے ہیں۔
دعائے عہد کی مسلسل تلاوت انسان کے ایمان کو مضبوط کرتی ہے، روحانی سکون عطا کرتی ہے اور اہلِ بیتؑ سے محبت میں اضافہ کرتی ہے۔ یہ دعا انسان کو یاد دلاتی ہے کہ امامِ زمانہؑ زندہ اور موجود ہیں اور اپنے ماننے والوں کے اعمال سے باخبر ہیں۔ مومن جب خلوصِ دل سے یہ دعا پڑھتا ہے تو اس کے دل میں ظہورِ امامؑ کی امید اور انتظار مزید مضبوط ہو جاتا ہے۔
نوائے نصرت کے اس خصوصی روحانی سلسلے میں قاری استاد فرہمند کی پُرسوز آواز میں دعائے عہد پیش کی جا رہی ہے تاکہ سامعین نہ صرف اس دعا کی برکات سے مستفید ہوں بلکہ امامِ زمانہؑ سے اپنے تعلق کو بھی مزید مستحکم بنا سکیں۔
🎙️ قاری: استاد فرہمند
📿 دعا:
اَللّٰہُمَّ عَجِّلْ لِوَلِیِّکَ الْفَرَج
ترجمہ:
اے اللہ! اپنے ولی حضرت امام مہدیؑ کے ظہور میں جلدی فرما۔
اللّٰهُمَّ رَبَّ النُّورِ الْعَظِيمِ، وَرَبَّ الْكُرْسِيِّ الرَّفِيعِ، وَرَبَّ الْبَحْرِ الْمَسْجُورِ، وَمُنْزِلَ التَّوْراةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالزَّبُورِ، وَرَبَّ الظِّلِّ وَالْحَرُورِ، وَمُنْزِلَ الْقُرْآنِ الْعَظِيمِ، وَرَبَّ الْمَلائِكَةِ الْمُقَرَّبِينَ وَالْأَنْبِياءِ وَ الْمُرْسَلِينَ .
اللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِوَجْهِكَ الْكَرِيمِ وَبِنُورِ وَجْهِكَ الْمُنِيرِ وَمُلْكِكَ الْقَدِيمِ، يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ، أَسْأَلُكَ بِاسْمِكَ الَّذِي أَشْرَقَتْ بِهِ السَّمَاواتُ وَالْأَرَضُونَ، وَبِاسْمِكَ الَّذِي يَصْلَحُ بِهِ الْأَوَّلُونَ وَالْآخِرُونَ، يَا حَيّاً قَبْلَ كُلِّ حَيٍّ، وَيَا حَيّاً بَعْدَ كُلِّ حَيٍّ، وَيَا حَيّاً حِينَ لَاحَيَّ، يَا مُحْيِيَ الْمَوْتىٰ، وَمُمِيتَ الْأَحْياءِ، يَا حَيُّ لَاإِلٰهَ إِلّا أَنْتَ؛
اللّٰهُمَّ بَلِّغْ مَوْلانَا الْإِمامَ الْهادِيَ الْمَهْدِيَّ الْقائِمَ بِأَمْرِكَ صَلَواتُ اللّٰهِ عَلَيْهِ وَعَلَىٰ آبائِهِ الطَّاهِرِينَ عَنْ جَمِيعِ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِناتِ فِي مَشارِقِ الْأَرْضِ وَمَغارِبِها، سَهْلِها وَجَبَلِها، وَبَرِّها وَبَحْرِها، وَعَنِّي وَعَنْ وَالِدَيَّ مِنَ الصَّلَواتِ زِنَةَ عَرْشِ اللّٰهِ، وَمِدادَ كَلِماتِهِ، وَمَا أَحْصاهُ عِلْمُهُ، وَأَحاطَ بِهِ كِتابُهُ
اللّٰهُمَّ إِنِّي أُجَدِّدُ لَهُ فِي صَبِيحَةِ يَوْمِي هٰذَا وَمَا عِشْتُ مِنْ أَيَّامِي عَهْداً وَعَقْداً وَبَيْعَةً لَهُ فِي عُنُقِي لَا أَحُولُ عَنْها وَلَا أَزُولُ أَبَداً، اللّٰهُمَّ اجْعَلْنِي مِنْ أَنْصارِهِ وَأَعْوانِهِ، وَالذَّابِّينَ عَنْهُ، والْمُسارِعِينَ إِلَيْهِ فِي قَضاءِ حَوَائِجِهِ، وَالْمُمْتَثِلِينَ لِأَوامِرِهِ ، وَالْمُحامِينَ عَنْهُ، وَالسَّابِقِينَ إِلىٰ إِرادَتِهِ، وَالْمُسْتَشْهَدِينَ بَيْنَ يَدَيْهِ
اللّٰهُمَّ إِنْ حالَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ الْمَوْتُ الَّذِي جَعَلْتَهُ عَلَىٰ عِبادِكَ حَتْماً مَقْضِيّاً فَأَخْرِجْنِي مِنْ قَبْرِي مُؤْتَزِراً كَفَنِي، شاهِراً سَيْفِي، مُجَرِّداً قَناتِي، مُلَبِّياً دَعْوَةَ الدَّاعِي فِي الْحاضِرِ وَالْبادِي . اللّٰهُمَّ أَرِنِي الطَّلْعَةَ الرَّشِيدَةَ، وَالْغُرَّةَ الْحَمِيدَةَ، وَاكْحَُلْ ناظِرِي بِنَظْرَةٍ مِنِّي إِلَيْهِ، وَعَجِّلْ فَرَجَهُ، وَسَهِّلْ مَخْرَجَهُ، وَأَوْسِعْ مَنْهَجَهُ، وَاسْلُكْ بِي مَحَجَّتَهُ، وَأَنْفِذْ أَمْرَهُ، وَاشْدُدْ أَزْرَهُ .
وَاعْمُرِ اللّٰهُمَّ بِهِ بِلادَكَ، وَأَحْيِ بِهِ عِبادَكَ، فَإِنَّكَ قُلْتَ وَقَوْلُكَ الْحَقُّ: ﴿ظَهَرَ الْفَسٰادُ فِي الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ بِمٰا كَسَبَتْ أَيْدِي النّٰاسِ﴾، فَأَظْهِرِ اللّٰهُمَّ لَنا وَلِيَّكَ وَابْنَ بِنْتِ نَبِيِّكَ الْمُسَمَّىٰ بِاسْمِ رَسُولِكَ، حَتَّىٰ لَايَظْفَرَ بِشَيْءٍ مِنَ الْباطِلِ إِلّا مَزَّقَهُ، وَيُحِقَّ الْحَقَّ وَيُحَقِّقَهُ
وَاجْعَلْهُ اللّٰهُمَّ مَفْزَعاً لِمَظْلُومِ عِبادِكَ، وَناصِراً لِمَنْ لَايَجِدُ لَهُ ناصِراً غَيْرَكَ، وَمُجَدِّداً لِمَا عُطِّلَ مِنْ أَحْكامِ كِتابِكَ، وَمُشَيِّداً لِمَا وَرَدَ مِنْ أَعْلامِ دِينِكَ وَسُنَنِ نَبِيِّكَ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وآلِهِ، وَاجْعَلْهُ اللّٰهُمَّ مِمَّنْ حَصَّنْتَهُ مِنْ بَأْسِ الْمُعْتَدِينَ .
اللّٰهُمَّ وَسُرَّ نَبِيَّكَ مُحَمَّداً صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وآلِهِ بِرُؤْيَتِهِ وَمَنْ تَبِعَهُ عَلَىٰ دَعْوَتِهِ، وَارْحَمِ اسْتِكانَتَنا بَعْدَهُ . اللَّهُمَّ اكْشِفْ هٰذِهِ الْغُمَّةَ عَنْ هٰذِهِ الْأُمَّةِ بِحُضُورِهِ، وَعَجِّلْ لَنا ظُهُورَهُ، إِنَّهُمْ يَرَوْنَهُ بَعِيداً وَنَرَاهُ قَرِيباً، بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ.
الْعَجَلَ الْعَجَلَ يَا مَوْلايَ يَا صاحِبَ الزَّمانِ.

Leave a Reply