israel_ki_karwaiya

جنوبی شام میں اسرائیلی کارروائیوں میں شدت، درعا اور قنیطرہ میں نئی دراندازیاں، گوتریس کے دورے کے ساتھ مقامی آبادی کو انتباہ

جنوبی شام میں اسرائیلی فوج نے اپنی عسکری کارروائیوں میں مزید شدت لاتے ہوئے صوبہ درعا اور قنیطرہ کے دیہی علاقوں میں نئی دراندازیاں کی ہیں۔ ان کارروائیوں کے دوران توپ خانے کی گولہ باری، جاسوس ڈرونز کی پروازیں اور مقامی آبادی کو براہِ راست انتباہی پیغامات بھی جاری کیے گئے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس شام کے دورے پر موجود ہیں۔

مقامی ذرائع کے مطابق اسرائیلی فوجی گشت نے مغربی درعا کے دیہات معاریہ اور العدہ میں داخل ہو کر ان پتھریلی رکاوٹوں کو ہٹا دیا جو مقامی باشندوں نے اسرائیلی فوجی گاڑیوں کی نقل و حرکت روکنے کے لیے قائم کی تھیں۔

ذرائع کے مطابق اسرائیلی فوج نے گاؤں العدہ کے اندر ایک عارضی فوجی چوکی بھی قائم کی، جسے مقامی افراد نے شامی سرزمین کے اندر اسرائیلی فوجی سرگرمیوں میں ایک نئی اور تشویشناک پیش رفت قرار دیا ہے۔

اس دوران اسرائیلی افواج نے علاقے میں پمفلٹ بھی تقسیم کیے جن میں مقامی شہریوں کو سڑکیں بند کرنے یا فوجی گشت میں رکاوٹ ڈالنے سے باز رہنے کی ہدایت کی گئی۔ ان انتباہات میں ایسے اقدامات کو اسرائیلی افواج کے خلاف “بدامنی کی کارروائیاں” قرار دیتے ہوئے خبردار کیا گیا کہ نقل و حرکت میں رکاوٹ ڈالنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

دوسری جانب صوبہ قنیطرہ میں بھی اسرائیلی فوج نے سعیدہ گولان گاؤں کے مغربی علاقے میں پیش قدمی کی، جبکہ علاقے کی فضاؤں میں اسرائیلی جاسوس ڈرونز کی مسلسل پروازیں جاری رہیں، جس سے مقامی آبادی میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔

تاحال ان تازہ فوجی کارروائیوں پر شامی حکام یا اقوامِ متحدہ کی جانب سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.