
غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج کے زیرِ کنٹرول علاقوں کی حد بندی کے لیے نصب “ییلو لائن” (Yellow Line) کے پیلے رنگ کے کنکریٹ مارکرز کو مزید اندر تک منتقل کیا جا رہا ہے، جس کے باعث شہریوں کے لیے محفوظ اور رہائشی علاقے مسلسل سکڑتے جا رہے ہیں۔ اس پیش رفت کے نتیجے میں وہ فلسطینی خاندان، جو پہلے ہی جنگ کے باعث بے گھر ہو چکے تھے، ایک بار پھر بڑے پیمانے پر نقل مکانی پر مجبور ہیں۔
غزہ شہر کے زیتون محلے میں عاصم دولہ اور ان کے اہلِ خانہ نے اپنی بچی کھچی ضروری اشیاء ایک گاڑی پر لاد کر علاقہ چھوڑ دیا، کیونکہ فوجی نشانات ان کے عارضی ٹھکانے کے قریب پہنچ چکے تھے۔
عاصم دولہ کے مطابق، جنگ شروع ہونے کے بعد یہ ساتویں یا آٹھویں مرتبہ ہے کہ ان کے خاندان کو اپنا گھر یا عارضی پناہ گاہ چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلسل فوجی کارروائیوں اور اسرائیلی انخلا کے انتباہات نے وہاں رہنا انتہائی خطرناک بنا دیا ہے۔
مقامی رہائشیوں اور حماس حکام کے مطابق، حالیہ دنوں میں زیتون، التفاح، الشجاعیہ، دیر البلح، خان یونس اور شمالی رفح سمیت کئی علاقوں میں “ییلو لائن” کو مزید آگے بڑھایا گیا ہے۔
متعدد رہائشیوں نے بتایا کہ انہیں اپنے گھروں اور عارضی پناہ گاہوں سے نکلنے سے قبل موبائل فون پر پیغامات یا ڈرونز پر نصب لاؤڈ اسپیکرز کے ذریعے انخلا کی ہدایات موصول ہوئیں، جس کے بعد وہ صرف ضروری سامان ساتھ لے کر روانہ ہوئے۔
یہ “ییلو لائن” گزشتہ سال اکتوبر میں امریکہ کی ثالثی میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کے تحت قائم کی گئی تھی۔ اس وسیع تر منصوبے میں انسانی امداد میں اضافہ، اسرائیلی افواج کا انخلا، بین الاقوامی امن فورس کی تعیناتی، فلسطینی سول انتظامیہ کا قیام اور حماس کو غیر مسلح کرنے جیسے اقدامات شامل تھے، تاہم ان نکات پر پیش رفت تعطل کا شکار ہے۔
اس وقت تقریباً 20 لاکھ فلسطینی غزہ کے ایک نہایت محدود ساحلی علاقے میں رہنے پر مجبور ہیں، جہاں زیادہ تر افراد تباہ شدہ عمارتوں یا عارضی خیموں میں شدید انسانی بحران کے درمیان زندگی گزار رہے ہیں۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس کی تعیناتی کا مقصد حملوں کو روکنا ہے اور “ییلو لائن” کو واضح طور پر نشان زد کیا گیا ہے تاکہ شہریوں اور فوجیوں کے درمیان براہِ راست رابطہ کم سے کم ہو۔ فوج کے مطابق علاقے میں حفاظتی رکاوٹیں، انٹیلی جنس نگرانی اور دیگر سیکیورٹی اقدامات بھی نافذ ہیں۔
دوسری جانب مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ ان فوجی نشانات کی مسلسل پیش قدمی انہیں بار بار اپنی عارضی رہائش گاہیں چھوڑنے پر مجبور کر رہی ہے، حتیٰ کہ کئی خاندان چند دن یا چند ہفتے قبل ہی نئے سرے سے اپنے خیمے یا عارضی ٹھکانے قائم کر پاتے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے رابطہ انسانی امور (OCHA) کے مطابق جولائی میں زیتون کے علاقے میں جاری کیے گئے انخلا کے حکم کے باعث 30 خاندانوں کو اپنے خیمے چھوڑنے پڑے، جنہیں بعد ازاں رہائشیوں کے مطابق تباہ کر دیا گیا۔
آج بھی بے شمار فلسطینی خاندان کمبل، کھانا پکانے کے برتن، بچوں کے اسکول بیگ اور اپنی باقی ماندہ قیمتی اشیاء اٹھائے ملبے سے اٹی سڑکوں پر ایک نئے سفر پر نکلنے پر مجبور ہیں، جبکہ انہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ انہیں اگلی پناہ گاہ کہاں اور کب میسر آئے گی۔
Leave a Reply