تحریر: سیدہ نصرت نقوی
مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ جنگیں صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ حکمتِ عملی، انفراسٹرکچر، اور نفسیاتی دباؤ سے بھی جیتی اور ہاری جاتی ہیں۔ حالیہ واقعات نے اس خطے میں ایک نئی حقیقت کو جنم دیا ہے وہ حقیقت جس کی طرف پہلے ہی کچھ تجزیہ کار اشارہ کر چکے تھے۔
آج کے حالات میں یہ بات صاف نظر آرہی ہے کہ جب کسی ملک کی بنیادیں چند مخصوص نظاموں پر کھڑی ہوں، تو ان نظاموں کو نشانہ بنانا پورے ملک کو مفلوج کرنے کے مترادف ہوتا ہے۔ اسرائیل، جو جغرافیائی لحاظ سے ایک چھوٹا ملک ہے، اپنی معیشت، ٹرانسپورٹ، اور فوجی نقل و حرکت کے لیے محدود انفراسٹرکچر پر انحصار کرتا ہے۔
حال ہی میں سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق، تل ابیب میں ایک بڑے ریلوے اسٹیشن کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں نہ صرف ایک اہم ٹرانسپورٹ حب متاثر ہوا بلکہ پورے ملک کی ریلوے آمد و رفت بھی شدید متاثر ہوئ ہے۔ اسرائیل میں شمال سے جنوب تک بنیادی طور پر ایک ہی مرکزی ریلوے لائن ہے، جس کے اہم مراکز تل ابیب اور حیفہ جیسے شہر ہیں۔ ان مقامات پر کسی بھی قسم کی رکاوٹ پورے نظام کو مفلوج کر چکی ہے۔
یہی نہیں، ان ریلوے مراکز کے اردگرد اہم شاہراہیں اور پل بھی موجود ہیں، جو روزمرہ ٹریفک اور فوجی نقل و حرکت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اپ کے علم میں لانا چاہتی ہوں کہ اگر ان راستوں کو نقصان پہنچے تو نہ صرف شہری زندگی متاثر ہوتی ہے بلکہ ریاستی ردعمل کی صلاحیت بھی کمزور پڑ جاتی ہے۔ فوجی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو صورتحال مزید سنگین ہورہی ہے۔ اسرائیلی فوج بڑی حد تک ریزرو اہلکاروں پر انحصار کرتی ہے، جو ملک کے مختلف حصوں سے بلائے جاتے ہیں۔ ان کی بروقت آمد و رفت کا انحصار ٹرینوں اور شاہراہوں پر ہوتا ہے۔ اگر یہی نظام درہم برہم ہو جائے تو لاکھوں فوجیوں کی نقل و حرکت سست یا معطل ہو سکتی ہے، جو کسی بھی ہنگامی صورتحال میں ایک بڑا چیلنج بن جائے گی معاشی میدان میں بھی اس کے اثرات کم خطرناک نہیں۔ روزانہ لاکھوں افراد اپنے کاموں پر جانے کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ، خصوصاً ٹرین، کا سہارا لیتے ہیں۔ اگر یہ نظام رک جائے تو نہ صرف کاروبار متاثر ہوتا ہے بلکہ ملکی معیشت کو بھی شدید دھچکا لگے گا۔ ان تمام نکات کو سامنے رکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ جدید جنگ کا میدان صرف سرحدوں تک محدود نہیں رہا، بلکہ اب یہ شہروں، سڑکوں، پلوں اور ریلوے لائنوں تک پھیل چکا ہے۔ کسی بھی ملک کی اصل طاقت اس کے ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ اس کے اندرونی نظام کی مضبوطی میں پوشیدہ ہوتی ہے۔
آخرکار، یہ کہا جا سکتا ہے کہ موجودہ حالات ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ طاقت کا اصل توازن صرف عسکری قوت سے نہیں بلکہ اسٹریٹجک بصیرت، مضبوط انفراسٹرکچر، اور قومی نظم و ضبط سے قائم رہتا ہے۔ جو قومیں ان عناصر کو نظر انداز کرتی ہیں، وہ غیر متوقع حالات میں شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہیں۔ اسرائیل ایران کی فوجی اور حکومتی قیادت کو نقصان پہنچا کر اپنی فتح کا جھنڈا گاڑ رہا ہے۔ مگر اسے نہیں معلوم کہ ایران کے حملوں نے اس کے ملک کی پوری عوام کو ، معیشیت کو، اقتصادی حالت کو جھنجوڑ کہ رکھ دیا ہے۔ خدا ایران کو کامیاب و کامرانی عطا فرمائے الہی امین۔

Leave a Reply