
واشنگٹن: امریکہ میں ایران کے خلاف کسی بھی نئی فوجی کارروائی کو محدود کرنے کی کوشش کے تحت 11 ڈیموکریٹ سینیٹرز نے امریکی کانگریس میں ایک مشترکہ قرارداد (S.J. Resolution) پیش کر دی ہے، جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ کانگریس کی باقاعدہ منظوری کے بغیر ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی میں شامل امریکی مسلح افواج کو واپس بلایا جائے۔
دستاویز کے مطابق، یہ قرارداد امریکی آئین کے آرٹیکل اول، سیکشن 8، شق 11 کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کرتی ہے کہ جنگ کا اعلان کرنے کا واحد آئینی اختیار کانگریس کے پاس ہے، نہ کہ صدر کے پاس۔ اسی بنیاد پر قرارداد میں کہا گیا ہے کہ اگر ایران کے خلاف کوئی فوجی کارروائی کانگریس سے منظور شدہ نہیں ہے تو اس میں امریکی افواج کی شرکت ختم کی جائے۔
یہ قرارداد سینیٹر جان ہیکنلوپر نے پیش کی، جبکہ اس پر ٹم کین، ایڈم شف، مارک کیلی، کرس مرفی، کرس وان ہولن، ٹیمی بالڈون، جیف مرکلے، اینڈی کم، ٹیمی ڈک ورتھ اور کرس کونز سمیت دیگر ڈیموکریٹ سینیٹرز بھی شریکِ دستخط ہیں۔
اس موقع پر سینیٹر جان ہیکنلوپر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (X) پر اپنے بیان میں کہا:
“امریکی شہری اپنی جانیں گنوا چکے ہیں، پٹرول اور کھاد کی قیمتیں شدید بڑھ چکی ہیں، جبکہ ہماری فوج کے اسلحہ کے ذخائر بھی تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔ اس جنگ کو ختم کریں، ابھی۔”
سیاسی مبصرین کے مطابق، یہ قرارداد اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ امریکہ کے اندر ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی پر شدید اختلافِ رائے موجود ہے، اور کانگریس کے متعدد ارکان مزید عسکری کشیدگی کے بجائے آئینی طریقۂ کار اور سفارتی حل پر زور دے رہے ہیں۔
نوٹ: یہ قرارداد پیش کیے جانے کے مرحلے میں ہے۔ اس کے قانون بننے کے لیے اسے کانگریس کے دونوں ایوانوں سے منظوری اور بعد ازاں صدر کے دستخط درکار ہوں گے۔
Iran #USA #USSenate #Congress #IranUS #MiddleEast #BreakingNews #WorldNews #Geopolitics #USPolitics #IranNews #StopTheWar #NoWar #Peace #Diplomacy #JohnHickenlooper #SenateResolution #GlobalNews #InternationalNews #NawaeNusrat #SyedaNusratNaqvi #SNN #NewsUpdate #Politics #CurrentAffairs
Leave a Reply