نوائے نصرت | بین الاقوامی نیوز ڈیسک
ایران کی ٹریفک پولیس (فراجا) کے سربراہ نے واضح کیا ہے کہ خواتین کے لیے موٹرسائیکل ڈرائیونگ لائسنس کے اجرا کا عمل تاحال باضابطہ طور پر شروع نہیں ہوا، جبکہ اس حوالے سے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی مختلف اطلاعات اور تصاویر کو قبل از وقت قرار دیا گیا ہے۔
فراجا کے سربراہ کے مطابق خواتین کے لیے موٹرسائیکل ڈرائیونگ لائسنس کا موضوع کوئی نیا معاملہ نہیں بلکہ گزشتہ کئی برسوں سے حکومت، پارلیمنٹ، ٹریفک پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں کے درمیان اس پر مختلف سطحوں پر مشاورت، قانونی جائزے اور تکنیکی مباحث جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر مختلف تجاویز زیر غور ضرور ہیں، تاہم ابھی تک ایسا کوئی سرکاری فیصلہ یا باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا جس کے تحت خواتین کے لیے موٹرسائیکل ڈرائیونگ لائسنس جاری کیے جا رہے ہوں۔
فراجا کے سربراہ نے مزید کہا کہ خواتین کے پہلے موٹرسائیکل لائسنس کی طباعت یا اس حوالے سے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصاویر اور دعوے، متعلقہ قانونی اداروں کے سرکاری اعلان سے قبل قابلِ اعتماد نہیں سمجھے جا سکتے۔
ان کے مطابق غیر مصدقہ معلومات اور تصاویر کی تشہیر عوام میں غلط فہمیاں، غیر ضروری توقعات اور قانونی ابہام پیدا کر سکتی ہے، اس لیے شہریوں کو چاہیے کہ وہ صرف سرکاری ذرائع سے جاری ہونے والی معلومات پر اعتماد کریں۔
ایران میں خواتین کے لیے موٹرسائیکل چلانے سے متعلق قوانین اور ضوابط پر گزشتہ کئی برسوں سے مختلف سطحوں پر بحث جاری ہے، جبکہ بعض عدالتی اور انتظامی معاملات بھی اس موضوع سے متعلق سامنے آتے رہے ہیں۔ تاہم اس حوالے سے کسی بھی نئی پالیسی یا قانون کے نفاذ کے لیے متعلقہ سرکاری اداروں کی باضابطہ منظوری ضروری ہوتی ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق اگر مستقبل میں اس حوالے سے کوئی فیصلہ کیا جاتا ہے تو اس کا باضابطہ اعلان متعلقہ حکومتی اور ٹریفک پولیس کے اداروں کی جانب سے کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ موجودہ صورتحال کے مطابق ایران میں خواتین کے لیے موٹرسائیکل ڈرائیونگ لائسنس کے اجرا کا کوئی سرکاری عمل شروع نہیں ہوا، اور اس حوالے سے گردش کرنے والی خبریں یا تصاویر سرکاری تصدیق سے قبل حتمی نہیں سمجھی جا سکتیں۔
نوائے نصرت ایران، قانون، ٹریفک قوانین، سماجی امور اور بین الاقوامی خبروں سے متعلق اہم پیش رفت اپنے قارئین تک بروقت اور ذمہ داری کے ساتھ پہنچاتا رہے گا۔

Leave a Reply