ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ دھمکیوں پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایران جارحیت، قانون شکنی اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کے خلاف اپنے دوٹوک مؤقف پر قائم ہے۔
📰 نوائے نصرت | بین الاقوامی نیوز ڈیسک
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ دھمکیوں پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران جارحیت، بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی اور طاقت کے غیر قانونی استعمال کے خلاف اپنے اصولی اور دوٹوک مؤقف پر قائم ہے۔
اسماعیل بقائی نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکی حکمران ایسے اقدامات کو معمول کا حصہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں جنہیں ایران جنگی جرائم اور بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی قرار دیتا ہے۔ ان کے مطابق عالمی برادری کو ایسے اقدامات پر خاموش تماشائی بننے کے بجائے بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کا دفاع کرنا چاہیے۔
بقائی نے زور دے کر کہا کہ ایران اپنی خودمختاری، قومی سلامتی اور بین الاقوامی قوانین کے احترام کے حوالے سے کسی بھی قسم کی جارحیت یا دباؤ کو قبول نہیں کرے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران ہمیشہ سفارت کاری، مذاکرات اور قانونی اصولوں کی حمایت کرتا ہے، تاہم قومی مفادات اور خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
ترجمان وزارتِ خارجہ کے مطابق، حالیہ بیانات اور دھمکی آمیز لہجہ خطے میں کشیدگی بڑھانے کا باعث بن سکتا ہے، جبکہ اس کے برعکس تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے، سفارتی رابطوں کو فروغ دینے اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کو ترجیح دینی چاہیے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ بیانات، سفارتی رابطوں اور خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال کے باعث عالمی توجہ ایک مرتبہ پھر مشرقِ وسطیٰ پر مرکوز ہو گئی ہے۔ اس تناظر میں دونوں ممالک کے سرکاری بیانات اور سفارتی سرگرمیاں عالمی سیاست پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔
واضح رہے کہ یہ خبر ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے سرکاری بیان پر مبنی ہے۔ اس بیان میں پیش کیے گئے مؤقف کو ایران کی سرکاری پوزیشن کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔
نوائے نصرت ایران، امریکہ، مشرقِ وسطیٰ، عالمی سفارت کاری اور بین الاقوامی امور سے متعلق مستند، متوازن اور بروقت خبریں اپنے قارئین تک پہنچاتا رہے گا۔

Leave a Reply