
نوائے نصرت
اسٹاف رپورٹ | اسلام آباد
یمنی کارروائیوں سے باب المندب کا دباؤ مزید بڑھ گیا، سعودی تیل برآمدات شدید متاثر ہونے کا دعویٰ
یمن سے متعلق سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق بحیرۂ احمر اور باب المندب کے اطراف کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ برطانوی بحری نگرانی کی کمپنی Windward کی ایک رپورٹ کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ گزشتہ چار روز کے دوران یمنی حملوں اور دھمکیوں کا دائرہ سعودی عرب کی علاقائی سمندری حدود تک پہنچ گیا ہے، جس کے باعث سعودی بحری نقل و حمل کو مزید مشکلات کا سامنا ہے۔
رپورٹس کے مطابق، اس صورتحال نے ان متبادل بحری راستوں کو بھی متاثر کیا ہے جن کے ذریعے سعودی تیل بردار جہاز افریقا کے گرد طویل راستہ اختیار کرکے اپنی منزل تک پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے۔
اسی دوران Kpler کے اعداد و شمار کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے باعث سعودی عرب کی یومیہ تیل برآمدات، جو پہلے تقریباً 80 لاکھ بیرل تھیں اور بعد ازاں 40 لاکھ بیرل تک گر گئی تھیں، اب کم ہو کر 10 لاکھ بیرل یومیہ سے بھی نیچے آ گئی ہیں۔
یہ پیش رفت بدھ کے روز یمن کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر وفا پر ینبع بندرگاہ کے قریب حملے کے بعد سامنے آئی۔ اطلاعات کے مطابق مذکورہ جہاز تقریباً 20 لاکھ بیرل سعودی خام تیل لے کر طویل بحری راستے سے نہرِ سویز کے ذریعے ایشیائی منڈیوں کی جانب روانہ ہونے والا تھا۔
واضح رہے کہ مذکورہ دعوے مختلف میڈیا رپورٹس پر مبنی ہیں، جبکہ اس حوالے سے سعودی حکام یا آزاد بین الاقوامی ذرائع کی جانب سے تمام تفصیلات کی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
#Yemen #BabElMandeb #SaudiArabia #RedSea #OilExports #MiddleEast #MaritimeSecurity #GlobalTrade #Geopolitics #NawaENusrat
Leave a Reply