امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی جانب جانے والے تین تجارتی جہازوں کا رخ تبدیل کیا گیا، جبکہ ایک جہاز کو امریکی ہدایات پر عمل نہ کرنے پر “غیر فعال” کر دیا گیا۔
نوائے نصرت | بین الاقوامی نیوز ڈیسک
امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی جانب روانہ ہونے والے تین تجارتی جہازوں کا راستہ تبدیل کر دیا گیا ہے۔ سینٹکام کے مطابق یہ اقدام خطے میں جاری سیکیورٹی صورتحال کے تناظر میں کیا گیا۔
سینٹکام کے بیان میں مزید دعویٰ کیا گیا کہ ان تین جہازوں میں سے ایک نے امریکی افواج کی جانب سے جاری کی گئی ہدایات پر عمل نہیں کیا، جس کے بعد اسے “غیر فعال (Disabled)” کر دیا گیا تاکہ وہ اپنی سابقہ سمت میں سفر جاری نہ رکھ سکے۔
امریکی فوج نے اس دعوے کے ساتھ یہ واضح نہیں کیا کہ جہاز کو کس طریقۂ کار سے غیر فعال کیا گیا، آیا اسے عسکری کارروائی کے ذریعے روکا گیا یا کسی اور تکنیکی اقدام کے تحت اس کی نقل و حرکت محدود کی گئی۔ اسی طرح جہاز کے عملے، ممکنہ نقصان یا اس کی موجودہ حالت سے متعلق بھی مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
یہ دعویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خلیج فارس، آبنائے ہرمز اور بحیرۂ عمان میں بحری سلامتی سے متعلق خدشات میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ عالمی بحری تجارت کے لیے یہ سمندری راستے انتہائی اہم سمجھے جاتے ہیں، جہاں سے روزانہ لاکھوں بیرل خام تیل اور بڑی مقدار میں تجارتی سامان دنیا کے مختلف ممالک تک پہنچایا جاتا ہے۔
بحری سلامتی کے ماہرین کے مطابق اگر تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت پر پابندیاں یا عسکری مداخلت میں اضافہ ہوتا ہے تو اس کے اثرات عالمی تجارت، توانائی کی منڈی، شپنگ انڈسٹری اور بین الاقوامی سپلائی چین پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ یہ خبر سینٹکام کے سرکاری دعوے پر مبنی ہے۔ اس خبر کی اشاعت کے وقت ایران یا متعلقہ شپنگ کمپنیوں کی جانب سے ان دعوؤں کی باضابطہ تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی، جبکہ آزاد ذرائع سے بھی اس واقعے کی مکمل توثیق نہیں ہو سکی۔
بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ موجودہ کشیدہ حالات میں اس نوعیت کی معلومات کو تمام متعلقہ فریقین کے سرکاری بیانات اور آزاد ذرائع سے تصدیق کے ساتھ دیکھنا ضروری ہے۔

Leave a Reply