الجزیرہ کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان حملوں میں شدت کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ برینٹ اور WTI دونوں فیوچر معاہدوں کی قیمتیں اوپر چلی گئیں۔
نوائے نصرت | بین الاقوامی نیوز ڈیسک
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان جاری عسکری کشیدگی میں اضافے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ توانائی کی عالمی منڈی نے خطے میں بڑھتے ہوئے سیکیورٹی خدشات پر فوری ردعمل ظاہر کیا، جس کے نتیجے میں برینٹ اور امریکی خام تیل (WTI) دونوں کی قیمتیں بلند ہو گئیں۔
رپورٹ کے مطابق برینٹ خام تیل (Brent Crude) کے فیوچر معاہدوں کی قیمت 1.05 ڈالر (تقریباً 1.25 فیصد) اضافے کے بعد 85.28 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل کے فیوچر معاہدوں کی قیمت بھی 1.03 ڈالر (تقریباً 1.3 فیصد) بڑھ کر 79.98 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کی گئی۔
ماہرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور توانائی کی ترسیل سے متعلق خدشات عالمی سرمایہ کاروں کو تشویش میں مبتلا کر رہے ہیں۔ خصوصاً آبنائے ہرمز اور دیگر اہم بحری گزرگاہوں میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشے نے تیل کی عالمی منڈی کو متاثر کیا ہے۔
اقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی مزید بڑھتی ہے یا خام تیل کی سپلائی متاثر ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں قیمتوں میں مزید اضافہ دیکھنے کو مل سکتا ہے، جس کے اثرات ایندھن، ٹرانسپورٹ، صنعت اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ دنیا کے اہم ترین تیل پیدا کرنے والے خطوں میں شامل ہے، اس لیے ایران اور امریکہ کے درمیان کسی بھی قسم کی عسکری پیش رفت پر عالمی مالیاتی اور توانائی کی منڈیاں فوری ردعمل ظاہر کرتی ہیں۔
واضح رہے کہ تیل کی قیمتوں سے متعلق یہ معلومات الجزیرہ کی رپورٹ اور عالمی فیوچر مارکیٹ کے اعداد و شمار پر مبنی ہیں۔ قیمتوں میں آئندہ تبدیلیاں عالمی حالات، سپلائی اور طلب، سفارتی پیش رفت اور مالیاتی منڈیوں کی صورتحال کے مطابق تبدیل ہو سکتی ہیں۔

Leave a Reply