ماہرِ معاشیات کا انتباہ: آبنائے ہرمز اور باب المندب کی بندش عالمی معیشت کے لیے سنگین خطرہ

ماہرِ معاشیات کا انتباہ: آبنائے ہرمز اور باب المندب کی بندش عالمی معیشت کے لیے سنگین خطرہ

ماہرِ معاشیات کامل وزنة کے مطابق اگر آبنائے ہرمز اور باب المندب میں بحری آمد و رفت متاثر ہوئی تو عالمی معیشت، توانائی کی منڈی، تجارت اور مہنگائی پر شدید منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

📰 نوائے نصرت | عالمی معیشت ڈیسک

بین الاقوامی معیشت کے ماہر اور سیاسیاتِ معیشت کے پروفیسر کامل وزنة نے خبردار کیا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز اور باب المندب جیسے اہم بحری راستوں میں رکاوٹ پیدا ہوئی یا یہ بند ہوئے تو اس کے نتائج پوری دنیا کی معیشت کے لیے انتہائی سنگین ثابت ہو سکتے ہیں۔

عربی 21 کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کامل وزنة نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور جنگ کے تسلسل نے عالمی معیشت کے لیے حقیقی خطرات پیدا کر دیے ہیں۔ ان کے مطابق اگر صورتحال مزید خراب ہوتی ہے تو صرف خطے کے ممالک ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے عوام، مالیاتی منڈیاں، عالمی تجارت اور توانائی کا شعبہ بھی شدید متاثر ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ عالمی منڈیاں موجودہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی حد عبور کر چکی ہے، جبکہ خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کی صورت میں قیمتوں میں مزید اضافہ بھی ممکن ہے۔

پروفیسر کامل وزنة کے مطابق آبنائے ہرمز اور باب المندب عالمی توانائی کی سپلائی کے لیے نہایت اہم بحری راستے ہیں۔ دنیا کے ایک بڑے حصے کو خام تیل، قدرتی گیس اور دیگر تجارتی اشیاء انہی راستوں سے فراہم کی جاتی ہیں۔ اگر ان گزرگاہوں میں نقل و حرکت متاثر ہوتی ہے تو عالمی سپلائی چین، بحری تجارت اور توانائی کی ترسیل میں نمایاں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایسی صورتحال کے نتیجے میں دنیا بھر میں مہنگائی کی نئی لہر آ سکتی ہے، کیونکہ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ براہِ راست اشیائے خورونوش، ٹرانسپورٹ، صنعت، بجلی اور دیگر بنیادی ضروریات کی لاگت پر اثر انداز ہوتا ہے۔

ماہرین کے مطابق موجودہ حالات میں عالمی معیشت پہلے ہی مختلف چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے، اور اگر مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مزید شدت اختیار کرتی ہے تو عالمی مالیاتی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال بڑھ سکتی ہے، سرمایہ کاری متاثر ہو سکتی ہے اور معاشی ترقی کی رفتار بھی سست پڑ سکتی ہے۔

واضح رہے کہ یہ تجزیہ پروفیسر کامل وزنة کی رائے پر مبنی ہے۔ مستقبل کی معاشی صورتحال کا انحصار خطے میں پیش آنے والی آئندہ پیش رفت، سفارتی کوششوں اور عالمی منڈیوں کے ردِعمل پر ہوگا۔

نوائے نصرت عالمی معیشت، توانائی، تیل کی منڈی، مشرقِ وسطیٰ اور بین الاقوامی امور سے متعلق مستند، متوازن اور بروقت خبریں اپنے قارئین تک پہنچاتا رہے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.