خون آشام قوتوں کو شکست ہو گئی۔

خون آشام قوتوں کو شکست ہو گئی۔

تحریر و ترتیب:سیدہ نصرت نقوی

اس زلف پہ پھبتی شب دیجور کی سوجھی اندھے کو اندھیرے میں بڑی دور کی سوجھی

‏امریکا اسرائیل دونوں ہار گئے۔ ٹرمپ نیتن یاہو اس جنگ میں ایران کے خلاف اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہے ۔ جنگ سے قبل جو مقاصد بتائے گئے تھے ان میں یہ نکات شامل تھے۔
ایرانی حکومت کا خاتمہ ۔ نئی حکومت لانا۔ ایران کے تیل پر قبضہ کرنا۔ آبنائے ہرمز کا کنٹرول سنبھالنا
ایران کے افزودہ یورینیم کو حاصل کرنا
ایران کے میزائلوں کو تباہ کرنا۔ ایران کے فوجی اڈے تباہ کرنا۔ ایران کی جوہری تنصیبات کو ختم کرنا۔ ایران میں رضا شاہ پہلوی کی حکومت کا قیام۔ ایران سے چین روس کے کردار کو ختم کرنا۔ لیکن افسوس ، افسوس کہ ان خون آشام بھیڑیوں کو ان میں سے کوئی بھی ایک فایدہ تک حاصل نہ ہوا، الٹا امریکہ و اسرائیل کے بدنما چہروں پہ یہ داغ ہمیشہ کے لئے ثبت ہوگیا ہے۔ اور بقول کسی کے دھوبی کا کتا ، گھر کا نا گھاٹ کا ۔۔۔ جی ہاں بلکل جناب ایسا ہی ہوا ہے ڈونلڈ ٹرمپ اپنی اس کم عقلی کی بنا پہ بہت بڑے نقصان سے دوچار ہوا ہے۔ ٹرمپ مخالف امریکی تجزیہ کاروں کے تبصرے کے مطابق ٹرمپ نے ڈیڈ لائن بڑھانے کا فیصلہ پہلے سے ہی کر رکھا تھا لیکن اس نے پاکستانی وزیراعظم کو اپنا وقار بچانے کے لئے استعمال کیا ہے۔ کیونکہ ٹرمپ اس سے پہلے بھی کئی بار اپنی ڈیڈ لائنز سے پیچھے ہٹا ہے۔ ٹرمپ نے ایران پر حملہ کیوں نہیں کیا اور ایران کی خواہشات کے مطابق مذاکرات پر آمادہ کیوں ہوا، اس کی وجوہات کچھ یوں ہیں۔ ایرانی عوام امریکی حملوں سے تمام شہری تنصیبات کے تحفظ میں شامل ہیں۔ ٹرمپ کو کونسل کے ذریعے پانچویں ترمیم کے تحت عہدے سے ہٹایا جا سکتا ہے اور اس بابت میں اپنے قارئین کو آگاہ کرنا چاہو گی کہ درج ذیل کانگریس اراکین اب آئین کی 25ویں ترمیم کے تحت صدر ٹرمپ کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کر رہے ہیں:
رکن کانگریس Alexandria Ocasio-Cortez (ڈیموکریٹ)
رکن کانگریس Diana DeGette (ڈیموکریٹ)
رکن کانگریس Sydney Kamlager-Dove (ڈیموکریٹ)
رکن کانگریس Mark Pocan (ڈیموکریٹ)
رکن کانگریس Summer Lee (ڈیموکریٹ)
رکن کانگریس Delia Ramirez (ڈیموکریٹ)
رکن کانگریس Sarah McBride (ڈیموکریٹ)
رکن کانگریس Yassamin Ansari (ڈیموکریٹ)
رکن کانگریس Ilhan Omar (ڈیموکریٹ)
سابق رکن کانگریس Marjorie Taylor Greene (ریپبلکن)
رکن کانگریس Rashida Tlaib (ڈیموکریٹ)
رکن کانگریس Seth Moulton (ڈیموکریٹ)
رکن کانگریس Melanie Stansbury (ڈیموکریٹ)
رکن کانگریس Ro Khanna (ڈیموکریٹ)
رکن کانگریس Maxwell Frost (ڈیموکریٹ)
رکن کانگریس Ayanna Pressley (ڈیموکریٹ)
رکن کانگریس Johnny Olszewski (ڈیموکریٹ)
رکن کانگریس Julie Johnson (ڈیموکریٹ)
رکن کانگریس Sara Jacobs (ڈیموکریٹ)
رکن کانگریس Bonnie Watson Coleman (ڈیموکریٹ)
رکن کانگریس Lateefah Simon (ڈیموکریٹ)
رکن کانگریس Robert Garcia (ڈیموکریٹ)
رکن کانگریس Chellie Pingree (ڈیموکریٹ)
سینیٹر Ed Markey (ڈیموکریٹ)
رکن کانگریس Shri Thanedar (ڈیموکریٹ)
رکن کانگریس Rob Menendez (ڈیموکریٹ)
رکن کانگریس April Delaney (ڈیموکریٹ)
رکن کانگریس Nikema Williams (ڈیموکریٹ)
رکن کانگریس Steve Cohen (ڈیموکریٹ)
رکن کانگریس Joaquin Castro (ڈیموکریٹ)
رکن کانگریس Betty McCollum (ڈیموکریٹ)
رکن کانگریس Seth Magaziner (ڈیموکریٹ)
رکن کانگریس Eric Swalwell (ڈیموکریٹ)
سینیٹر Bernie Sanders (ڈیموکریٹ)
رکن کانگریس Jill Tokuda (ڈیموکریٹ)
رکن کانگریس Doris Matsui (ڈیموکریٹ)
رکن کانگریس Adriano Espaillat (ڈیموکریٹ)
رکن کانگریس Dan Goldman (ڈیموکریٹ)
رکن کانگریس Pramila Jayapal (ڈیموکریٹ)
رکن کانگریس Lori Trahan (ڈیموکریٹ)
رکن کانگریس Jimmy Gomez (ڈیموکریٹ)
رکن کانگریس Mark DeSaulnier (ڈیموکریٹ)
رکن کانگریس Valerie Foushee (ڈیموکریٹ)
رکن کانگریس Val Hoyle (ڈیموکریٹ)
رکن کانگریس Zoe Lofgren (ڈیموکریٹ)
رکن کانگریس Morgan McGarvey (ڈیموکریٹ)
رکن کانگریس Jahana Hayes (ڈیموکریٹ)
رکن کانگریس jan Schakowsky (ڈیموکریٹ)
رکن کانگریس Christian Menefee (ڈیموکریٹ)
رکن کانگریس Scott Peters (ڈیموکریٹ)
رکن کانگریس Hank Johnson (ڈیموکریٹ)
یہ تمام ارکان امریکی آئین کی 25ویں ترمیم کے تحت صدر کو عہدے سے ہٹانے کی حمایت کر رہے ہیں۔
ٹرمپ ذہنی توازن کھو چکا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے سخت بیان دیا، جس کے بعد ڈیموکریٹ اراکین کانگریس میں انہیں عہدے سے ہٹانے (impeachment یا 25ویں ترمیم) کی آوازیں بلند ہو گئیں۔
اصل واقعہ کیا تھا؟
ٹرمپ نے 7 اپریل 2026 کو Truth Social پر ایک پوسٹ میں لکھا:
یعنی “آج رات ایک پوری تہذیب مر جائے گی، جو دوبارہ کبھی واپس نہیں لائی جا سکے گی۔ میں نہیں چاہتا کہ ایسا ہو، لیکن شاید ایسا ہی ہوگا۔”
یہ بیان اسٹریٹ آف ہرمز (Strait of Hormuz) کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایران کو دیے گئے ڈیڈ لائن (8 pm ET) سے متعلق تھا۔ ٹرمپ ایران پر ممکنہ بڑے پیمانے پر حملوں (بجلی گھروں، پلوں اور انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے) کی دھمکی دے رہے تھے اگر ایران نے ڈیل نہ کی۔ اس سے پہلے 6 اپریل کو وائٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس میں بھی ٹرمپ نے ایران کے خلاف سخت موقف اپنایا تھا۔ ڈیموکریٹس کا یہ ردعمل سامنے آرہا ہے کہ کئی ڈیموکریٹ اراکین (جیسے Rep. Ilhan Omar، Alexandria Ocasio-Cortez، Rashida Tlaib وغیرہ) نے اس بیان کو “war crimes” اور “genocide”کی دھمکی قرار دیا۔ انہوں نے 25ویں ترمیم (جو صدر کو “unfit” قرار دے کر ہٹانے کا طریقہ ہے) یا impeachment کے ذریعے ٹرمپ کو ہٹانے کا مطالبہ کیا۔ کچھ نے کہا کہ ٹرمپ کے “mental faculties” قابل اعتماد نہیں رہے۔
یہ دوسری مدت کے آغاز میں نسبتاً نئی بات تھی، کیونکہ پہلے ایسے مطالبات پر سخت پابندی کا ماحول تھا۔
ٹرمپ کی اس بچکانہ دھمکی کے چند گھنٹوں بعد ہی ایران کے ساتھ 2 ہفتوں کا ceasefire (جنگ بندی) کا اعلان ہو گیا، جس میں اسٹریٹ آف ہرمز دوبارہ کھولنے پر اتفاق ہوا۔ ٹرمپ نے بعد میں نرم لہجہ اپناتے ہوئے ایران کی تعمیر نو میں مدد کی بات بھی کی۔ تاہم، بیان کی شدت کی وجہ سے سیاسی تناؤ اب بھی موجود ہے۔ ٹرمپ کا موقف یہ “maximum pressure” کی پالیسی کا حصہ لگتا ہے تاکہ ایران جلدی ڈیل کرے اور تیل کی سپلائی متاثر نہ ہو۔
تنقیدی مخالفین اسے over-the-top اور خطرناک قرار دے رہے ہیں، جو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہو سکتی ہے۔
حقیقت میں ابھی تک کوئی بڑا حملہ نہیں ہوا، اور ceasefire ہو گیا ہے، لیکن سیاسی طور پر یہ بیان کافی تنازع کا باعث بنا۔
بہرحال ایران نے چند شرائط رکھی ہیں جن پہ مذاکرات 10 اپریل کو اسلام آباد پاکستان میں شروع ہونے جارہے ہیں۔ جن کی مختصرا تفصیلات یہ ہیں۔
‏امریکا نے ایران کی 10 شرائط پر گفتگو میں آمادگی ظاہر کی ہے اور وہ دس شرائط درج ذیل ہیں۔
1۔ دوبارہ حملہ جنگ نہ کرنے کا وعدہ
2۔ آبنائے ہرمز پر ایران کے کنٹرول کو برقرار رکھنا
3۔ یورینیم افزودگی کو تسلیم کرنا
4۔ تمام بنیادی پابندیوں کا خاتمہ
5۔ تمام ثانوی پابندیوں کا خاتمہ
6۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی تمام قراردادوں کا خاتمہ
7۔ بورڈ آف گورنرز کی تمام قراردادوں کا خاتمہ
8۔ ایران کو معاوضے کی ادائیگی
9۔ خطے سے امریکی جنگی افواج کا انخلا
10۔ تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ، بشمول لبنان میں فوری جنگ بندی
امریکہ کے اندر خود خانہ جنگی شروع ہوچکی ہے جس کنوئیں کو اس نے ایران کے لئے کھودا تھا وہ خود اس میں گر گیا ہے۔‏ بیلسٹک میزائل پروگرام برقرار ہے
افزودہ یورینیم اب بھی موجود ہے
اسلامی جمہوریہ اقتدار میں برقرار ہے
خامنہ ای کی جگہ “خامنہ ای 2.0” آ گیا
ایران نے اپنی عسکری پاور شو کرنے کے حوالے آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول ثابت کر دیا ۔ اور دنیا کی سپر پاور کو جنگ بندی پر بھی مجبور کر دیا ۔ یہ سارا کمال ایران کئ تاریخ ساز مزاحمت کا ہے ۔اپنے جغرافیہ میزائل و ڈرون ٹیکنالوجی کے زبردست استعمال سے ایران نے بدمست ہاتھی کو مجبور کر دیا ہے
اگلے دو ہفتے اہم ہیں یہ لوگ قابل اعتبار نہیں اس لئے ایرانی چوکنا رہیں گے ان کی عسکری movements پر نظر رکھیں گے روس اور چین کی شمولیت کے بغیر یہ عارضی جنگ بندی مستقل جنگ بندی میں تبدیل ہو پاتی ہے یا نہیں یہ وقت بتائے گا۔
امریکہ کے اندرونی حالات غیر مستحکم ہیں اور ملک بھر میں فسادات ہو رہے ہیں
ایران کے خفیہ فضائی دفاعی نظام اب سامنے آ رہے ہیں جس کی وجہ سے فضائی حملوں کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ دیگر ممالک کی جانب سے جنگ روکنے اور پسپائی اختیار کرنے کا دباؤ۔ اگر جنگ نہ روکی گئی تو ٹرمپ پر انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات لگ سکتے ہیں اور صدارت کے بعد انہیں قید کا سامنا ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکہ نے ابتدائی حملہ کونسل کی منظوری کے بغیر کیا تھا۔ امریکی پائلٹس کی نافرمانیاں اور امریکی فوجیوں کی جانب سے سازوسامان کی تخریب کاری، جو اسرائیل کے لیے جنگ نہیں چاہتے۔
بہرحال اس بہترین حکایت پہ اپنے کالم کا اختتام کرنا چاہو گی
شہید سیـــد حســن نصــراللہ کا بے حد خوبصورت اور یادگار جملہ ہے۔
“اگر ہم ختم ہونے والوں میں سے ہوتے,تو کربلا میں ہی ختم ہو چکے ہوتے”
ایران کو نصرت مبارک

Leave a Reply

Your email address will not be published.